صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار جدید دنیا میں میری ٹائم ڈپلومیسی English
جدید دنیا میں میری ٹائم ڈپلومیسی چھاپیے ای میل

 maritime-diplomacy-seminar

میری ٹائم ڈپلومیسی میں تخصص اہم سفارتی ضرورت ہے، دفتر خارجہ الگ شعبہ قائم کرے: انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں میری ٹائم سمر اسکول کے شرکاء کا سیمینار

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اور میری ٹائم اسٹڈی فورم کے اشتراک سے "جدید دنیا میں میری ٹائم ڈپلومیسی" کے موضوع پر8 اگست 2019 کو منعقد ہونے والے سیمینار میں شرکاءنے جدید دور میں بحری امور پر ہونے والی پیشرفت کو ہوش ربا قرار دیتے ہوئے پاکستان کے محل وقوع میں ہونے والی ترقی پر گفتگو کی اور دفتر خارجہ پر زور دیا کہ وہ اس اہم میدان میں تخصص کے لیے میری ٹائم ڈپلومیسی کا خصوصی شعبہ قایم کرے جہاں پاکستان نیوی، وزارت میری ٹائم افئیرز، وزارت تجارت، وزارت دفاع سمیت دیگر اہم متعلقہ اسٹیک ہولڈروں کے لائژن اہلکار مل کر مربوط حکمت عملی کے ساتھ کام کریں۔ 

سیمینار سے خطاب کرنے والے ماہرین کا کہنا تھا کہ بحری امور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملات کی اہمیت، گوادر اور چابہار کی بندرگاہوں کے پیش نظر بین الاقوامی سطح پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ خطے میں دنیا بھر کے طاقت ور ممالک کے بحری عزائم اپنا کام دکھا رہے ہیں۔ چین بھی اس سفارت کاری میں جنوبی سمندر پر جاری جھگڑوں کے باعث ایک مکمل پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ سمندر میں تیل اور دیگر بہت سی معدنیات اس پورے خطے کے سمندروں میں میری ٹائم ڈپلومیسی کا ایک بہت بڑا سبب ہیں۔ 

سیمینار کے مرکزی مقرر وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) خاور علی شاہ تھے جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ 

گفتگو میں شریک دیگر مقررین میں ایمبیسڈر (ریٹائرڈ) فوزیہ نسرین، وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) افتخار احمد راؤ، خالد رحمٰن ایگزیکٹو پریذیڈنٹ آئی پی ایس، ابرار ہاشمی ڈائریکٹر جنرل پروٹوکول وزارتِ خارجہ، ڈاکٹر خرم اقبال ایسو سی ایٹ پروفیسر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد، ڈاکٹر سید محمد انور صدر میری ٹائم سٹڈی فورم اور نوفل شاہ رُخ جنرل مینیجر آپریشنز آئی پی ایس شامل تھے۔ 

وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) افتخار راؤ کا کہنا تھا کہ سمندر رابطہ بناتے ہیں اور زمین تقسیم کرتی ہے۔ چنانچہ میری ٹائم وہ شعبہ ہے جس میں دنیا کی یکساں ترقی کو  فوقیت مل سکتی ہے۔ 

خالد رحمٰن نے ملکی ترقی اور دفاع میں میری ٹائم ڈپلومیسی کے تعلق کو واضح کرتے ہوئے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائبرڈ وار آج کی اصطلاح اور جنگ کی طرز ہے۔ اب صرف فوجیں ہی جنگ نہیں کر رہی ہوتیں بلکہ معاشرے کا ہر شعبہ اس میں شریک ہو جاتا ہے۔ اس لیے اب ہر فرد کو ریاست کی حفاظت اور ڈپلومیسی میں براہِ راست شامل ہونا پڑے گا۔ 

پروگرام کے اختتام پر کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں ہندوستان کے حالیہ فعل کی مزمت کی گئی،  کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کا ازسرِنو اعادہ کیا  گیا اور اقوام متحدہ کی توجہ اس جانب دلوائی گئی کہ وہ اپنے قراردادوں پر عمل درآمد کروائے۔