آئ پی ایس کی نیشنل اکیڈمک کونسل کا سالانہ اجلاس [2022] چھاپیے

2022-09-20-IPS-National-Academic-Council-Meeting-1

کمزورطرزِ حکومت ، اقربا پروری اور کرپشن ملکی ترقی کی راہ میں بڑی  رکاوٹیں ہیں۔ ماہرین

 ملک بھر سے مختلف شعبہ ہائے زندگی ، خصوصا اعلٰی تعلیم سے وابستہ ماہرین کے مطابق پاکستان کو ہر سطح پر ابتر اور کمزورطرزِ حکومت،  اہم  قومی مسائل پر عدم اتفاقِ رائے، راست پالیسیوں کی تشکیل اور ان پرعمل درآمد کے معاملات میں شدید بحران کا  سامنا ہے۔

  ان خیالات کا اظہار ماہرین  نے17 ستمبر 2022 کوانسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اسلام آباد کی نیشنل اکیڈمک کونسل (این اے سی) کے سالانہ اجلاس  کے دوران  خطاب کرتے ہوئے کیا۔  اس سالانہ اجلاس کا مقصد آئی پی ایس کی تحقیقی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کے لیے ملکی  ماہرین اور دانشوروں سے فکری رہنمائی حاصل کرنا ہے ۔

آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمٰن کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والے اس اجلاس سے ڈاکٹر سید جنید زیدی، سابق ریکٹر کامسیٹس؛ ایمبیسیڈر (ر) شمشاد احمد خان، سابق سیکرٹری  خارجہ؛ سید ابو احمد عاکف، سابق وفاقی  سیکرٹری؛ ڈاکٹر سید طاہر حجازی، سابق وائس چانسلر ؛ ڈاکٹر وقار مسعود خان ،سابق وفاقی سیکرٹری خزانہ؛ ڈاکٹر انوار الحسن گیلانی، سابق وائس چانسلر ؛ مرزا حامد حسن، سابق وفاقی سیکرٹری ،پانی و بجلی؛ ایمبیسیڈر (ر) سید ابرار حسین، وائس چیئرمین آئی پی ایس؛   ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی، ڈائریکٹرعبدالصمد خان اچکزئی شہید، یونیورسٹی آف بلوچستان؛ ڈاکٹر عدنان سرور خان، سابق ڈین، سوشل سائنسز، پشاور یونیورسٹی؛ ڈاکٹر نورین سحر، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور چیئرپرسن، شعبہ بشریات، بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد  اور  ڈاکٹر نوید بٹ نے خطاب کیا۔

مقررین نے قومی اہمیت کے اُن پہلوؤں پر روشنی ڈالی جنہوں نے پاکستان کی ترقی کی صلاحیت کو بری طرح سے متاثر کیا  ہواہے اورجن کا حل فکری اور پالیسی کی سطح پر کھوج لگانے سے ہی ممکن ہے۔  تقریباً تمام مقررین  نے اس بات کی تائید کی کہ  ان مسائل کی بنیادی وجہ طرزِحکمرانی  کا اچھا  نہ ہونا ہے۔ حکومت کے پاس نہ صرف سیلاب جیسی قدرتی آفات اورسیاسی و اقتصادی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے بلکہ اس کے ادارہ جاتی فیصلوں اور پالیسی سازی کی سوچ میں جمہوریت کے جوہر کا بھی فقدان ہے۔ 

شمشاد احمد خان نے توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی انحصار، بدعنوانی اور ناقص فیصلے  خراب حکمرانی کا سبب ہیں، جو طویل مدت سے ملک وقوم کی خودمختاری کی راہ میں مسلسل رکاوٹ ہیں ۔ خالد رحمٰن نے کہا کہ پالیسی کے حوالہ سے معاشرے اور قوم میں کافی ابہام  موجودہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ترقی کے لیے کی جانے والی قومی کوششیں اور پالیسی پر بحث کئی ایک عوامل کی وجہ سے ایک ہی سمت میں نہیں ہیں۔ ایسا ہی ایک عنصروہ بھرپور لابنگ ہے جو پالیسی اور پالیسی سازی کے پورے فریم ورک کو چیلنج کررہی ہے۔ اس کے علاوہ، غیر ملکی اسپانسر شپ بھی اوچھے ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے قومی ٹیلنٹ کو خریدنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے، جس کا مقابلہ  قوم کو مل کر کرنا چاہیے۔

سید عاکف  نے کہا کہ پالیسی سازی اوراس پر عمل درآمد میں قومی مقاصد کی عدم پاسداری کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان بحران کی لپیٹ میں آچکا ہے، جبکہ وہ اسی لمحے بدعنوانی اور اقربا پروری کا بھی شکار ہے۔ 

نورین سحر نے مفاد پرست گروہوں اور اقربا پروری کوان اہم وجوہات میں شامل کیا جن کے نتیجے میں قومی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے حکومتی اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے تقرر کے لیے مہارت اور میرٹ پر بھرپور زور دیا۔ 

شرکاء نے ابھرتے ہوئے چیلنجوں، ماحولیاتی تبدیلیوں، سماجی مسائل، تعلیمی اصلاحات اور تکنیکی ایجادات جیسے عوامل کی ترقی  کے لیےکام کرنے پر توجہ دلائی۔

مقررین نے کہا کہ حالیہ دنوں میں موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ سیلاب جیسی آفات کی صورت میں ظاہر ہوا ہے، تاہم ابھی تک اس پرقومی اتفاق رائے اور آگاہی کا فقدان ہے۔

رؤف رفیقی نے کہا کہ ملک کو تعلیمی اصلاحات اور ایک متوازن نقطۂ نظر کی بھی ضرورت ہے جو تعلیم کے تمام خطوط کو مربوط کرے۔

حامد حسن نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ قومی سیاسی و اقتصادی بحران اور بین الاقوامی عوامل بھی چیلنجز میں اپناحصہ ڈالتے ہیں۔ تاہم، یہ  دوسری طرف مواقع بھی فراہم کرتے ہیں جن سے بروقت اور درست فیصلوں کی مدد سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

طاہر حجازی نے طرزِ حکمرانی پر تحقیق کو فروغ دینے کے لیے آئی پی ایس کی کوششوں کو سراہا اوریہ تحویز دی کہ انسٹی ٹیوٹ ان مسائل کے حل کے لیے پلاننگ کمیشن، متعلقہ وزارتوں اور جامعات کو اپنے کام میں شامل کرے۔

 عدنان سرور نے قومی مقاصد کے حقیقی نفاذ کے لیے پالیسی سازوں کے ساتھ تحقیقی کام اور نتائج کو مربوط کرنے کی اہمیت کی نشاندہی کی۔

2022-09-20-IPS-National-Academic-Council-Meeting-2