صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - اِن ہاؤس امریکہ اور چین کے حکومتی اہل کاروں کے حالیہ دورۂ پاکستان کا جائزہ English
امریکہ اور چین کے حکومتی اہل کاروں کے حالیہ دورۂ پاکستان کا جائزہ چھاپیے ای میل

 Assessment of US Chinese dignitaries visits

۱۸ستمبر ۲۰۱۸ء کو آئی پی ایس میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس کا عنوان تھا ”امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ اور چینی وزیرخارجہ کے حالیہ دورۂ پاکستان کا جائزہ“۔

اجلاس سے خطاب آئی پی ایس کے سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ ایمبسیڈر (ریٹائرڈ) تجمل الطاف نے کیا۔ انہوں نے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو اور چینی وزیرخارجہ وانگ پی کے دورہ پاکستان کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دیا۔

ایمبسیڈر (ریٹائرڈ) تجمل الطاف نے کہا کہ جب سے ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کا صدارتی دفتر سنبھالا ہے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات مسلسل زوال کا شکار ہیں کیونکہ اعتماد میں کمی نے دونوں ریاستوں کو میز کی مختلف اطراف پر بٹھا چھوڑا ہے۔

تاہم نئی پاکستانی حکومت نے امریکہ کے ساتھ متوازن تعلقات کےقیام میں دلچسپی ظاہر کی جس کے نتیجے میں امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو نے پاکستان کا دورہ کیا۔پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کے ساتھ ہونے والی پانچ گھنٹوں کی میٹنگ میں پومپیو نے کئی معاملات پر اپنے تحفظات کو بیان کیا۔ خصوصی طور پر انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ امریکہ-افغان پالیسی پر نظرثانی کریں جس کے لیے اب منصوبہ بندی یہ کی گئی ہے کہ جنگ کی بجائے سیاسی عمل سے حل تلاش کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ امریکہ افغانستان میں طویل عرصہ رُکے رہنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا۔

پاکستان امریکہ تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے تجمل الطاف نے بتایا کہ معاملات کی بحالی کے لیے واشنگٹن ڈی سی میں ایک اور میٹنگ طے ہے۔ تاہم پومپیو پہلے ہی اس سلسلے میں امریکہ کے نقطۂ نظر کا اظہار کر چکا ہے کہ دہشت گردوں کی حمایت ختم کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے پاکستان امریکہ کی حمایت اور مدد حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم مقرر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اگرچہ پومپیو کے دورے کے موقع پر یہ بات حوصلہ افزا لگ رہی تھی کہ پاکستان کی سول ملٹری قیادت ایک ہی صفحے پر ہیں تاہم امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کے ساتھ میٹنگ کے اختتام پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی عدم موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں واضح شگاف موجود ہے۔

چینی وزیرخارجہ کے پاکستان کے دورے پر گفتگو کرتے ہوئے الطاف نے کہا کہ دونوں ممالک کے وزراء نے اپنے اس عزم کی تجدیدِنو کی ہے کہ سی پیک منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات مزید بڑھانے کا طریقۂ کار بھی موضوع گفتگو رہا اور دفاع اور سلامتی کے ضمن میں تعاون کے مواقع پر بھی دونوں ہم منصبوں کے درمیان تبادلۂ خیال ہوا۔

سابق سفیر نے مزید کہا کہ اپنے تین روزہ دورے میں بعدازاں چین کے نمائندے نے پاکستان میں منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات کے وفاقی وزیر خسروبختیار سے بھی ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان ترقی کے متقاضی بہت سے شعبوں بالخصوص پانی، حفظانِ صحت اور گھروں کی فراہمی کے لیے تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا۔