صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار 'نیویگیشن آپریشن پیٹرول کی آزادی- مسائل اور قانونی تقاضے' English
'نیویگیشن آپریشن پیٹرول کی آزادی- مسائل اور قانونی تقاضے' چھاپیے ای میل

 IPS PR 07052021

ہندوستان کےخصوصی اقتصادی زونEEZ) میں امریکی بحریہ کاگشت تمام  ساحلی ریاستوں کے لیے ایک پیغام ہے، ماہرین

 بھارت کے خصوصی اقتصادی زون میں امریکی بحریہ کا نیویگیشن آپریشن  بحرِ ہند میں اپنا اثرورسوخ دکھانے کی ایک کوشش ہے اور اس  میں خصوصی طور پر بھارت اور چین جیسی میری ٹائم قوتوں  سمیت تمام ساحلی ریاستوں کے لیے ایک پیغام موجود ہے۔ 

یہ   بات 'نیویگیشن آپریشن پیٹرول کی آزادی- مسائل اور قانونی  تقاضے' کے عنوان سے ہونے والے ایک ویبینار کا نچوڑ تھا جس کا اہتمام    7 مئ 2021  کو انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز [آئ پی ایس] نے کیا تھا۔

آئی پی ایس کے وائس چیئرمین  ایمبیسیڈر (ریٹائرڈ) سید ابرار حسین کی زیرصدارت ہونے والے اس اجلاس سے کموڈور (ریٹائرڈ) سید محمد عبید اللہ ،ایس آئی (ایم) ، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر  پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) اور نیشنل سینٹر برائے میری ٹائم پالیسی ریسرچ (NCMPR )کے بانی ڈائریکٹر، اور کموڈور (ریٹائرڈ)  بابر،  بلال ایس آئی(ایم)،  ڈائریکٹر  نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز (NIMA)  ،اسلام آباد نےخطاب کیا ۔

IPS PR 06052021 ان کے علاوہ اجلاس میں جن میری ٹائم سکالرز اور ماہرین نے شرکت کی ان میں آئی پی ایس کی نان ریزیڈنٹ  فیلو ڈاکٹر ملیحہ زیبا خان ، اسسٹنٹ پروفیسرنیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز(NUML)   ،   جی ایم-آئی پی ایس اور جنرل سیکریٹری میری ٹائم اسٹڈی فورم [ایم ایس ایف] نوفل شاہ رخ،  پی ایم ایس اے کے کمانڈر فیصل صادق کی سربراہی میں پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کا پینل، وفاقی اردو  یونیورسٹی کراچی کے ڈاکٹر فیصل جاوید، کراچی یونیورسٹی سے ثمینہ قریشی، اورمیری ٹائم لائیر اور میری ٹائم اسٹڈی فورم کے ریسرچ ایسوسی ایٹ اٹارنی مسلم بن عقیل شامل تھے۔

اجلاس کے کلیدی مقررکموڈور (ریٹائرڈ) عبید اللہ کا خیال تھا کہ بحر ہند میں حالیہ امریکی بحریہ کے مشقوں نےہندوستان کی عالمی بحری طاقت بننے کی امنگوں کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا  کہ امریکہ کی  بھارت کے ساتھ اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کے باوجود اس نے بھارت کو یہ پیغام دیا ہے کہ  اسٹریٹجک شراکت داری بھی امریکہ کو ایسی سرگرمیاں کرنے سے نہیں روک سکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے چین سمیت دوسری ساحلی ریاستوں کو بھی یہ ادراک دلانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے علاقے میں بھی اس قسم کے آپریشن کیے جا سکتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ 6 اپریل 2021 کو  بغیر کسی اطلاع کے ہندوستان کے خصوصی اقتصادی زون میں  امریکہ کے بحری جہازوں کا گھومنا  اس بات کی نشاندہی کرنا ہے کہ کیونکہ امریکہ UNCLOS (United Nations Convention on the Law of the Sea  )  پر دستخط کرنے والا ملک نہیں ہے  اس لیےدوسرے ممالک کےسمندری دعووں کو آگے بڑھ کر چیلنج کرنے کے لیے باقاعدگی سے Freedom of Navigation Operations Patrol (FONOP)  کا استعمال کرتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے لیے تویہ  تشریح کا معاملہ ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہUNCLOS کے 19 اور 24 آرٹیکل اسےساحلی ریاستوں سے بغیر اجازت گزرنے کا حق دیتے ہیں۔

اس معاملے کی قانونی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے کموڈور (ریٹائرڈ) بلال نے کہا کہ ساحلی ریاستوں کی خودمختاری 12 سمندری میلوں تک پھیلی ہوئی ہے جبکہ EEZ میں سطح اور ذیلی سطح کو دنیا کے لیے مشترک سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ساحلی ریاستیں دوسرے ممالک کو اس پر سفر کرنے سے روک نہیں سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی  کہا کہ بحر ہند کے علاقے(IOR)میں اپنا تسلط قائم کرنے کی ہندوستانی خواہشات کو امریکی اقدام نے ناکام بنا دیا ہے۔

دیگر مبصرین نے رائے دی کہ اس قسم کی کارروائیوں کے پاکستان پر براہ راست مضمرات نہیں  ہیں   لیکن امریکہ چین دشمنی کو مدنظر رکھتے ہوئے ، امریکہ مغربی بحر ہند کے خطے میں چین کے اثر و رسوخ ، کمانڈ اور نیویگیشن کو چیک کرنے کے لیے ایک عالمی حق کے طور پر FONOP کرسکتا ہے۔ انہوں نے امریکی کارروائی پر ہندوستانی حکومت کی چیخ و پکار پر سوالات بھی اٹھائے جوکہ انہیں شبہ ہے مؤخر الذکر کے ساتھ مل کر کی گئی تھی۔

اجلاس کے اختتام پرسابق سفیر سید ابرار نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  امریکی اقدام اہم ہے لیکن اایسا پہلی بار نہیں ہوا  ہے  اور اس کا مقصد خطے میں چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے، اگرچہ  اب چین کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں  کے آگے رکاوٹ بننے کی کوشش کرنے میں بہت دیر ہوچکی ہے۔