صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار 'انڈیا کا ماضی، حال اور مستقبل – مسلم دنیا کی نظر میں(2)' English
'انڈیا کا ماضی، حال اور مستقبل – مسلم دنیا کی نظر میں(2)' چھاپیے ای میل

 India webinar 2

بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' پڑوسی ممالک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پوری طرح مستعد ہے: سابق مُکتی باہنی رہنما

امریکی نژاد بنگلہ دیشی محقّق، مصنف اور مُکتی باہنی کے سابق گوریلا لیڈر محمد زین العابدین کے مطابق بھارت کی خفیہ انٹیلیجنس ایجنسی را جنوبی ایشیا میں واقع اپنے پڑوسی ممالک کو غیر مستحکم کرنے میں پوری طرح فعال اور مستعد ہے تاکہ پورے علاقے پر اپنی اجارہ داری قائم رکھ سکے۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں واقع تھِنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز [آئ پی ایس] کے  26 جون 2020 کو منعقد کردہ ایک بین القوامی ویبینار میں کیا جس میں امریکہ، سعودی عرب، بنگلہ دیش، افغانستان اور نائجیریا سے تعلق رکھنے والے معروف بین الاقوامی ماہرین نے 'بھارت: ماضی، حال اور مستقبل – مسلم دنیا کی نظر میں' کے عنوان پر اپنا اظہارِ خیال کیا۔ یہ رواں ہفتے میں آئ پی ایس کی منعقد کردہ عالمی ویبینار سیریز کے سلسلے میں ہونے والی دوسری نشست تھی۔ ان دونوں ویبینارز سے بھارت پر نظر رکھنے والے 15 معروف بین الاقوامی ماہرین نے اظہارِ خیال کیا۔ ان ویبینارز کی صدارت آئ پی ایس کے ایگزیگٹیو صدر خالد رحمٰن نے کی جبکہ انسٹیٹیوٹ کے سینئیر ریسرچ فیلو سید محمد علی اس کے ناظم تھے- 

1971 میں پاکستان کے خلاف لڑنے کے لیے بھارت میں تربیت حاصل کرنے والے زین العابدین نے جنوبی ایشیا کے ممالک کو بھارت پر بھروسہ کرنے سے خبردار کیا اور انہیں نئی دہلی کے ہاتھوں استحصال، محکومیت اور جبر سے بچنے کے لیے آپس میں متحد ہونے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پر بھروسہ کرنا بنگلہ دیش کے مسلمانوں کی بڑی غلطی تھی جس کی وجہ سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور بعد ازاں ہندوستان کی ایک پراکسی ریاست بن کر رہ گیا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائ کہ 1971 کے بعد سے بھارت کئی سابقہ خود مختار ریاستوں پر منظم طریقے سے قبضہ جما چکا ہے جن میں جموں و کشمیر، حیدر آباد، سِکِم، جونا گڑھ، اور مناودر وغیرہ شامل ہیں۔ 

بھارت کے موضوع پر لکھی گئ کئ کتابوں کے مصنف زین العابدین کا کہنا تھا کہ یہ شدت پسندانہ ہندوتوا نظریہ 1947 میں ہزاروں مسلمانوں کے قتلِ عام اور بعد میں بنگلہ دیش کو لوٹنے کی وجہ بنا ہے، اور اسی کے زور پر پہلے تو بی جے پی نے بابری مسجد کو شہید کیا اور بعد میں اس نے 2002 میں نریندر مودی کے ذریعے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتلِ عام بھی کروایا۔ 

ویبینار سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط نظریاتی اتحاد کے بغیر مسلمان اس ظلم و جبر کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ کتابوں، تھِنک ٹینکس، فلموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اُن کی تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسلامی تعاون کی تنظیم کے رُکن ممالک کو بھارت کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے اور اس پر معاشی پابندیاں لگانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا کہ ایک طرف تو اقوامِ متحدہ ظلم و جبر کے خلاف دن منا رہا ہے جبکہ دوسری طرف دنیا بھر میں اس وقت سب سے زیادہ منظّم ظلم و جبر مقبوضہ کشمیر میں کیا جا رہا ہے جسے باقاعدہ ایک ریاستی پالیسی کے تحت یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بھارت کو ایک ایسی مصنوعی ریاست قرار دیا جو اپنی موجودہ شکل میں پہلے کبھی پائی ہی نہیں جاتی تھی اور جسے پہلے مسلمانوں اور بعد میں انگریزوں نے اکٹھا کر کے ایک ملک بنایا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ بھارت دراصل بیک وقت تین سطحوں پر جنگ و جدل میں مصروف ہے: ایک اپنے ہی حدود میں اپنی اقلیتوں کے خلاف، دوسرا مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کےخلاف، اور تیسرا اپنے حدود سے باہر اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کے خلاف مروّجہ بھارتی حکومتی پالیسیوں کا تقابل نازی جر منی کے یہودیوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے ساتھ کیا، جس میں ابتدائ طور پر ان کا معاشی طور پر گلا گھونٹنا، اس کے بعد اُن کو بد ترین بنا کر پیش کرنا اور پسماندہ رکھنا، اور اخر میں جسمانی طور پر ان کا استحصال اور خاتمہ کرنا شامل تھا۔ 

سردار مسعود خان نے بھارت کو ایک بیرونی نو آبادیاتی طاقت قرار دیا جس نے پہلے تو  کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کر کے اسے اپنا علاقہ بنانے کی کوشش کی اور اب وہ بحرِ ہند میں واقع چھوٹے علاقوں پر بھی قبضہ جمانے کا عزم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ویسے تو پاکستان کو اپنا اوّلین دشمن سمجھتا ہے لیکن در حقیقت اس نے اپنی علاقائی حدود میں اضافہ کرنے کے جنون میں اپنے دیگر ہمسایہ ممالک کو بھی نہیں بخشا۔ 

صدر آزار کشمیر نے بھارت کو سارک اور علاقائی معاشی ہم آہنگی کے معاملات میں کسی قسم کی پیش رفت میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ 

امریکہ سے تعلق رکھنے والے امام عبدالملک مجاہد کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس اور آئ ایس آئ ایس میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے جبکہ بھارت کی ہندوتوا شدت پسندی کی حقیقت اب گاندھی، تاج محل اور سبزی خوری کی پر امن تصاویر کے پیچھے چھُپ نہیں سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کسی قسم کے دباوّ سے ماوراء نہیں ہے لیکن یہ ذمہ داری بھارتی مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اب ہمّت کر کے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں جبکہ ایسا کرنے کی صورت میں ساری دنیا کے مسلمان ان کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ 

انہوں نے مغرب میں موجود مسلمانوں، بالخصوص امریکہ، برطانیہ، فرانس، اور جرمنی میں موجود مسلمانوں سے کہا کہ وہ اپنے آپ کو منظّم کریں تاکہ بھارت میں پِسے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کی جا سکے۔

سینئیر سعودی صحافی اور جنوبی ایشیائی امور کے معروف تجزیہ کار خالد المعینہ نے  مسلمانوں سے اکھٹّا ہونے، علم حاصل کرنے اور اپنی روداد کو وضاحت اور منطق کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی اپیل کی تاکہ اُن کی بات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔ 

نائجیریا کے اسکالر ڈاکٹر باقر نجمدین نے خبردار کیا کہ اسلاموفوبیا کو بین الاقوامی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے اور شکار بنانے کے لیے استعمال کیاجا رہا ہے۔

کابل سے تھِنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجیک اینڈ ریجنل اسٹڈیز کے سینئیر رکن پروفیسر ہارون خطیبی کا خیال تھا کہ انتہائی دائیں بازو کی عالمی شدّت پسندی میں جو اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اس سے بھارت اور امریکہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اخراجیت پسند آر ایس ایس اور بھارت میں اس کی بی جے پی جیسی منسلک تنظیمیں چاہتی ہیں کہ ملک میں موجود ہر فرد ہندو مذہب اختیار کر لے۔

آئ پی ایس کے ایگزیگٹیو پریزیڈنٹ خالد رحمٰن نے آر ایس ایس کو دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جو بھارت کے معاشی اثر و رسوخ اور مصنوعی سیکولر اور جمہوری لبادے کو اپنے پھیلاو میں اضافہ کرنے کے یے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ مثبت سوچ اپنائیں، جدید طرز کی حکمتِ عملی وضع کریں، اور صبر اور تحمّل کے ساتھ اپنے آپ کو منظّم کر کے مستقبل میں درپیش مشکل اور گھمبیر چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کریں۔

PR270620