صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار 'امریکہ طالبان معاہدہ: افغانستان میں امن کے امکانات اور پاکستان کے لیے راستے' English
'امریکہ طالبان معاہدہ: افغانستان میں امن کے امکانات اور پاکستان کے لیے راستے' چھاپیے ای میل

 US-Taliban-Deal

امریکہ طالبان معاہدے میں موجود مختلف ابہام امن کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں: ماہرین

امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے حالیہ امن معاہدے میں بہت سے ایسے ابہام اور تضادات موجود ہیں جو کہ حصولِ امن کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور ایسا ہونے کی صورت میں نہ صرف خطہ غیر یقینی حالات سے دو چار ہو جائے گا بلکہ اس سے پاکستان کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 ان خیالات کا اظہار ماہرین نے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز [آئ پی ایس]، اسلام آباد میں 'امریکہ طالبان معاہدہ: افغانستان میں امن کے امکانات اور پاکستان کے لیے راستے' کے عنوان سے  5 مارچ 2020 کو ہونے والی ایک گول میز کانفرنس میں کیا۔   اس نشست کی صدارت آئ پی ایس کے ایگزیگٹیو صدر خالد رحمٰن نے کہ جبکہ مقررین میں افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر سید ابرار حسین، سیکیورٹی تجزیہ کار بریگیڈیر [ر] سید نذیر مہمند، جسٹس ڈاکٹر محمد الغزالی، معروف مصنف جمعہ خان صوفی، سینیئر صحافی اور افغان امور کے ماہر عبدالہادی  ملا خیل اور طاہر خان، اور قائدِ اعظم یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی  ڈاکٹر سعدیہ سلیمان شامل تھے۔ 

تمام مقررین اس بات پر متفق تھے کے معاہدے میں بہت سے ایسے ابہام موجود ہیں جن کو کوئ بھی فریق استعمال کر کے امن کی پیش رفت میں حائل ہو سکتا ہے۔ ان معملات میں خصوصی طور پر قیدیوں کا تبادلہ، معاہدے میں کسی گارنٹی لینے والے کی کمی، مستقبل کی افغان جکومت کے ڈھانچے سے متعلق غیر یقینی صورتحال، تمام افغان فریقین میں طاقت کی شراکت پر ابہام، امریکہ کی طرف سے کسی معاشی معاونت کی کمی، اور افغانستان میں موجود متفرق قبائل اور دیگر گروہوں کا معاہدے میں فریق نہ ہونا کچھ ایسے معاملات ہیں جو قیامِ امن کی راہ میں مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں۔ 

افغانستان کے مقامی قبائل کو ایک صفحے پر یکجا کرنے کی طرف خصوصی طور پر توجہ دلاتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ یہ طالبان کی قیادت اور سیاسی امور میں ان کی مہارت کا اصل امتحان ہو گا۔ 

مقررین نے معاہدہ  میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا لکین ساتھ متنبہ بھی کیا کہ اس بارے میں زیادہ اصرار کرنا پاکستان کے اوپر دباو پیدا کر سکتا ہے کیونکہ معاہدے سے متعلق تمام معاملات طے نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کے لیے مشکل صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ 

البتہ عمومی طور پر ماہیرین نے موجودہ صورتحال کو پاکستان کے لیے مثبت قرار دیتے ہوِئے کہا کہ اس سے سے نہ صرف خطے میں امن کی صورتحال بہتر ہو گی بلکہ زمینی اور تجارتی روابط بھی بڑھیں گے اور ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا کے بیچ پائپ لائن جیسے بہت سے پراجیکٹ جو اب تک تعطّلی کا شکار تھے، ان پر دوبارہ کام بھی شروع ہو سکتا ہے۔  

ماہرین نے مزید یہ تجویز بھی دی کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو افغانستان سے اپنے تعلقات بہتر کرنے کے لیے ایک جامع پالیسی بنانا چاہیے جس میں معاہدے کی کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں سے متعلق تمام امکانات کا مکمل جائزہ لیا جائے اور اسکی روشنی میں حکمتِ عملی تیار کی جائے۔