صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار آئی پی ایس کے ورکنگ گروپ برائے کشمیر (WGK IPS-) کاآٹھواں اجلاس English
آئی پی ایس کے ورکنگ گروپ برائے کشمیر (WGK IPS-) کاآٹھواں اجلاس چھاپیے ای میل

 8th Meeting of IPS-WGK 1

 گلگت بلتستان (GB) کو مسئلہ کشمیر سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جب بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد ہو گا اس خطے کو رائےشماری میں شامل کیا جائے گا۔ البتہاس دوران خطے کے لوگوں کو کو بہتر طرزِ حکمرانی اور آئینی حقوق کی فراہمی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے GB کو عارضی طور پر صوبے کا درجہ بھی دیا جا سکتا ہے اور اس اقدام سے  پاکستان کے لیے بین الاقوامی  معاہدات کے حوالے سے قانونی طور پرکوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے  ورکنگ گروپ برائے کشمیر (IPS-WGK) کے آٹھویں اجلاس کے شرکاء نے کیا۔ اس پروگرام میں افضال علی شگری  سابق انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کی ایک پریزنٹیشن شامل تھی جس کا عنوان تھا ”مسئلہ کشمیر میں گلگت بلتستان کی اہمیت: ماضی ، حال اور مستقبل“۔

اس سیشن کی صدارت ایگزیکٹو پریذیڈنٹ آئی پی ایس خالد رحمٰن نے کی جبکہ میزبانی کے فرائض آئی پی ایس ایسوسی ایٹ، سیکرٹری آئی پی ایس-ڈبلیو جی کے اورسابق وزیر جموں و کشمیر فرزانہ یعقوب نے ادا کیے۔ شرکاء میں سینئر سیکورٹی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سید نذیر مہمند ، سفیر (ر) اشتیاق اندرابی،  جی ایم آپریشنز آئی پی ایس نوفل شاہ رُخ اور سینئر ریسرچ فیلو آئی پی ایس سید محمد علی شامل تھے۔

شرکاء کی رائے تھی کہ گلگت بلتستان کی حیثیت کو طے کرنے کے لیے جدید نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس کا ایک حل یہ ہے کہ اس علاقے کو پاکستان کے ایک صوبے کی حیثیت دے دی  جائے کیونکہ اس سے نہ تو کوئی بین الاقوامی اور قانونی رکاوٹ پیدا ہوگی اور نہ ہی اس سے مسئلہ کشمیر کے لیے کوئی مسائل پیدا ہوں گے۔ ایک اور تجویز یہ تھی کہ قانونی طور پر گلگت بلتستان (GB) اور آزاد جموں و کشمیر (AJ&K) کو ضم کیا جائے جبکہ انہیں دو خطوں، ایک ریاست کی حیثیت سے خود حکومت سازی کا حق دیا جائے۔ ایک دلچسپ حل آزاد جموں و کشمیر  اور گلگت بلتستان کا یہ تجویز کیا گیا کہ ان کی اپنی اپنی حکومتیں الگ ایوانِ زیریں کے ساتھ ہوں لیکن ایک متفقہ ایوانِ بالا ہوجس میں دونوں علاقوں کے نمائندے شامل ہوں۔ اس کے لیے دونوں اطراف کے عوام کے اتفاق کی ضرورت ہوگی۔

شگری  گلگت بلتستان  کی حیثیت سے متعلق تجاویز تیار کرنے کے لیے چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس (ر) سید منظور گیلانی کے قائم کردہ ایک گروپ کے رکن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس گروپ کی تجاویز حکومت پاکستان کو ارسال کی گئیں جن میں کہا گیا کہ صوبہ کی عارضی حیثیت ہی بہترین آپشن ہے۔

شگری نے کہا کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے دو بار قراردادیں منظور کی ہیں جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس علاقے کو پاکستان کے ایک صوبے کا درجہ دیا جائے۔ تاہم حکومت پاکستان نے اس مطالبے کے خلاف مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کشمیر کے بارے میں پاکستان کے مؤقف پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو گلگت بلتستان کے ساتھ قانونی تعلق پیدا کرنا چاہیے کیونکہ یہ انتہائی حساس اور اہم  علاقہ ہےاس لیے بھی کہ پاکستان وہاں ایک ڈیم بنا رہا ہے اور سی پیک بھی اس علاقے سے گزرتا ہے۔ اس سے اعلیٰ تعلیم ، صحت کی سہولیات ، بنیادی ڈھانچے کے لیے فنڈز، زمین کے حقوق، بے گھر افرادکی بحالی، مقامی نمائندگی اور رائلٹی وغیرہ جیسے سنگین مسائل کو بھی حل کرنے میں مدد ملے گی۔

خالد رحمٰن  نے کچھ دیگر مصنفین کے ساتھ شامل جسٹس (ر) منظور گیلانی اور افضل شگری کی ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آئین پاکستان اور جموں و کشمیر عبوری دستور ایکٹ میں ترمیم کی تجویز پیش کرکے گلگت بلتستان کے معاملے کو حل کرنے کے لیے آگے کی راہ دکھائی ہے۔  یہ معاملہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں مستقل طور پر اٹھایا جاتا رہا ہے لیکن بعض حلقوں کےحیلوں بہانوں کے سبب کبھی حل نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے طرزِ حکمرانی کی بے انتہا کمزوری بھی ظاہر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مسئلے کو کسی خاص علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ سمجھ کردیکھا جانا چاہیے۔ یہ تشویش کی بات ہے کہ گلگت بلتستان جو تمام عملی مقاصد کے لیے پاکستان کا حصہ ہے ، اسے آئینی طور پر اتنی اہمیت نہیں دی گئی ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ حقیقی مدد نہ ہونے کا سبب یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان کے مسائل سے متعلق معلومات نہ صرف عوامی بلکہ سیاسی سطح پر بھی کم ہیں۔

اندرابی کا موقف تھا کہ گلگت بلتستان  کے پاکستان کا حصہ ہونے سے متعلق رائے معلوم کرنے کے لیے وہاں کے  لوگوں سے براہِ راست پوچھا جانا چاہیے اور حکومت کو مطلوبہ اقدام انجام دینے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔

فرزانہ نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو گلگت بلتستان سے رابطہ قائم کرنے کےلیے زیادہ سرگرمِ عمل ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں نہ صرف سرکاری سطح پر بلکہ لوگوں کے درمیان باہمی روابط بھی ضروری ہیں۔

2015 میں اس وقت کے وزیر اعظم کے مشیر ِ  خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں  حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی  تھی جس میں تمام فریقین  شامل تھے  اور اس کا مقصد گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل  کے بارے میں سوچ وچار کرنا تھا۔ اس کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ علاقے کو عارضی طور پر پاکستان کے صوبے کی حیثیت دینے میں کوئ حرج نہیں ہے۔ علاقے کو لوگوں کو نہ صرف پارلیمینٹ میں نمائیندگی ملنی چاہیے بلکہ  شہریوں کے تمام حقوق بھی ملنے چاہے۔ البتہ ان سفارشات پر کوئ عمل درآمد نہ کیا گیا۔