مغرب اور اسلام: مغرب کا تصوّرِ فردیت اور مسلم معاشرے (شمارہ نمبر 50)
مدیر: ڈاکٹر انیس احمد
جلد: 25 شمارہ: 50 زبان: اردو صفحات: 110 قیمت: 800 روپے [پاکستانی] پبلشر: آئی پی ایس پریس |
![]() |
تعارف
مغرب اور اسلام کے پیش کردہ نقطہ ہاے نظر میں کئی حوالوں سے بنیادی تضادات موجود ہیں۔ دونوں تہذیبوں کے درمیان مسابقت اور کشمکش مسلسل جاری ہے۔ کئی دہائیوں تک اسلام نے مغربی فکر پر اپنا اثر ڈالا اور یورپ کے تاریک ادوار کو صنعت و ترقی سے روشناس کیا۔ موجودہ مرحلے میں مسلم اقوام کو مغربی بالادستی کا سامنا ہے جس کے دوران سیاسی، سماجی اور معاشی حوالوں سے تہذیب و اقدار اور روایات کو متعدد سوالات کا سامنا ہے۔ اس سیاسی و تہذیبی کشمکش میں بہت سی مشرقی اقوام اپنے معاشرتی ادارے قائم نہ رکھ سکے تاہم عائلی نظام اب تک کسی قدر مزاحمت دکھا رہا ہے۔
مغرب میں خاندانی نظام کے اس بکھرتے ہوئے شیرازے کی ایک اہم وجہ فرد کی مکمل اور غیرمشروط آزادی کا تصور ہےجس کی بدولت مشرقی معاشروں میں بھی عائلی حقوق و فرائض کے بارے میں ایک غیرذمہ دارانہ رویہ پروان چڑھا ہے اور خاندانی رشتوں کی حساسیت کمزور پڑ رہی ہے۔ ماں باپ کی شفقت و سرپرستی اور خاندان کے بزرگوں کا احترام جیسی اقدار رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہیں۔ ہمیں درپیش اکثر اخلاقی اور معاشرتی مسائل کی ایک بنیادی وجہ یہی ہے۔
اس تصورِ فرد ہی کی بدولت ہم جنس پرستی جیسے غیر فطری رویے بیشتر مغربی ممالک میں قانونی تحفظ حاصل کر چکے ہیں۔نکاح کے بغیر اولاد کا رجحان عام ہورہا ہے (اگرچہ اس کی شرح میں مختلف نسلی وابستگیوں کی وجہ سے فرق بھی موجود ہے)۔ کئی مسلم معاشرے اس فکر سے متاثر نظر آتے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ اسلامی تہذیب و ثقافت کو تنگ نظری، کم نگاہی، تعصب اور بے یقینی سے دیکھنا ہے۔
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ’مغرب اور اسلام‘ کے اس شمارے میں مغرب کے تصورِ فرد اور اسلامی معاشرے کی ایک بنیادی اکائی یعنی خاندانی نظام پر بات کی گئی ہے۔ مغربی ماہرین اور محققین کی نظر سے ان بدلتے ہوئے رویوں کے اسباب اور وجوہات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ شمارے میں اس بات کو دیکھا گیا ہے کہ تمام مغربی باشندے اور خاص طور پر مسلمان ان بدلتے ہوئے رویوں سے کس حد تک خوش اور مطمئن ہیں اور ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جواب دیں