تحقیق کے جدید انداز اور طریقوں پر خصوصی تربیتی تشستیں چھاپیے

 Skill-Dev-Session-with-Abdullah-Faizi1

آئی پی ایس ٹیم ڈویلپمنٹ پروگرام کے زیرِاہتمام ۲، ۸ اور ۱۴ نومبر کو آئی پی ایس ریسرچ فیکلٹی کےرکن عبدالللہ فیضی کی سربراہی میں تحقیق کے جدید انداز اور طریقوں کے موضوع پر تین خصوصی تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ خیال رہے کہ عبدالللہ فیضی ملائیشیا سےڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کررہےہیں۔
 اپنے پہلے سیشن میں اسپیکر نے ملائیشیا میں جاری اپنے پی ایچ ڈی مقالہ کا مجموعی جائزہ پیش کیا جسکا عنوان تھا"بین الاقوامی جرائم ٹرابیونل بنگلہ دیش کے ماتحت فیئر ٹرائل کا قانونی تجزیہ۔" دوسرا سیشن مقالہ کی تیاری سے متعلق تھا جس میں بین الاقوامی معیار کو مدِنظررکھتے ہوئےموضوع کے تعین سے لے کرمقالہ جمع کرانے تک کے جملہ مراحل پر روشنی ڈالی گئی۔
 تیسرے سیشن میں محقق نےریسرچ کے جدید طریقوں سےٹیم آئی پی ایس کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر حوالاجات کے جدید طریقےاورسرچ انجن آپٹمائزڈ
الفاظ کی شمولیت جیسے اہم تحقیقی پہلو زیرِغور رہے۔ محقق نےنہ صرف محققین کی سہولت کیلیئےچند مستند آن لائن ڈیٹابیسز کی نشاندہی کی بلکہ تحقیقی سوالنامہ کی تیاری سے متعلق عملی تجاویز بھی دیں۔
بعد ازاں، انہوں نےآئی پی ایس پریس کےزیرِاشاعت ششماہی انگریزی مجلہ "پالیسی پرسپیکٹو" کو مزید بہتر بنانے کیلیئےقابلِ اطلاق تجاویزبھی دیں جو کہ اس مجلہ کو تحقیقی اعتبار سے جدت بخشیں گی۔
ملائشیامیں جاری اپنے تحقیقی تجربے کی روشنی میں عبدالللہ فیضی کا کہناتھاکہ وہاں کا تحقیقی کلچرپروفیشنل ازم کامتقاضی ہےاورتحقیقی مقالہ میں دی جانےوالی سفارشات اور نتائج کی مضبوطی کیلیئےقوی اور مستند حوالاجات کی شمولیت پر زور دیتا ہے۔ ملائشیامیں تحقیق کامجموعی معیارمتعین کرنے والےعناصرکی نشاندہی کرتےہوئےانکا کہنا تھاکہ محقق کی تحقیقی کاوش کادیگرمحققین کےمقالوں میں حوالہ دیئےجانےکےعلاوہ اس تحقیق کا معاشرے کے قوانین اور پالیسیوں پراثر انداز ہونا اسکےبلند تحقیقی معیارکی دلیل ہوتاہے۔