صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - سیمینار آئی پی ایس کے مطالعہ ’اسلامک سوشل فنانس فار سوشل پروٹیکشن‘ کی افتتاحی میٹنگ English
آئی پی ایس کے مطالعہ ’اسلامک سوشل فنانس فار سوشل پروٹیکشن‘ کی افتتاحی میٹنگ چھاپیے ای میل

 IPS PR 26122021

اسلامی فلاحی ماڈل پر مبنی سماجی تحفظ کی پالیسی پر کام کرنے کے لیے آئی پی ایس میں اسٹڈی گروپ

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس )کے ذریعہ تشکیل دیا گیا متعلقہ ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز کا ایک مطالعاتی گروپ – اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی )کے تعاون سے – پائیدار سماجی تحفظ کے لیے ایک مؤثر اسلامی سماجی مالیاتی ماڈل تیار کرنے میں مدد کرے گا جو  پاکستان میں ایک اسلامی فلاحی ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکے۔

اس ضمن میں ایک سال کے وسیع مطالعہ سے وفاقی، صوبائی اور مقامی سطحوں کے لیے ٹھوس پالیسی سفارشات اور قانون سازی کے لیے مسودے کی تشکیل مکمل ہو گی۔

24دسمبر 2021 کو ’اسلامک سوشل فنانس فار سوشل پروٹیکشن ‘کے عنوان سے منصوبے کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا جس کی مشترکہ صدارت ڈاکٹر اکرام الحق یٰسین، سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) اور ڈاکٹر محمد طاہر منصوری ، سابق نائب صدر، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے کی۔

اجلاس کے مرکزی مقررین  میں آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمٰن، انڈونیشیا کے صدر کے مشیر برائے وقف ڈاکٹر ایچ ہینڈری تنجنگ،  پروجیکٹ کے پرنسپل انویسٹی گیٹر اور اسسٹنٹ پروفیسر(ایس زی اے بی آئی ایس ٹی، کراچی) ڈاکٹر سلمان احمد شیخ،  اور مصطفٰی خان، تکنیکی مشیرجی آئی زی (Deutsche Gesellschaft für Internationale Zusammenarbeit) نے خطاب کیا۔

اجلاس کے نمایاں شرکاء میں عمر مصطفی انصاری، سیکرٹری جنرل، اکاؤنٹنگ اینڈ آڈیٹنگ آرگنائزیشن فار اسلامک فنانشل انسٹی ٹیوشنز  (اے اے او آئی ایف آئی) بحرین؛  سید ابو احمد عاکف، ممبر، پرائم منسٹر انسپکشن کمیشن اور سابق وفاقی سیکرٹری؛  ڈاکٹر عبدالصبور، ڈین، پی ایم اے ایس، ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی، راولپنڈی؛ عظیم پیرانی، سی ای او، پاک قطر تکافل؛  ڈاکٹر نذیر احمد وید، اخوت فاؤنڈیشن؛  قنیت خلیل اللہ، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور اقتصادی تجزیہ کار؛ مفتی غلام مجید، سینئر ریسرچ آفیسر، سی آئی آئی؛ ڈاکٹر انور شاہ، ایسوسی ایٹ پروفیسر ، قائداعظم یونیورسٹی ، اسلام آباد؛ غزالہ غالب، پی ایچ ڈی سکالر اور لیکچرر، آئی آئی یو آئی؛ نمیر حسن مدنی، الخدمت فاؤنڈیشن اور خیبر پختونخوا اور پنجاب کے زکوٰۃ و عشر کے محکموں کے عہدیداران شامل تھے۔

ڈاکٹر ہینڈری، جنہوں نے انڈونیشیا سے آن لائن میٹنگ سے خطاب کیا،نے شرکاء کو ان منفرد اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جو انڈونیشیا کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے ہیں کہ لوگوں سے جمع ہونے والے خیراتی فنڈز کو غریب اور نادار ہم وطنوں کے فائدہ کے لیے استعمال کیا جائے۔

ڈاکٹر اکرام نے پروجیکٹ ٹیم کو مشورہ دیا کہ وہ اسلامی فلاحی ریاست کے لیے سماجی تحفظ کا ماڈل وضع کرتے وقت اعتماد کے عنصر کو ذہن میں رکھیں۔ انہوں نے موجودہ حالات میں زکوٰۃ اور عشر کی ادائیگی میں اجتہاد  کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

اس کے علاوہ اس بحث میں، کسی علاقے میں زکوٰۃ و عشر کی وصولی میں مساجد کے کردار، خیراتی رقم کی وصولی ، تقسیم میں ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال اور موجودہ سماجی و اقتصادی حالات میں زکوٰۃ وصول کرنے والوں کی اہلیت کی ازسر نو وضاحت کرنے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔