صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار 'پاکستان کا معاشی منظر نامہ اور آگے کے لیے راہیں' English
'پاکستان کا معاشی منظر نامہ اور آگے کے لیے راہیں' چھاپیے ای میل

 Pakistans-Economic-Outlook-and-Way-Forward

حکومت سے کورونا وائرس کے تنا ظر میں معیشت  کا پہیہ چلانے کی  لیے  زیادہ  کرنسی  چھاپنے کا مشورہ

 دنیا بھر کے ممالک نے کوویڈ 19 کے وبائی مرض کےمعاشی  اثرات کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں اور اس مقصد کے لیےانہیں زیادہ کرنسی  چھاپنے سے بھی  کوئی چیز مانع نہیں رہی۔ معروف ماہر معاشیات اور سابق وفاقی سیکرٹری خزانہ نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کوبھی لوگوں کے  ضروریات زندگی پر اخراجات جاری  رکھنے  اور یوں معیشت کے پہیے کو رواں رکھنے کے لیے مزید کرنسی چھاپ کر اسے 'احساس'  جیسے قومی سطح کےامدادی پروگراموں کے ذریعےتقسیم کرنا چاہیے۔

  ان خیالات کا اظہار سابق وفاقی سیکرٹری خزانہ  اور آئی پی ایس کی نیشنل اکیڈمک کونسل کے رکن ڈاکٹر وقار مسعود خان نےایک ویبینار میں کیا جس کا موضوع تھا  'پاکستان کا معاشی منظر نامہ اور آگے کے لیے راہیں' ۔ اس  اجلاس کا اہتمام انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) نے اپنی ویبینار سیریز 'کوویڈ۱۹۔ چیلنجز اور قومی رد عمل' کے تحت   5مئی2020ء کوکیا ۔

 اس ویبینار کی صدارت آئی پی ایس کےایگزیکٹو صدر خالد رحمٰن نے کی جبکہ شرکاء میں سینئر ریسرچ فیلو آئی پی ایس سید محمد علی، سابق وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی مرزا حامد حسن، ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) خالد اقبال اور سنٹرفار پروموشن آف امپورٹس فروم ڈیویلپنگ کنٹریز میں ایگزیکٹو کنسلٹنٹ اوربیرونی امور کے ماہر ظہیر الدین ڈار شامل تھے۔ ڈاکٹر مسعود خان کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں سادگی اور کفایت شعاری کی بجائے معیشت میں گردش کرنے والی رقم کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور یہ نظام میں رقم کی فراہمی میں اضافہ کرکے کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے' احسا س 'ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت ادا کی جانے والی رقم کودو حصوں میں تقسیم کر کے 12000 روپے سے بڑھا کر 60000 روپے تک  کرنے کی تجویز پیش کی۔ 

انہوں نے کہا کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ڈالر کی کم ادائیگی سے جو بچت ہو گی اس کے باعث بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں کمی اور برآمدات میں ہونے والی آمدنی میں کمی کی کسی قدر تلافی ہو سکے گی۔ اس سے معیشت کو  رواں   رکھنے میں مدد ملے گی جبکہ ملک میں ڈالر کے اہم ذخائر میں کمی نہیں آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو میکرو سطح پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افراطِ زر کو ہدف بنانا اور شرح سود کو ترقی کے لیے استعمال کرنا غیر عملی معاشیات ہے۔ آئندہ بجٹ کے بارے میں انہوں نے کہا: “یہ بجٹ ایک طرح سے حالت جنگ کی کیفیت میں آ رہا ہے۔ اس کی حیثیت محض رسمی ہوگی لہٰذا لوگوں کو اس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہییں" ۔

انہوں نے کہا کہ وہ اگلے مالی سال کو موجودہ اختتام پزیر ہونے والے مالی سال کے مقابلے میں بدتر نہیں دیکھتے تو بہتر بھی نہیں دیکھتے۔ اس کی وجہ ہچکولے کھاتی معیشت کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل سے پیدا ہونے والے وہ حالات بھی ہیں جن کے باعث خوراک کا تحفظ خطرے کی زد میں ہے۔ 

محمد علی نے کہا کہ اس وقت چار چیزیں  اہم ہیں۔ کھانا ، ایندھن ، نقد رقم اور صحت کی دیکھ بھال۔ وبائی مرض کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات میں یہ انتہائی اہم عوامل ہیں اور انہیں معیشت کے بحران میں اہم حصہ شمار کیا جانا چاہیے۔

ان کا خیال تھا کہ طرز حکمرانی ایک مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خیراتی کام بہت ہورہے ہیں اور اس سے ایک مثالی نمونہ ملتا ہے چاہے وہ کھانے پینے کے راشن کی شکل میں ہو یا نقد رقم کی صورت میں۔ یہ ماڈل زیادہ کارآمد ہے کیونکہ یہ زیادہ قابل اعتماد ہے، اس طرح سے تقسیم کا عمل کامیاب ہے اور یہ موثر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشی نظم و نسق اس بحران سے نمٹنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ 

خالد رحمٰن نے کہا کہ مقامی کمیونٹی کی بنیاد پر کھڑا ڈھانچہ حکومت کے ساتھ شرکت کے لیے ماڈل کا کام کر سکتا ہے۔ انہوں نے مساجد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بحران کے دوران آپریشنل سرگرمی میں مدد گار ہو سکتی ہیں کیونکہ وہ محض عبادت کی جگہیں نہیں ہیں بلکہ وہ معاشرتی مراکز کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت خوراک اور توانائی کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔ ملک میں زمین کی کوئی کمی نہیں ہے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے زراعت کا استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ  کام چھوٹے پیمانے پر  کِچن باغبانی کی شکل میں بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ محکمہ زراعت ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے جارحانہ انداز میں اقدام کرے۔