صفحہ اول بین الاقوامی تعلقات - عالمگیر معاملات جنگ- سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ: اسرائیل کی عسکری نفسیات English
جنگ- سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ: اسرائیل کی عسکری نفسیات چھاپیے ای میل

تعارف

اسرائیل میں عسکری معاشرے کےارتقاء اورسیاسی مقاصد کےحصول کےلیےطاقت کےاستعمال کےرجحان کو سمجھنےکےلیےاسرائیل کےقیام سے پہلےرونما ہونےوالےان واقعات کا تجزیہ مفید ہو گاجو موجودہ اسرائیل کی عسکری و معاشرتی نفسیات کی تخلیق کا باعث بنے۔

فلسطین کی مختصر یہودی آبادی کا عثمانیہ سلطنت کےخلاف در پردہ عسکری محاذ بنانےسےلےکر صیہونی تحریک کی قیام اسرائیل کےلیےجنگ تک متعدد ایسےواقعات ہیں جن کا مطالعہ تنازعہ فلسطین کےحوالےسےعسکری طاقت کےاستعمال کی اہمیت کو واضح کرنےمیں مدددےسکتا ہے۔ اس تحقیقی مطالعہ سےچند اہم سوالات کےجوابات بھی حاصل ہو سکتےہیں مثلاًیہ کہ:کیا خطہ فلسطین میں بسنےوالےیہودی فلسطینیوں کےتشدد کا شکار تھے؟ کیا یہودی عسکری صلاحیت کا حصول اوراستعمال بنیادی طور پر دفاعی تھا؟ اورکیا جنگ کا اسرائیلی قومی پالیسی کا لازمی جزوبن جانا ردعمل کی بناء پر تھا؟

عسکری تسلط،ب الخصوص فلسطین پر صیہونی قبضے، کےمطالعہ سےپتا چلتا ہےکہ جو قومیں مقامی آبادی کو بےدخل کر کےوجود میں آتی ہیں و ہ سیاسی، تزویراتی، معاشی، سماجی اورنظریاتی مقاصد کےلیےتشدد کو ذریعہ کےطورپر استعمال کرنےپر نسبتاً زیادہ مائل ہوتی ہیں۔مقامی آبادی کا جبراً انخلاء فوراً خاص قسم کےحالات کو جنم دیتا ہےجس میں نقصان اٹھانےوالا نقصان پہنچانےوالےمیں تبدیل ہوجاتا ہے۔ تشدد کا یہ سلسلہ قبضہ کےنتیجےمیں قائم ہونےوالےاورمقبوضہ معاشرہ ،دونوں میں خوف کو جنم دیتا ہےجس کےباعث دونوں قومیں اپنےجان و مال کےتحفظ کےلیے ہمہ وقت ہوشیار رہتی ہیں اورنتیجتاً ایک دوسرے پر دسترس حاصل کرنےکےلیےجنگ کرنےکا مشکل فیصلہ آسان بن جاتا ہے۔

عرب اکثریتی فلسطین میں یہودی ریاست کےقیام کےنظریہ کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہےکہ طاقت کےاستعمال کا اخلاقی جواز مذہبی نظریات اورآسمانی کتب سےاخذ کیا جاتا ہےجس سےایک ارضی تنازعہ یہ ثابت کرنےکی جدوجہد میں تبدیل ہوجاتا ہےکہ ’’آیا فرمانِ الہٰی حق ہے۔‘‘اس طرح ایک معاملہ جو دنیا کےکسی بھی خطےمیں ایک خالصتاً سیاسی مسئلہ ہو سکتا ہے،قوم یہودکےوطن کےقیام کےسلسلےمیں ایک نظریاتی جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہےجس کےحق میں مغرب سےبالعموم اور ریاست ہائےمتحدہ امریکہ سےبالخصوص ’’انتہائی دائیں باز کےنظریہ پرست" کھچےچلےآتےہیں یہاں تک کہ ’’مشترکہ یہودی و نصرانی روایات‘‘کی پاسداری کےلیےوہ ’’فلسطین میں یہودی ریاست کی دیکھ بھال اوراس کےپھیلاؤ کی ذمہ داری‘‘اٹھانا باعثِ افتخارسمجھتےہیں۔

اسرائیل کا’’برتری حاصل کرنے‘‘اور’’دشمن کو کلی طور پر مطیع بنانے‘‘کےلیے’’مقتولین کی تعداد کی پرواکیےبغیر طاقت کےبےدریغ استعمال‘‘کےلیےتیار رہنا اسی پس منظرمیں ہےاوراسی بناء پر اسرائیلی عسکری نفسیات کےارتقائی عمل کو سمجھنا،اسرائیل کی بقاء اورپھیلاؤ میں جنگ کی اہمیت اوریہودی عسکری گروہوں کو دنیا کی طاقتور عسکری قوت بنانےمیں بڑی طاقتوں کےکردار کاجائزہ لینا مزید اہم ہوجاتا ہے۔

اسرائیل کی عسکری نفسیات کا ارتقاء

فلسطین قبل از جنگ عظیم اوّل:بیسویں صدی کےآغاز میں فلسطین میں بہت سےیہودی عسکری گروہ سیاسی مقاصد کےحصول کےلیےبننا شروع ہوئے۔ ان غیر قانونی عسکری گروہوں کا مقصد یہودی نو آبادیوں کو رضا کارانہ بنیادوں پر حفاظت فراہم کرنا تھا اور ان کی معاونت ’’قومی یہودی فنڈ‘‘کےذریعےکی گئی۔ صیہونی رہنماؤں کو احساس تھا کہ مربوط اور منظم آباد کاری کی تحریک کےلیےمالی معاونت انتہائی اہمیت کی حامل ہےجس سےدنیا بھر  میں بکھرےہوئےیہودیوں کو فلسطین منتقل کرنا اور نو آباد کار معاشرہ قائم کرنا نسبتاًآسان بنا یا جا سکتا ہے۔

اگرچہ صیہونی تنظیم اپنےمنصوبےکےلیےمغربی طاقتوں کی حمایت حاصل کرنےمیں سرگرم عمل تھی لیکن وہ اس حقیقت سےبےخبر نہیں تھی کہ نوےفیصد سےزائد عرب آبادی والےملک میں بڑےپیمانےپر یہودیوں کی منتقلی اورفلسطین میں نو آبادیوں کےقیام سےکس قسم کےمضمرات جنم لیں گے۔بادی النظرمیں اس تحریک کےنتیجےمیں اٹھنےوالا سب سےاہم مسئلہ دو مختلف نظریات کی حامل قوموں کےمابین پُر تشدد ٹکراؤ کا خدشہ تھا جو زمینی حقائق کی روشنی میں مستقبل قریب میں ہی اٹھتا نظر آ رہا تھا۔ چنانچہ صیہونیوں نےچھوٹےچھوٹےیہودی عسکری گروہوں کو منظم کر کےایک مربوط یہودی فوج کی تشکیل کےلیےکوششیں تیز کر دیں۔ ان کوششوں نےفلسطین میں یہودی قوم کے’’ایک خاص (نہ کہ منفرد) قسم کےعسکری معاشرے‘‘کی بنیاد رکھی۔ ’’۔۔۔یہ ’شہری عسکریت‘ نہ صرف ایک ثقافتی ضابطہ کی حیثیت رکھتی ہےبلکہ ایک ایسےتنظیمی اصول کےطور پر دیکھی جا سکتی ہےجس کی بنیادپر اسرائیلی معاشرےکا یک بڑا طبقہ منظم کیا گیا۔‘‘

 سیاسی محاذ پر صیہونی تنظیم کافلسطین کےحوالےسےمنصوبہ برطانوی سلطنت کی استعماری حکمت ِعملی اور مذہبی خواہشات کی تکمیل کےعین مطابق نظر آ رہا تھا جس کےذریعےتاج ِبرطانیہ عثمانیہ سلطنت کےزیرِانتظام مشرقِ وسطیٰ کےاہم تجارتی اور توانائی کی ترسیل کےراستوں اور فلسطین کےمقدس علاقوں تک اپنی سلطنت کو پھیلانا چاہتا تھا۔ چنانچہ پہلی جنگِ عظیم کےدوران’’برطانوی اور صیہونی تعلقات کی ۱۹۱۷ء کی تاریخ ان دوگروہوں کےاشتراک کی تاریخ کےطور پر دیکھی جا سکتی ہےجس میں دونوں ہی اپنےاپنےمقاصد کےحصول کےلیےفلسطین پر برطانوی راج چاہتےتھے۔‘‘یہودیوں کو اس اشتراک کےنتیجہ میں تو قع تھی کہ “فلسطین میں یہودی ریاست قائم کرنےکا خواب ”پورا ہو سکتا تھا اور “برطانیہ سمجھتا تھا کہ نہرسوئنر کےمشرقی حصےمیں ممنون یہودی آبادی ان کی مددگار ثابت ہو گی۔”اس طرح صیہونی۔برطانوی اشتراک فلسطین میں کسی عالمی طاقت کا صیہونی منصوبہ کی معاونت کرنےکانقطۂ آغاز کہا جا سکتا ہے۔ سلطنت برطانیہ نےچالاکی کا مظاہرہ کرتےہوئےاس موقع پر دوہرا کھیل کھیلا:  ایک طرف اس نےعربوں سےعرب ریاستوں پر مشتمل وفاق کےقیام کا وعدہ کیا جس میں عربوں کو یقین دلایا گیا کہ برطانیہ انھیں عثمانیہ سلطنت سےآزادی حاصل کرنےمیں مدد دےگا اور جتنےعلاقےعرب آزاد کروائیں گےان پر عربوں کو حقِ حکمرانی حاصل ہو گا۔  دوسری طرف ’’یہودیوں سےبالفور معاہدہ کےتحت فلسطین میں یہودی مہاجرت اور نو آبادیوں کےقیام کا حق تسلیم کرنےکا پیمان باندھا گیا۔‘‘ بالفورمعاہدہ پہلا با ضابطہ ضمانت نامہ تھا جس میں’ قومِ یہود کا وطن‘ باقاعدہ طور پر لکھا گیا۔

یہودی عسکریت پسندوں نےپہلی جنگ عظیم کےدوران اپنےحصےکا کر د ارادا کرتےہوئےسلطنت عثمانیہ اور جرمن فوجوں کےحوالےسےجاسوسی کا کام سرانجام دیا۔ اس دور میں مشرقِ وسطیٰ کےمیدان جنگ میں صف آراء برطانوی فوج کےتعاون سےپہلےباقاعدہ یہودی فوجی دستےقائم کیےگئےجن میں فلسطین،برطانیہ،امریکہ اور دوسرے ممالک کےیہودیوں کو رضا کارانہ یا معاوضہ کےتحت بھرتی کیا گیا اور یہودی نوجوانوں کو منظم عسکری تربیت اور تنظیم سازی کا تجربہ حاصل کرنےکا موقع فراہم کیا گیا۔اس کےساتھ ساتھ انہیں فوجی سازوسامان جمع کرنےکا موقع ہاتھ آیا جو بعد کےدور میں یہودی عسکریت پسندوں کےلیےنہایت مفید ثابت ہوا۔ ان یہودی فوجی دستوں کےقیام سےصیہونی رہنماؤں کےطاقت کےحصول سےمتعلق مستعدانہ طرزِعمل کی طرف اشارہ ملتا ہےجسےوہ سیاسی مقاصد کےحصول اور دشمن پر دسترس حاصل کرنےکےلیےایک مفید آلہ کار کےطور پر استعمال کرنا ضروری سمجھتےتھے۔

ایسےموقع پر جب کہ صیہونی ۔ برطانوی گٹھ جوڑخفیہ طور پر پروان چڑھ رہا تھا،اتحادی فوجوں کےہم رکاب ترکوں کےخلاف لڑنےوالےعرب رہنماؤں نےغلط فہمی کی بنیاد پر یہ یقین کر لیا تھا کہ عرب علاقوں پر عربوں کی حکمرانی کےبرطانوی وعدہ میں فلسطین بھی شامل ہو گا۔ تاہم۱۹۱۹ء کی امن کانفرنس میں جنگِ عظیم اوّل میں حاصل ہونےوالی کامیابی پر مہر تصدیق ثبت کرتےہوئےبرطانیہ نےفرانس سےایک معاہدہ کیا جس کےتحت فلسطین اورمو صل پر برطانیہ کا حق تولیت اور ملک شام کےعلاقہ پر فرانس کی تولیت تسلیم کر لی گئی۔ نتیجتاًاپریل۱۹۲۰ء میں برطانوی فوجوں کےشام سےانخلاء پر فرانس نےشام میں اپنی فوج داخل کر دی اور شامی حکمران شاہ فیصل اول کی فوجوں کو وہاں سےبےدخل کر دیا گیا۔ شاہ فیصل نےجسےبرطانیہ نےشام پر حکومت قائم کرنےمیں مدددی تھی جنوری۱۹۲۱ء میں برطانوی دفتر خارجہ میں اپیل کی اور یہ موقف اختیار کیا کہ فلسطین کا علاقہ نوآزاد عرب علاقوں کا حصہ ہے۔ “شاہ فیصل کا یہ مؤقف عربوں کا فلسطین سےمتعلق وہ دعویٰ ہےجسےبرطانیہ نےاس وقت اور بعد ازاں بھی ماننےسےانکار کر دیا۔”

بالفور معاہدہ کےتخلیق کار’ آرتھر بالفور‘ نےتنازعہ فلسطین کےحوالےسےبرطانوی پالیسی کو واضح کرتےہوئےکہا ’’فلسطین میں صیہونیت کی حفاظت برطانیہ کی واضح پالیسی ہے... ترقی،ہر قسم کےصنعتی منصوبےاور مالی معاونت کا انحصار اسی اصول پر ہو گا کہ فلسطین میں صیہونی مقرب ترین قوم ہے... فلسطین میں کسی قسم کےاستصواب رائےمیں دنیا بھر کےیہودیوں سےرائےلی جائےگی۔‘‘

بعد ازاں پیش آنےوالےواقعات نےلارڈ آئی لِنگٹن کےخدشات کو درست ثابت کیا جنھوں نےفلسطین کی صورتحال کا باریک بینی سےجائزہ لینےکےبعد صیہونیت کی وفادار حکومتوں کو خبردار کیا تھا کہ’’(فلسطین پربرطانوی) تولیت تاج برطانیہ پر ایک ایسےعلاقہ میں صیہونیوں کی سیاسی بالادستی قائم کرنےکی ذمہ داری عائد کرتا ہےجہاں نوےفیصد آبادی غیر صیہونی اور غیر یہودی ہے...ایک اجنبی بدیسی نسل کو مقامی آبادی کےدرمیان لا کر آباد کرنےکا منصوبہ اس دور میں نموپذیر رجحانات میں سےسب سےزیادہ خطرناک ہے۔ یہ ایک غیر منطقی اور غیرفطری تجربہ ہے۔... یہ منصوبہ حقیقی طور پر ایک بڑی تباہی کا مثردہ ہے۔‘‘

فلسطین بعد از جنگِ عظیم اوّل:  حقیقتاً تباہی اس خطےکےلیےبعد ازاں روز مرہ کا معمول ثابت ہوا۔ عربوں اور یہودیوں کےمابین خلش شاہ فیصل اور اس کی افواج کےدمشق سےبےدخل ہونےپر واضح طور پر ابھر کر سامنےآ گئی کیونکہ فلسطینی عربوں کو یقین ہو گیا کہ برطانوی حکومت فلسطین کی مقامی اکثریتی آبادی کی خواہشات کو ملحوظ رکھنےمیں قطعی سنجیدہ نہیں تھی۔ستم بالاےستم برطانوی حکومت نےایک برطانوی یہودی ہر بر سیموئیل کو فلسطین میں اپنا نمائندہ (ہائی کمشنر) مقرر کر دیا اور صیہونی کمیشن نےفلسطین میں ایک پر جوش مظاہرہ کیا جسےیہودی اخبارات نےفلسطین میں یہودی بالادستی سےتعبیر کیا۔ ساری دنیا سےیہودی مہاجر اور آباد کار بڑی تعداد میں امن کانفرنس کےبعد فلسطین میں منتقل ہونا شروع ہوگئےاور انہیں بالفور معاہدہ میں یہودیوں سےکیےگئےوعدےاور برطانوی تولیت پر عائد کی گئی ذمہ داری کےمطابق مدد فراہم کی گئی۔ فلسطینیوں کےخدشات اس وقت مزید بڑھ گئےجب ۱۹۲۱ء میں یومِ نبی موسیٰ کےتہوار پر یہودیوں کا دیوار گریہ پر اجتماع ہوا۔ اس کےعلاوہ سن۱۹۲۰ء سےیہودیوں کی طرف سےکی جانےوالی ہتھیاروں کی سمگلنگ  فلسطینیوں کےلیےایک مستقل پریشانی کا باعث تھی جس کی شدت اس وقت مزید بڑھ گئی جب ۱۹۲۱ء میں حیفہ میں عرب مزدوروں نےزرعی اور تعمیراتی سامان میں یہودی عسکریت پسندوں کےلیےچھپا کر لایا گیا اسلحہ برآمد کیا۔

ان تمام عوامل نےیہ مضبوط تاثر پید ا کر دیا کہ عربوں کی اکثریت کو بتدریج اقلیت میں تبدیل کرنےکےخفیہ منصوبےپر عمل کیا جا رہا ہے۔چنانچہ اس پیدا ہوتی نئی صورتِ حال پرعربوں نےشدید احتجاج کئےجس کا مقابلہ یہودیوں نےطاقت کےاستعمال سےکیا۔طاقت کےاس استعمال کادائرہ اوراس میں پیچیدہ ہتھیاروں کےاستعمال کی شدت اس قدر بڑھ گئی کہ فلسطین میں موجود برطانوی عسکری قیادت حکومت برطانیہ کو لکھنےپر مجبور ہوگئی کہ’’ یہودیوں کو دی جانےوالی مراعات کےباعث غیر یہودی آبادی ہماری جانبداری کی قطعی طور پر قائل ہوگئی ہے۔‘‘ فروری۱۹۲۱ء میں فلسطین میں انےوالےبرطانوی تحقیقاتی کمیشن نےبھی اس اضطراب کو بیان کرتےہوئےلکھا کہ یہ “عام فساد نہیں”۔

معاملےکی نزاکت اور حالات کےبےقابو ہونےکےخطرےکو بھانپتےہوئےتاجِ برطانیہ نےقرطاسِ ابیض(White Paper) میں اپنی پالیسی کا اعلان کیا جس میں عربوں اور یہودیوں کےساتھ معاملات میں توازن قائم کرنےاور مشترکہ حکومت کےقیام کا عندیہ دیا گیا تھا۔ تاہم فلسطینیوں نےفوری طور پر قومی حکومت قائم کرنےکا مطالبہ پیش کر دیا کیونکہ ان کےنزدیک قرطاسِ ابیض کا مطلب یہ تھا کہ ’’مشترکہ حکومت ایسےموقع پر قائم کی جائےگی جب یہودی آبادی تعداد اور قوت کےاعتبار سےاتنی زیادہ ہوجائےگی کہ ایسی حکومت کا کلی فائدہ صرف یہودیوں کو حاصل ہو گا اور اس سےپہلےایسی حکومت کا قیام نظر نہیں اتا تھا‘‘۔

اس صورتِ حال نےصیہونیوں اور فلسطین میں موجود برطانوی انتظامیہ کےاس یقین کو مزید پختہ کر دیا کہ لاکھوں یہودیوں کی فلسطین میں منتقلی اور آباد کاری مقامی آبادی کی طرف سےہونےوالی زبردست مزاحمت کا سامنا کیےبغیر ممکن نہ ہو گی۔ نتیجتاًمقامی یہودی آبادی اور صیہونی تنظیم نےاس مزاحمت کےمقابلہ کےلئےاپنےعسکری دستوں کو مزید مضبوط کرنا شروع کر دیا۔ بےشمار چھوٹےچھوٹےدہشت گرد گروہوں کےعلاوہ برطانوی انتظامیہ کےتعاون سےچند منظم اور کلیدی عسکری تنظیمیں قائم کی گئیں جن میں قابلِ ذکر نام ہاشومیر،ارغون ژوائی لومی (جوارگن کےنام سےبھی جانی جاتی ہے)،لیحی (جو سٹرن گینگ کےنام سےمشہور ہوئی) اور ہاغانا(جو بعد میں اسرائیلی دفاعی فوج میں تبدیل ہوگئی) ہیں۔ اگرچہ اس وقت تک یہ تنظیمیں کسی مشترکہ کمان کےتحت نہیں تھیں اور انہوں نےاسرائیل کےقیام تک اپنی اپنی الگ حیثیت اور تخریبی کار روائیاں برقرار رکھیں،تاہم مختلف دہشت گرد کار روائیوں میں یہ نہ صرف ایک دوسرےکےساتھ تعاون کرتی نظر آتیں بلکہ منظم اور بڑے معرکوں کےلیےایک دوسرےکےساتھ مل کر مشترکہ کار روائیاں بھی کرتیں۔

ان عسکری تنظیموں نےیہودیوں کےمفاد میں چنےگئےعلاقوں سےعربوں کوبےدخل کرنےاور صفِ اوّل کی صیہونی نو آبادیوں کی حفاظت کےلیےجارحانہ لڑائی کی حکمتِ عملی تشکیل دی۔ انہیں سیاسی و تزویراتی مقاصد  یعنی اقتصادی افادیت،مقامی دفاعی ضروریات،آبادکاری کےحوالےسےمجموعی منصوبہ بندی جس کا مقصد ملک کےفیصلہ کن سیاسی حل کو سامنےرکھتےہوئےتمام اہم علاقوں میں یہودیوں کی سیاسی موجودگی کو مستقبل کےحوالےسےصیہونی خواہشات کو عملی جامہ پہنانےکےلیےیقینی بنانا تھا،اور بالآخر حتمی اور فیصلہ کن جنگ کی صورت میں عمارتی ڈھانچوں پر مشتمل نو آبادیوں کےکردار کو سامنےرکھتےہوئےمنظم کیا گیا۔

 اس مجموعی حکمتِ عملی کےذیل میں دور دراز علاقوں میں انفرادی یا چھوٹےچھوٹےمجموعوں کی صورت میں نوآبادیاں قائم کی گئیں جو’’جغرافیائی طورپر دور،مختلف علاقوں کےدرمیان خاص زمینی رکاوٹوں اور آبادیاتی اعداد و شمار کی غیر یکسانیت کےاعتبار سےایک دوسرےسےعلیحدہ لیکن متوقع یہودی ریاست کی سیاسی حدود کےقریب تھیں۔ اس امر کو بھی یقینی بنایا گیا کہ ہر نو آبادی ہاغاناکےلیےحصار بند قلعہ کےطورپر کردار ادا کرنےکےقابل ہو۔ اس کےلئےصرف اقتصادی اور زرعی منصوبہ بندی کافی نہیں تھی چنانچہ عسکری منصوبہ بندی اور انتظامات کو بھی ساتھ لےکر چلنا ضروری سمجھا گیا اور اسےیقینی بنایا گیا کہ بجٹ ’تلوار اور کھیتی باڑی ‘دونوں کی ضرورت پوری کرے۔‘‘

اس دوران یہودی آبادی ۱۹۱۷ء کی تعداد۰۰۰،۵۶(جوکہ کل آبادی کا دس فیصدتھی) سےبڑھ کر۱۹۳۱ء میں۰۰۰،۱۷۴(سترہ فیصد) تک جاپہنچی۔ بڑھتی ہوئی یہودی نقل مکانی اور نو آبادیوں کی تعداد ایک طرف فلسطین میں عربوں کےوجود کو برقرار رکھنےکےحوالےسےایک براہِ راست خطرےاور حملےکےطورپر تصور کی جا رہی تھی،اور دوسری طرف برطانوی حکومت کی پالیسیوں کےتسلسل کی طرف اشارہ تھی۔ اس رجحان نےعربوں میں شکوک و شبہات پیدا کیےجو بالآخر ان افوا ہوں کےباعث فسادات پر متنج ہوئےجن کےمطابق یہودی مسجدِاقصیٰ پر حملہ کر کےاسےمنہدم کرنےکا منصوبہ بنا رہےتھےجہاں وہ ستمبر۱۹۲۸ء میں یہودیوں کے’یومِ کفارہ‘کےموقع پر دیوارِ گریہ کےگرد اجتماع کا دھوکہ دےکر یہودہ کا’ معبدِ کوہ‘ تعمیر کرنا چاہتےتھے۔

 ’’پہلی مرتبہ فلسطین میں برطانوی ہائی کمشنرنےعربوں کےان جذبات کو ’جذبۂ قومیت ‘کانام دیا اور حکومت کو تولیت کی شقیں تبدیل کرنےکا مشورہ دیا،خصوصی طور پر ایسےنکات جن میں یہودیوں کو عربوں کےمقابلےمیں مراعات دینےاور انہیں زمین خریدنےاور یہودی مہاجرت کی اجازت دی گئی تھی۔ فلسطین سےآنےوالےان حقائق کےجواب میں وہاں پیدا ہونےوالی صورتحال کی تحقیق کےلیےجان ہوپ سمپسن کی سربراہی میں ایک شاہی کمیشن بھیجا گیا۔ اس تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کو سامنےرکھتےہوئےایک اورقرطاسِ ابیض جاری کیا گیا جس میں یہودی مہاجرت پر جزوی اور یہودیوں کو زمین بیچنےپر کلی پابندی عائد کر دی گئی۔

اس قرطاس ابیض کےشائع ہوتےہی صیہونیوں نے’’طوفان بپا کر دیا‘‘ اورسیاسی اور عسکری حربے اس شدت کےساتھ استعمال کیےگئےکہ برطانوی وزیر اعظم نےصیہونی اور صیہونیوں کےحمایتیوں کی طرف سےآنےوالےدباؤ کےسامنےہتھیار ڈال دیئے۔ اس نےیہودیوں سےوعدہ کیا کہ زمین بیچنےکےحوالےسےپابندی عارضی ہو گی اور یہودیوں کی مہاجرت پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہو گی۔

پابندیوں کا ہٹنا گویا سیلاب کےراستےسےرکاوٹ کا ہٹ جانا ثابت ہوا اور۱۹۳۰ء کی دہائی کےآغاز سےوسط دہائی تک دنیا بھر،خصوصاً مغرب سے،یہودی مہاجرین کی ایک بہت بڑی تعداد فلسطین پہنچ گئی اوراس کےساتھ ہی عرب مزاحمت کےایک نئےدورکا آغاز ہوا۔

عربوں کی یہ مزاحمت برطانوی ہائی کمشنر کےمطابق خالص جذبۂ وطنیت کی بنا پر تھی جو یہودی مخالف سےزیادہ برطانیہ مخالف تھی ۔ یہ مزاحمت اس وقت ملکی سطح پر مزید شدت اختیار کر گئی جب مغربی ممالک سےآنےوالےیہودی مہاجرین کا اسلحہ کی سمگلنگ میں ملوث ہونےکا انکشاف ہوا۔ اکتوبر۱۹۳۵ء میں جعفہ میں ایک سیمنٹ کےکنستر کےٹوٹنےپر اس میں سےسمگل شدہ اسلحہ برآمد ہوا جو فلسطین میں یہودی عسکریت پسندوں کےلیےمغربی ممالک سےلایا جا رہا تھا۔

۱۹۳۶ء کےآغاز سےہی فسادات،قتل وغارت اور صیہونی دستوں اور عرب گوریلا کےدرمیان ہونےوالی لڑائی اپنےنقطۂ عروج پر پہنچ گئی۔بتدریج قابو سےباہر ہوتی صورتحال نے۱۹۳۷ء میں انےوالےبرطانوی شاہی کمیشن (جو پیل کمیشن کےنام سےبھی جانا جاتا ہے) کو یہ لکھنےپر مجبور کر دیاکہ عرب اوریہود کےدرمیان مخاصمت ختم نہیں کی جا سکتی اورتقسیم فلسطین ہی اس مسئلےکا واحد حل ہے۔فیصلہ کن تصفیہ کےنقطۂ نظرسےزمین ہموار کرنےکےلیےعربوں کو پر امن رکھنےکی ضرورت کو محسوس کرتےہوئےبرطانوی حکومت نے۱۹۳۹ء میں تیسراقرطاس ابیض جاری کیاجس میں یہودی مہاجرت کو انتہائی محدود کرنے،یہودیوں کو دوردراز کےعلاقوں میں اباد ہونےسےروکنے،ہاغاناکوتوڑنےاورمستقبل قریب میں مشترکہ حکومت قائم کرنےجیسےاہم پالیسی نکات شامل تھے۔

کل کےاتحادی، آج کےدشمن:   صیہونی رہنماؤں نےمحسوس کیا کہ۱۹۳۹ء کا قرطاس ابیض یہودی ریاست کےقیام کی تحریک میں رکاوٹ ڈال سکتا ہےاوریہ بھی ممکن ہےکہ فلسطین سےیہودیوں کا وجود ہی ختم ہوجائے۔ اس خیال نےبرطانوی انتظامیہ کےخلاف دہشت گرد کار روائیوں کادروازہ کھولا۔ اگرچہ سالہاسال سےسرپرستی کرنےوالی طاقت کےخلاف شدت پسند کار روائیاں اخلاقیات کےاصولوں کےمنافی تھیں اورایسےاقدامات اٹھانا کمال ڈھٹائی اورمجرمانہ دلیری کےبغیر ممکن نہیں ہو سکتا تھا،تاہم صیہونیوں نےاپنےعمل سےیہ واضح کر دیا کہ عملی سیاست کےمقابلےمیں سیاسی اخلاقیات کو خاطر میں نہ لانا ہی ان کا سیاسی اصول ہے۔چنانچہ انہوں نےاس قرطاسِ ابیض کےخلاف مہم کےلیےسیاسی اورعسکری دونوں میدانوں میں مستعدی سےتیاریاں شروع کر دیں اوردہشت گرد گروہوں کی حفاظت میں غیر قانونی اسلحہ کی سمگلنگ،خفیہ مہاجرت اورممانعت والےعلاقوں میں بستیوں کی تعمیر کا عمل مزید تیز کر دیا۔اہم علاقوں میں سیاسی اورعسکری اثرو رسوخ قائم رکھنےاور نئی تعمیر شدہ آبادیوں تک پھیلانےکےلیےہاغاناکےدائرہ عمل کو پھیلا دیا گیا۔اس قسم کےپیچیدہ حالات میں عسکری تنظیموں کےاستعمال نےیہودی عسکری نفسیات اورحکمتِ عملی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔زمینی حقائق کی روشنی میں ہاغاناکی کمان نےمختلف علاقوں کی جغرافیائی خصوصیات کو سمجھنے،جامع منصوبہ بندی ،تیزرفتار عسکری نقل و حرکت کی صلاحیت حاصل کرنےاورسادہ آٹومیٹک مشین گن کےزیادہ سےزیادہ استعمال پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔

اسی موقع پر بڑےدہشت گرد گروہوں کےایک مرکزی کمان کےتحت کام کرنےکی اہمیت کو سمجھتےہوئےصیہونی رہنماؤں نےغیرقانونی سِول ہائی کمان کی بنیاد رکھی جسےقانونی طورپر تسلیم شدہ سیاسی اداروں اورچیف آف سٹاف کےزیر کمان (عسکری)جنرل سٹاف کی نگرانی میں کام کرنےکی ذمہ داری دی گئی ۔اس کا بنیادی مقصد فلسطین میں کام کرنےوالےقانونی اورغیر قانونی عسکری گروہوں کو عموماً اورہاغاناکو خصوصاً غیر فوجی سول قیادت کےزیر اطاعت لانا تھا۔

صیہونی رہنماؤں کو وسیع تر حکمتِ عملی ترتیب دینے،تنظیم سازی ،منظم عسکری منصوبہ بندی،میدان جنگ میں عسکری چالوں کی ترکیب،اورہاغاناکےلیےاسلحہ کی بروقت ترسیل اوراہتمام کرنےمیں جن بہت سےعوامل نےاہم کردار ادا کیا ان میں سےچند قابل ذکر عوامل مندرجہ ذیل ہیں:پہلی جنگ عظیم میں برطانوی فوج  کےزیرِ کمان لڑنےوالےیہودی فوجیوں کا بڑی جنگ لڑنےاورعسکری حکمتِ عملی وضع کرنےکا تجربہ ؛ فلسطین میں برسوں سےبرسرپیکاردہشت گرد گروہوں اورگوریلاجنگ کےماہر شدت پسندوں کی منظم یہودی دستوں میں شمولیت ،برطانوی فوج اورسیاسی انتظامیہ کی مدد سےقائم کی گئی ’یہودی پولیس برائےنو آبادیات‘،برطانوی کیپٹن اورڈےوِنگیٹ(جو بعد ازاں جنرل وِنگیٹ کےنام سےمشہور ہوا)کی یہودی وبرطانوی افراد پر مشتمل قائم کی گئی اسپیشل نائٹ ا سکواڈ ،اورقومی یہودی فنڈ سےخریدےگئےاورمغرب سےآنےوالےیہودی مہاجرین کےسامان میں چھپا کر لگاتار سمگل کئےجانےوالےاسلحہ اورگولہ بارود کا ذخیرہ۔ ایسی تمام عسکری تیاریوں کےباوجود صیہونی راہنما اس حقیقت سےبخوبی آگاہ تھےکہ برطانوی فوجوں کی موجودگی میں عربوں اوریہودیوں کےدرمیان بھرپور تصادم ممکن نہیں چنانچہ انھوں نےمختلف قانونی اورغیر قانونی عسکری دستےگوریلا جنگ کےلیےمنظم کر لیے۔ان دستوں کو مختلف جغرافیائی خصوصیات میں بسنےوالےدشمن کےساتھ مقابلےکےلیےتربیت دی گئی جس میں خصوصی طورپر چھاپہ مارکار روائیاں،شبخون مارنا،حملےکو پسپا کرنا،اورعسکری یا سیاسی ضرورت کےتحت سرعت کےساتھ بکھر جانا شامل ہے۔

اس کےعلاوہ یہودی اکثریتی آبادی والےدیہاتوں اورآبادیوں کو دشمن کےحملےسےمحفوظ رکھنےکےلیےخاص طور پر تیار شدہ ایسےعمارتی یونٹس کی تنصیب کی گئی جن کی خصوصیت یہ تھی کہ عام حالات میں وہ مہاجرین کےلیےرہائشی عمارتوں کا کام دیتےاورتصادم کی صورت میں ہاغاناکےلیےقلعوں اورمورچوں کی صورت میں استعمال ہو سکتےتھے۔ اس مقصد کےلیےان پر حفاظتی اورنگرانی کےنقطۂ نظر سےمینار بنایا گیا،بلٹ پروف دیواریں اورگولیاں چلانےکےلیےدرزیں بنائی گئیں۔

۱۹۳۷ء سے۱۹۳۹ء کا دور ابتدائی نوآبادیوں کےقیام اورکم محفوظ علاقوں تک عسکریت پسندوں کی رسائی کےحوالےسےعروج پہ رہا۔اس طرح پورےملک میں پھیلی یہ نو آبادیاں یہودی عسکریت پسندوں کےلیےچھاؤنیوں اورقلعوں کےطور پر دشمن پر آسانی سےحملےکرنےکےلیےتیار تھیں۔تاہم اسی دوران دوسری جنگ عظیم چھڑنےسےصیہونی تحریک کےسامنےایک نئی الجھن پیدا ہوگئی جس کا کوئی فوری حل نظر نہ آتا تھا اوروہ یہ کہ برطانیہ یہودیوں کےیورپی دشمن نازی جرمنی کےخلاف برسرِ پیکارتھا ا ورایسےموقع پر یہودیوں کی برطانیہ کےخلاف فلسطین میں لڑائی مشرقِ وسطیٰ میں عسکری لحاظ سےاہم فوجی اڈوں پر برطانیہ کی گرفت کمزورکر کےہٹلر کو فائدہ پہنچا سکتی تھی۔ لیکن اگر وہ برطانیہ کےخلاف محاذ بند کر دیں تو اسےقرطاسِ ابیض کےحوالےسےیہودیوں کی رضامندی تصور کیا جا سکتا تھا۔اس مخمصہ سےنکلنےکےلیےیہودیوں کےاہم ترین راہنما ڈیوڈ بین گوریان نےاپنی مشہور حکمتِ عملی کا اعلان کیا۔اس کا کہنا تھا ’’ہم جرمنوں سےایسےلڑیں گےجیسےقرطاسِ ابیض کا وجود ہی نہ ہو اورہم قرطاس ابیض کےخلاف ایسےبرسرِ پیکار ہوں گےجیسےکہ جرمنوں کا وجود ہی نہیں ہے۔‘‘

اس موقع پر صیہونی رہنماؤں نےیہ بھی محسوس کیا کہ فلسطین میں قومی وطن کی تحریک کی سرپرستی کےلیےانہیں کسی متبادل عالمی قیادت کی حمایت حاصل کرنا بھی ضروری ہےاوراس دور میں سب سےبہترین انتخاب ابھرتی ہوئی سپر پاور ریاست ہائےمتحدہ امریکہ کےعلاوہ اورکوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ صیہونی تحریک کےتمام اہم رہنماؤں نے، خصوصاً بین گوریان جو بعد ازاں اسرائیل کا پہلا وزیر اعظم بھی بنا،امریکی معاشرےکےتین اہم حصوں،یعنی امریکی حکومت، امریکہ میں بسنےوالےیہودیوں، اور عوام کی حمایت اور ہمدردی حاصل کرنےکےلیےزبردست مہم چلائی۔ ان کوششوں کو امریکی یہودی عوام کی فلسطین میں یہودی وطن کےقیام کی تحریک میں براہ راست شمولیت کانقطہ آغاز کہا جا سکتا ہے۔ نازیوں کےجابرانہ رویےنےامریکہ میں بسنےوالےیہودی رہنماؤں اور صیہونی گروہوں کےدلائل کو مزید تقویت دی اور ان کےحق میں رائےعامہ ہموار کرنےکا معاملہ نسبتاً آسان بنا دیا جس کےباعث امریکی حکومت پر برطانیہ کےقرطاسِ ابیض کی پالیسی کےخلاف بیان جاری کرنےکےحوالےسےخاطر خواہ دباؤبڑھ گیا۔

اس دوران ہاغانانےاگلےمورچوں پر اتحادی افواج کےشانہ بشانہ لڑنےکےلیےنو(۹) دستےتشکیل دیےجن کا کام جاسوسی کرنا بھی تھا۔اس کےعلاوہ ہزاروں کی تعداد میں یہودی نوجوانوں نےبرطانوی فوج میں براہِ راست بھرتی کےلیےاپنےآپ کو پیش کیا۔ ان تجربوں نےیہودی عسکریت پسندوں کوقوت کےحوالہ سےعدم توازن کےباوجودبڑےپیمانےپر جنگ لڑنےکا گر سیکھنےکا موقع فراہم کیا۔اس کےساتھ ساتھ انہیں یہ موقع بھی مل گیا کہ ان عسکری دستوں کو استعمال کرتےہوئےدوردراز کےفلسطینی علاقوں میں مضبوط بنیادوں پر اپنی آبادیاں قائم کریں جو مستقبل کی یہودی ریاست کی سرحدوں کا تعین کرنےمیں مدد دیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی اہم ہےکہ۱۹۳۶ء سے۱۹۴۷ء تک فلسطین میں یہودی آبادی تین لاکھ چوراسی ہزار (۲۸فی صد)سےبڑھ کر چھ لاکھ چالیس ہزار (۳۳فی صد ) تک پہنچ گئی تھی۔

دوسری جنگ عظیم کےخاتمےاور اتحادی فوجوں کی کامیابی کےبعد قانونی اور غیر قانونی عسکری دستوں نےچار محاذوں پر لڑائی کا سلسلہ شروع کیا: برطانوی فوج اور انتظامیہ کےخلاف گوریلا اور دہشت گرد کار روائیاں تاکہ ان کےاختیارات پر زد لگائی جائےاور قرطاس ابیض کی پالیسی پر عمل درآمدسےرو کا جا سکے؛ یورپ سےآنےوالےغیر قانونی تارکین کو آباد کرنا ؛پہلےسےقائم شدہ نو آبادیوں کی حفاظت کےانتظام کو مستحکم کرنا اور ممنوعہ علاقوں میں غیر قانونی نو آبادیاں قائم کرنا ؛عسکری یا مالی طور پر حاصل کیےگئےعلاقوں سےعربوں کو طاقت کےزور سےبےدخل کرنا اور عرب گوریلوں سےمقابلہ کرنا۔

اس پورےعرصےمیں ہاغاناکی عسکری لیڈر شپ نےیہ حکمتِ عملی مستقل طور پراپنائےرکھی کہ دوردراز کی نوآبادیوں پر کسی بھی صورت حال میں اپنی گرفت مضبو ط رکھی جائےجس کی بنیاد پر انہیں بھرپور تصادم کی صورت میں جارحانہ کار روائی کرنا آسان ہو اور شہروں میں بسنےوالےیہودیوں پر حملوں کےدباؤ کو کم کیا جا سکے۔ چنانچہ منصوبہ بندی کےطور پر یہودی دہشت گردگروہوں نےبرطانوی انتظامیہ کےزیرِ استعمال املاک کو دھماکوں سےاڑانے،برطانوی اہلکاروں اور فلسطینی رہنماؤں کو نشانہ بنا کر قتل کرنےاور فوجی گوداموں پر حملےکر کےاسلحہ وبارود لوٹنےکا سلسلہ جاری رکھا۔

اس کےعلاوہ یہودی آبادی سےتمام اہل مردوں اور عورتوں کو عسکری تربیت کےلیےبھرتی کیا گیا،انھیں مختلف قسم کےاسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کو استعمال کرنےکی تربیت دی گئی۔چھوٹےدستوں اور گوریلا گروہوں کومرکزی کمان کےتحت منظم کیا گیا اور برطانوی فوج میں خدمات سرانجام دینےکےبعد فلسطین آنےوالےیہودی فوجیوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر کےشامل کیا گیا۔ان تمام تیاریوں کو مکمل کرتےوقت اس بات کا خیال رکھا گیا کہ یہودی ریاست کےقیام کےلیےآخری معرکہ لڑنا پڑےیا ملکی ،علاقائی یا عالمی سطح پر کسی غیر متوقع صورتحال پیدا ہو تو یہ دستےایسےوقت کی ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔

آخری جنگ: اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین پر ہونےوالی سیاسی کشمکش کےدوران خصوصاً ۱۹۴۷ء میں عرب یہودی فسادات تشویش ناک حد تک تشدداور خون خرابےکا رنگ اختیار کر گئے۔سمگل شدہ اسلحہ سےلیس ہاغانا،سٹرن گینگ،ارغون اور چند دوسرےیہودی دہشت گرد گروہوں نےمستقبل میں متوقع یہودی ریاست کی حدود کےاندر اور باہر پہلےسےطےشدہ منصوبوں کےتحت کار روائیاں شروع کر دیں۔یہ منصوبےجارحانہ دفاع کےاصول پر مبنی تھےجن کا مقصد ’’یہودی ریاست کےعلاقوں کو اپنےتصرف میں لینا۔ ۔ ۔ دیہاتوں کو تباہ کرنا (آگ لگانا،دھماکےسےاڑانا اور ملبےمیں بارودی سرنگیں بچھانا)۔ ۔ ۔ مزاحمت کی صورت میں عربوں کےعسکری گروہوں کو تباہ کرنا اور عرب آبادی کو) یہودی) ریاست کی سرحدوں سےبےدخل کرنا تھا۔

یہی نہیں،بلکہ جو گاؤں’’۱۹۴۸ء کی جنگ کےدوران یہودی بستیوں اور فلسطینی دیہاتوں کےدرمیان ہونےوالےعدم جارحیت اوراچھی ہمسائیگی کےزبانی معاہدہ ‘‘کےتحت بھی آتےتھے،انہیں بھی تشدد کانشانہ بنایا گیا ۔خصوصاًشیخ مونس،دیر یاسین،زرنوقہ،ابو زریق ،اور قیصر یہ ایسےگاؤ ں تھےجن کےیہودی بستیوں کےساتھ ہمسائیگی کےاچھےتعلقات تھے۔ ان دیہاتوں کےفلسطینیوں کو بےدخل کیا گیا اور بےرحمی سےقتل کیا گیا۔مثال کےطور پر۹اپریل۱۹۴۸ء کو دیریاسین کے۳۰۰بچوں،عورتوں اور مردوں کا سفاکانہ قتل عام کیا گیا۔(Sacred Landscape: The Buried History of the Holy Land)کےمصنف میرون بینو ینیسٹی دل دہلا دینےوالےدہشت گردی کےان واقعات کی تفصیل یوں لکھتےہیں:

علاقےکےچند دیہاتوں کےہمسایہ یہودی بستیوں کےساتھ اچھےتعلقات قائم ہو چکےتھےیہی نہیں بلکہ انہوں نےبالادستی

تسلیم کرتےہوئےیہودی حکومت کےتحت رہنےکی بھی خواہش ظاہر کی تھی ۔اس سب کےباوجود (اور حتیٰ کےبہت سےدیہاتوں نےسرنڈر کرتےہوئےہتھیار بھی حوالےکر دیئےتھے)ان دیہاتوں کےرہنےوالوں کو اسلحہ کےزور پراور نفسیاتی حملےکر کےبےدخل کر دیا گیا۔زرنوقہ کےبڑےدیہات میں انتہائی بےرحمی کا مظاہر کیا گیا۔ ۔ ۔ اس کا اصل مقصد عرب دیہاتوں سےبدلہ لینا تھا ۔ ۔ ۔ [دستوں کےکماندار نے] اپنی پرانی ناکامیوں کاداغ دھونےاورانتقام کےجذبات سےبھر پورحکم دیا : الکابری،ام الفرج اور النہرکےدیہاتوں پر قبضہ کرنے،مردوں کو قتل کرنےاور دیہاتوں کو آگ لگانےکےلیےچڑھ دوڑو!‘‘

’’بےگھر لوگوں کےلیےبےآباد زمین‘‘میں وطن کےقیام کےلیےبپا کی جانےوالےصیہونی جنگ کےاس نازک اور اہم ترین مقام پر طاقت کےاستعمال کی حکمت عملی یہودی دہشت گرد گروہ لیحی کی طرف سےواشگاف الفاظ میں ائی جس نےاپنےکارکنوں میں یہ تحریک پیدا کی کہ وہ مارچ۱۹۴۸ء میں عربوں اوریہودیوں کےدرمیان بڑھتی ہوئی نفرت اور کشیدگی

سےزیادہ سےزیادہ فائدہ اٹھائیں۔ فلسطینی عوام پر سفاکانہ حملے لِحی کےان احکامات کی عملی تمثیل تھی :’’مہذب

رویےکی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ۔ ۔  عرب دشمن کو ایسےمقام پر ضرب لگاؤ جہاں تکلیف شدید ترین ہو ۔اور اگر وہ حیفا

میں کمزوری دکھائےتو اسےوہاں امن سےنہ رہنےدو۔اس کی تجارت تباہ کر دی جائےاور ہزاروں کی تعداد میں اس کےلوگوں کو

بھاگنےپر مجبور کر دیا جائے۔ ان کا بوجھ نابلوس،الناصرہ اور جنین کو اٹھانےدو۔‘‘ ان منصوبوں اور احکامات پر

عملدرآمد کےنتیجہ میں لاکھوں کی تعداد میں فلسطینی بےگھر کر دیئےگئے۔

سیاسی مقاصد کےحصول کےلیےتشدد کےاستعمال کی یہ حکمتِ عملی اسرائیل کی آنےوالی قیادت کو بہ حسن و خوبی

منتقل کی گئی جس کی بازگشت اسرائیلی وزرائےاعظم اور اہم رہنماؤں کےبیانات میں مسلسل سنائی دی جاتی ہے۔جیسا کہ:

’’ہم پیدل چلتےباہر جا رہےتھے،بین گوریان ہمارےساتھ تھا ۔ایلن نےاپنا سوال دہرایا کہ فلسطینی عوام کا کیا کرنا ہے۔بین گوریان نےہاتھ کی حرکت سےجواب دیا،انہیں دھکےدےکر نکال دو۔‘‘یتزک رابن،سابق اسرائیلی وزیر اعظم ۲۳اکتوبر،۱۹۷۹ء

’’ہم پہاڑکی اِن بلندیوں سےاور ہزاروں سال کی تاریخ کےتناظر میں ان (فلسطینوں) سےکہتےہیں کہ وہ ہمارےمقابلےمیں ٹڈوں کی مانند ہیں۔ ۔ ۔  جو بھی اس قلعہ یا دوسرےقلعوں کو جو ہم قائم کر رہےہیں نقصان پہنچانےکی کوشش کرےگا اس کا سر دیواروں اور چٹانوں پر مار مار کر کچل دیا جائےگا۔‘‘

یتزک شمیر، سابق اسرائیلی وزیراعظم

یکم اپریل ،۱۹۸۸ء

’’ہم میں سےہرایک کو حرکت کرنی پڑےگی،دوڑنا ہو گا اور جتنا ممکن ہو سکےیہودی بستیوں کو بڑھانےکےلیےفلسطینیوں کی زمینوں اورچٹانوں پر قبضہ کرنا ہو گا کیونکہ ہم اِس وقت جو کچھ ہتھیا لیں گےوہ ہمیشہ کےلیےہمارا رہےگا ۔ ۔ ۔ جو ہم ہتھیانہ سکےوہ ان( فلسطینیوں)کا ہوجائےگا۔‘‘

ایر یل شیرون،سابق اسرائیلی وزیرِ خارجہ ۱۵نومبر۱۹۸۹ء

چنانچہ اسرائیل کےقیام کےبعد بھی صیہونی راہنما طاقت کےمنہ زور استعمال سےکبھی نہیں گھبرائے۔بعد ازاں ہونےوالی جنگوں اور لبنان ،مشرقی کنارے،غزہ اور فلسطینی کیمپوں پر لشکر کشی کےذریعےاسرائیل اپنی سرحدیں اقوام متحدہ کےتقسیم فلسطین پلان میں اعلان کی گئی حدود سےکئی گنا زیادہ پھیلا تا رہا۔عالمی،خصوصاًمغربی ،طاقتوں نےمالی و فوجی امداد کےذریعےاسرائیل کی فوجی قوت کو اس حد تک بڑھایا ہےکہ اب اس کا شمار دنیا کی چند بڑی اور ترقی یافتہ فوجوں میں ہوتا ہے۔

روایتی عسکری قوت کےعلاوہ اسرائیل کےپاس نہ صرف جوہری صلاحیت ہےبلکہ جوہری ہتھیاروں کو لےجانےوالےجدید ذرائع بھی موجود ہیں۔اسرائیلی دفاعی فوج (اسرائیل ڈیفنس فورس)کےجنگ و جدل اور لشکر کشی کےغیر معمولی رجحان کو دیکھتےہوئےیہ کہنا بعید ازقیاس نہیں کہ اسرائیل کسی نہ کسی مسئلہ کا بہانہ بنا کر مستقبل میں بھی جارحانہ اقدام اٹھاتا رہےگا۔

حاصل کلام

فلسطین میں یہودی ریاست کےقیام کی لڑائی میں یہودیوں کی طرف سےطاقت کا استعمال اور دشمن کےخلاف پر تشدد کار روائیاں نہ تو کوئی حادثاتی مظہر ہےاور نہ ہی ردِعمل کا اظہا رہے۔سلطنت عثمانیہ کےدور میں یہودی دہشت گرد گروہوں کا قیام ،برطانیہ کی مدد سےعسکری گروہوں کی تشکیل ،اسلحہ کی سمگلنگ ،بڑےپیمانےپر خوف پھیلانےکےلیےطاقت کا بےدریغ اور بےجا استعمال اور اسلحہ کی قوت کےزور پر مقامی فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور گھروں سےبےدخل کرنا یہودی رہنماؤں کی نفسیات کی عکاسی کرتےہیں جو کہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کےطور پر رُوبہ عمل ہے۔طاقت کےاستعمال کی اس نفسیات کا بنیادی سبب یہ ہےکہ فلسطین ایک بےآباد ملک نہیں تھا اور مقامی لوگوں کی آباد زمین پر غیر ملکیوں کی ریاست قائم کرنا تب تک منطقی لحاظ سےناممکن ہےجب تک مقامی آباد ی کو ان کی زمینوں اور گھروں سےبےدخل نہ کر دیا جائےجس کےلیےبےلگام اور بےحساب قوت کےاستعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ حقیقت بین گوریان کےاس بیان سےبھی واضح ہوتی ہےجس میں وہ کہتا ہے:

’’اگر میں ایک عرب لیڈر ہوتا،میں کبھی اسرائیل سےتعلقات استوارنہ کرتا۔ یہ نہایت قدرتی بات ہے۔ ہم نےان کا ملک چھینا ہے۔یقینا خداوند نےمجھ سےوعدہ کیا تھا،لیکن اس (وعدہ)سےانہیں(عربوں کو) کیا سروکار؟ ہمارا خداوند ان کا نہیں ہے۔ہم اسرائیل کی نسل سےہیں،یہ ایک حقیقت ہے،لیکن دوہزار سال پہلے۔اور اس سےان (عربوں)کا کیا تعلق؟ یہودی مخالفت ہوئی ہے،نازی،ہٹلر،اور اوش وِٹز(سب حقیقت ہے) لیکن کیا یہ ان (عربوں) کا قصور ہے؟ انہیں صرف ایک چیز نظر آتی ہے: ہم یہاں ائےاور ان کا ملک غصب کر لیا۔‘‘

اس احساس کےپیش نظر بین گوریان نے۱۹۴۸ء میں کہا تھا:

’’ہمیں الجلیل کو عرب آبادی سےپاک کرنےکےلیےدہشت پھیلانا،خفیہ طریقوں سےقتل کرنا،دھمکیوں سےمرعوب کرنا اور شہری سہولتوں کی ناکہ بندی کرناضروری ہے۔‘‘

اسرائیل کی عسکری نفسیات کی تخلیق کےعمل سےواضح ہوتا ہےکہ دشمن کےخلاف طاقت اور تشدد کا بےدریغ استعمال نہ صرف آسان ہوجاتا ہےبلکہ اخلاقی طورپر جائز ہو جاتا ہےاگر اس کےلیےمذہبی فریضہ،نظریاتی ناگزیری اور نسلی برتری کےاصولوں سےدلائل کی عمارت تعمیرکی جائے۔اس پس منظر میں فلسطین میں یہودی ریاست کےقیام کےمضمرات اس سےمختلف نہیں جو ویٹیکن سٹی میں اسلامی ریاست قائم کرنےکےہو سکتےہیں۔

چنانچہ یہ سمجھنا مشکل نہیں ہےکہ فلسطینی سرزمین کےمعاملےمیں یہودی۔ عرب دشمنی صرف ارضی سیاست کا جھگڑا نہیں ہےجسےمحض ’یہودی نو آبادیات ‘کےمسئلہ کو حل کر کےیا فلسطینیوں سےچھینی گئی زمین کا کچھ حصہ انہیں واپس کر کےختم کیا جا سکتا ہے۔ اس تناضر میں یہ کہنا بےجانہ ہو گا کہ مسئلہ فلسطین کےمنصفانہ حل کےبغیر مستقبل میں بھی جنگ کےامکانات اور شہری ہلاکتوں کےخطرات مشرقِ وسطیٰ پر منڈلاتےرہیں گے۔