صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - کانفرنس 'متحدّہ عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اور مشرقِ وسطیٰ اور پاکستان پر اس کے ممکنہ اثرات' English
'متحدّہ عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اور مشرقِ وسطیٰ اور پاکستان پر اس کے ممکنہ اثرات' چھاپیے ای میل

Pakistan-to-gain-nothing-by-accepting-Israel

 اسرائیل کو تسلیم کر لینے سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہو گا: آئی پی ایس راونڈ ٹیبل

اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسے نازک معاملات ہمیشہ عوام کی رائے اور جذبات کی روشنی میں پارلیمانی مباحث کے ذریعے طے پائے جانے چاہیے کیونکہ قوم کی نظریاتی اساس اور ملک میں موجود پالیسی سازی کے ماحول کو نظر انداز کر کے اٹھائے جانے والے کسی بھی اقدام کے نتائج خوش کُن ثابت نہیں ہوں گے۔ اس ضمن میں مختلف حلقوں کےجانب سے میں پاکستان کی اسرائیل سے متعلق پالیسی میں واضح تبدیلی لانے کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل بے وقت اور بے فائدہ ہیں کیونکہ نہ ہی ان کے پیچھے کوئ ٹھوس ویژن کارفرما ہے ، بلکہ درحقیقت یہ دلائل ملکی پالیسی کی اتنی بڑی تبدیلی کے صلے میں  حاصل ہونے والے کسی بھی قابلِ ذکر فائدہ مند پہلو سے عاری ہیں۔ درحقیقت اسرائیل کو تسلیم کر لینے سے پاکستان کو کوئ فائدہ حاصل نہیں ہو گا، بلکہ اس قسم کا کوئ بھی قدم اُلٹا ملک کی نظریاتی اساس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا جو کہ ملکی اتحاد اور یگانگت کی اصل بنیاد ہے ۔ 

ان خیالات کا اظہار 27 دسمبر 2020 کو 'متحدّہ عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اور مشرقِ وسطیٰ اور پاکستان پر اس کے ممکنہ اثرات' کے عنوان سے ہونے والی ایک راونڈٹیبل نشست میں کیا گیا جس کا انعقاد انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز [آئ پی ایس] نے کیا تھا۔ اس نشست کی صدارت انسٹیٹیوٹ کے ایگزیگٹیو صدر خالد رحمٰن نے کی جبکہ مقررین میں سابق سفیر جاوید حفیظ، سینئیر آئ پی ایس ایسو سی ایٹ اور سابق سفیر تجمّل الطاف، نیشنل یونیورسٹی آف سائینس اینڈ ٹیکنالوجی [نسٹ] کے سینٹر فار انٹرنیشنل پِیس اینڈ اسٹیبلیٹی اسٹڈیز کے ڈین بریگیڈئیر [ر] تغرل یامین، سینئیر تجزیہ کار بریگیڈئیر [ر] سید نذیر ، جنرل مینیجر آئ پی ایس نوفل شاہ رُخ اور ادارے کی تحقیقی ٹیم کے ممبران شامل تھے۔ 

نشست میں سفارتی نقطہِ نظر کے حوالے سے اس بات کا اظہارِ خیال کیا گیا کے سفارتی اور خارجہ پالیسی کے میدان میں جہاں عملیت پسندی دکھانے کی ضرورت ہے وہاں اس بات کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے کہ کوئ ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جو ملکی شناخت، سالمیت اور نظریاتی اساس کے خلاف ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنانا چاہیے کو کسی ڈر، خوف، دھمکی یا لالچ میں بھی کوئ مصالحتی اقدام نہ اٹھایا جائَے۔ 

نشست میں اس افسوس کا اظہار بھی کیا گیا کہ بد قسمتی سے عملیت پسندی کی آڑ میں بہت سے ایسے اقدامات کر لیے جاتے ہیں جن کے اوپر مختلف سطحوں پر باقاعدہ بحث ہونی چاہیے، اور اسی قسم کی کوشش اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے پر بھی کی جا رہی ہے کیونکہ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس سلسلے میں رائے عامّہ زیادہ مثبت نہیں ہو گی۔ 

موضوع سے متعلق اقتصادی پہلو پر بات کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ بیرونی قرضے نہیں بلکہ معاشی وسائل کے استعمال میں بد انتظامی ہے جس کی اصل وجہ بری گورننس ہے۔ نشست میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان کی طرح اسرائیل کے اوپر بھی کافی قرضہ موجود ہے  لکین ان کا اپنے لیے ہوئے قرضے کا صحیح  استعمال اس قرضے کو بوجھ بنانے کے بجائے فائدہ مند بنا دیتا ہے۔ نشست میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ اگر معاشی کمزوری ہی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اصل اور بڑی وجہ ہے تو متحدّہ عرب امارات جیسے امیر اور خود انحصار ملک نے اسے کیوں تسلیم کر لیا؟

 معاملے کے حق میں پاکستان اور اسرائیل کے بیچ سیکورٹی اور انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے سے متعلق دلائل کے جواب میں مقررین نے یہ سوال اٹھایا کہ دونوں ممالک کے بیچ یہ تعاون کس مشترکہ دشمن کے خلاف ہو سکتا ہے؟ اگر یہ تعاون دہشت گردی کے خلاف ہو سکتا ہے، تو کیا یہ سی پیک اور بلوچستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کا بھی احاطہ کرسکے گا جہاں اپنے ایک پڑوسی ملک کے ہاتھوں پاکستان کو دہشت گردی کے سب سے بڑے خطرات درپیش ہیں؟ 

نشست سے خطاب کرنے والے مقررین نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ آج مسلم دنیا کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی موجودہ لیڈرشِپ اپنے لوگوں کی حقیقی ترجمان نہیں ہے، اور اس کی وجہ سے مسلمان نہ صرف عالمی مسائل اور معاملات میں بے اثر اور بے آواز ہو کر رہ گئے ہیں بلکہ اندر سے بھی کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ 

نشست میں شامل مقررین اس بات پر متفق تھے کہ اسرائیل کو تسلم کرنا ایک پیچیدہ اور نازک مسئلہ ہے جس کی ایک تاریخی حیثیت بھی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں یہ بات درست ہے کہ اس قسم کے قومی مسئلے گلیوں کوچوں میں نہیں بلکہ متعلقہ فورم پر طے ہونے چاہیے، وہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ عوام کی رائے اور ان کے جذبات کو نظر انداز کر کے بھی ایسے فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ پالیسی ساز حلقے اس سلسلے میں کوئ فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے اور عوام کے ایک صفحے پر ہونے کو یقینی بنائے