صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار سیّد علی گیلانی کی وفات کسی عظیم سانحہ سے کم نہیں ، پروفیسر خورشید احمد English
سیّد علی گیلانی کی وفات کسی عظیم سانحہ سے کم نہیں ، پروفیسر خورشید احمد چھاپیے ای میل

PKA-S-Ali-Geelani

 سابق سینیٹر اور انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے پیٹرن ان چیف پروفیسر خورشید احمد نے کشمیری حریت رہنما اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سابق چیف سیّد علی شاہ گیلانی کی وفات پر شیدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے 2 ستمبر 2021 کو اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ موت ہر شخص کا مقدر ہے لیکن کچھ افراد کی موت زندگی کا پیغام دے کر جاتی ہے اور سید علی گیلانی کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سیّد علی گیلانی سے ان کا ذاتی تعلق تقریبا 40 سال پرانا تھا اور اس عرصے میں کئ بار ان سے ملنےاور تبادلہ خیال کرنے کا اتفاق ہوا۔ سید علی گیلانی کی زندگی کا سب سے اہم پہلو مقصدیت اور یکسوئ تھا۔ اسلام کے قیام اور فروغ کی غرض سے کشمیر کی آزادی کے لیے جس عزم اور لگن کے ساتھ انہوں نے کام کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے قید و بند او صعوبتیں برداشت کیں، دس سال جیلوں میں گزارے، ، اور بالآخر نظر بندی کے دوران ایک سیاسی محاظ پر جان دی۔

پروفیسر خورشید کا کہنا تھا کہ جس طرح سیّد علی گیلانی نے مقصدیت کے ساتھ جدوجہد، استقامت، قربانی، اور صبر کا مظاہرہ  کیا اور ہندوستان کے تسلط کا سامنا کیا اس لحاظ سے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کشمیر میں ان سے بڑا لیڈر کوئ نہیں آیا۔  سید علی گیلانی اپنے خواب کو حقیقت بنتا تو نہ دیکھ سکے، لیکن جس چیز کو انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد بنایا، اس کے لیے آخری دم تک جدوجہد کی، قربانیاں دی،  اور کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا۔

پروفیسر خورشید نے کہا کہ میری دعا ہے کہ  اللہ تعالیٰ انکو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے، جنت کا بلند ترین مقام عطا فرمائے، ان کے جانے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اس کے پُر کرنے کا کوئ سامان پیدا کرےاور جو خواب انہوں نے دیکھے ان کی حقیقی تعبیر عطا فرمائے۔