صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار 'بحر: زندگی، معاش اور پائیدار ی – پاکستان کے لیے چیلنجز اور مواقع' English
'بحر: زندگی، معاش اور پائیدار ی – پاکستان کے لیے چیلنجز اور مواقع' چھاپیے ای میل

 IPS PR 08062021 1

ماہرین کا عالمی یوم ِبحر کے موقع پر آئی پی ایس ویبنار میں بحری ماحول کے تحفظ  اور وسائل کی ترقی کی اہمیت پر زور

میری ٹائم کے شعبے میں انسانی اور قدرتی وسائل کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر تحقیق اور ترقی پاکستان میں 'نیلے'  معاشی انقلاب کا بیج بونے کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔یہ ان خیالات کا لب لباب تھا جن کا اظہار میری ٹائم امور کے ماہرین اور سائنسدانوں  نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کےایک ویبنار میں کیا جس کا عنوان تھا 'بحر: زندگی، معاش اور پائیدار ی – پاکستان کے  لیے چیلنجز اور مواقع'۔ عالمی یومِ بحر2021کے موقع پر  اس ویبنا رکا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے 7 جون 2021 کو جامعہ کراچی ، میری ٹائم اسٹڈی فورم ، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز ، اور پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی   کے اشتراک کے ساتھ   کیا تھا۔

  ویبنار کی  صدارت آئی پی ایس کے وائس چیئرمین ایمبیسیڈر  (ر) سید ابرار حسین نے کی  اور اس میں  بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اظہر احمد ، ڈاکٹر نزہت خان ، سابق ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی ،  ڈاکٹر اسماء تبسم ، منیجر  اوریک، جامعہ کراچی؛ سابق وزیر اور سینیٹر نثار اے میمن؛ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کی سینئر ریسرچ فیلو نغمانہ ظفر، آئی پی ایس کے جنرل مینیجر اور میری ٹائم اسٹدی فورم کے جنرل سیکرٹری نوفل شاہ رخ  شامل تھے جبکہ  کمانڈر معید ، لیفٹیننٹ کمانڈرعمران اور لیفٹیننٹ جمیل نے پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کی طرف سےنمائندگی کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ویبنار میں میزبانی کے فرائض آئی پی ایس کے ڈپٹی منیجر آوٹ ریچ حافظ انعام اللہ نے ادا کیے۔

مبصرین کاکہناتھا کہ پاکستان کی ماہی گیر ساحلی آبادی - جو کہ ملک کی 1001 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر بڑی تعداد میں بستے  ہیں -  کی استعداد میں اضافے کے زریعے نہ صرف ماہی گیری  بلکہ سمندری زراعت  اور معیشت کی پائدار ترقی  کی منصوبہ بندی ملک کے روشن مستقبل کے لیے انتہائی  ضروری ہے ۔  بحری وسائل پر یونیورسٹیوں میں کی جانے والی تحقیق ان کے ساحلی دیہات میں کائی، سمندری گھاس  اور کئی دیگر قیمتی حیاتیاتی اجسام  کی نشوونما میں مدد فراہم کر سکتی ہیں جو ادویات، کاسمیٹکس اور خوراک میں بہت کارآمد ہوتے ہیں۔ پاکستان کے سمندری وسائل پر توجہ مرکوز کرنے والی بہت ہی اہمیت کی حامل تحقیق کراچی یونیورسٹی ، بحریہ یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں پہلے ہی کی جا چکی ہے، تاہم حکومت کی بےاعتنائی اور صنعتی شعبے کی طرف سے دلچسپی کا فقدان ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے  جو تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری  اور دستیاب تعلیمی تحقیق کو کمرشلائز کرنے میں حائل ہے، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مقررین نےساحلی زون کے انتظام و انصرام اور سمندر اور اس کے وسائل کے تحفظ کے لیے قومی اور بین الاقوامی ماحولیاتی قوانین کے سختی سے نفاذ پر بھی زور دیا۔

ویبنار میں گفتگو کے دوران  اس طرف توجہ دلائی گئی کہ تمام دنیا میں ساحلی کمیونیٹیز زیادہ خوشحال ہوتی ہیں کیونکہ ساحلی علاقے زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔  لیکن پاکستان میں سوائے کراچی کے پورا ساحل نظرانداز ہی رہا ہے۔ اگرچہ سی پیک نے میری ٹائم شعبے کو ترقی دے دی ہے ، لیکن نیلی معیشت کے تمام عناصر میں جدید تربیت اور ضروری مہارت مہیا کرنے کے لیے مزید مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

2002 میں جاری کی گئی  پرانی نیشنل میری ٹائم پالیسی  کی تجدید کا مسودہ ایک دہائی پہلے دوبارہ تیارکر لیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی جسے شریک گفتگو افراد نے پالیسی سازوں کی جانب سےمیری ٹائم امور کے لیے بے حسی اور لاپرواہی قرار دیا۔ شرکاء کا مطالبہ تھا کہ پاکستان کو ایک جامع میری ٹائم پالیسی کی ضرورت ہے جو تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر تشکیل دی جانی چاہئے۔

مقررین نے پاکستان میں بحری امور سے متعلق غفلت  کو دور کرنے اور ملک بھر میں یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس کومیری ٹائم ریسرچ  میں مشغول کرنے پر آئی پی ایس کی کوششوں کو سراہا۔

  میری ٹائم شعبے سے متعلق آگاہی بڑھانے  کے لیےمختلف درجات پرتعلیمی نصابوں میں اس  کےمضمون کو متعارف کرانے کی لیے بھی بھرپور گفتگو ہوئی۔سمندر کی صحت و سلامتی اور اس کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ،مبصرین نے پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی پر زور دیا کہ وہ سندھ اور بلوچستان کی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسیوں اور دونوں صوبوں کے ساحلی اضلاع کی مقامی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرکے ماحولیاتی قوانین کو سختی سے نافذ کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرے۔