صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - کانفرنس نوآبادیاتی سوچ کے رد کے لیےایسا بیانیے درکار ہیں جو مغرب کےتشکیل کردہ نہ ہوں۔آئی پی ایس ویبنار English
نوآبادیاتی سوچ کے رد کے لیےایسا بیانیے درکار ہیں جو مغرب کےتشکیل کردہ نہ ہوں۔آئی پی ایس ویبنار چھاپیے ای میل

 Decolonial-Muslim-Studies

 اسلام  معروضی اختلافات پر بحث و مباحثہ  کے معاملےمیں  اتنا ہی لبرل ہے جتنےکا سیکولرازم دعویدار ہے، اور  سیکولرازم کے پرامن بقائے باہمی اور رواداری   کے واحد حل اور واحد راستہ  ہونے کے دعوے  پر  سوال اٹھانا بھی نوآبادیاتی سوچ  سے جان چھڑانے کا ایک ذریعہ ہے۔

یہ ایک ویبنارمیں ہونے والی بحث  کا  لب لباب تھا  جس کا عنوان تھا ‘Decolonial Muslim Studies & Defending Muhammad (PBUH) in Modernity’۔ اس ویبنار کا انعقاد  12 اگست 2021 کو  انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS)  اسلام آباد نے دانشوروں کے بین الاقوامی نیٹ ورک  ‘Decolonial Dialogue’ کے تعاون سے کیا تھا۔ یہ اجلاس کتابوں پر مباحثے کی سیریز کا حصہ تھا ، جس کا مقصد یہ ہے کہ دونوں اداروں کی مشترکہ کوشش سے بین الاقوامی علمی مباحث کو پاکستان کے علمی حلقوں تک پہنچایا جائے۔

امریکہ کے فرینکلن اینڈ مارشل کالج کے پروفیسر شیر علی ترین نے اپنی کتاب ‘Defending Muhammad (PBUH) in Modernity’ کے اہم موضوعات کو شرکاء کے سامنے پیش کیا۔ بحث میں حصہ لینے والے افراد میں کنگز کالج لندن کی ڈاکٹر حمیرا اقتدار، لمز کے ڈاکٹر نعمان فیضی، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد  (RIU)  کے وائس چانسلر ڈاکٹر انیس احمد، The Research Initiative  کے نذیر مہر اور Royal Holloway University لندن  کے ضیغم سرفراز   شامل تھے۔

اپنی کتاب کے اہم نکات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے پروفیسر ترین نے دیوبندی - بریلوی مناظروں، مغل سلطنت اور مسلمانوں کے زوال اور برطانوی نوآبادیاتی سلطنت کے عروج کےدور میں ہونے والےمباحث کا باریک بینی سے تجزیہ کیا۔

19ویں صدی کے اسلام پر سیکولرنکتہ نظرکا   محاسبہ کرتے ہوئے، ترین نے اس کےمباحثوں کو ’مسابقتی سیاسی نظریات‘ قرار دیا جنہیں مغرب کے یورپی دائرے والے دوہرے معیار میں نہیں سمجھا جا سکتا۔  دیوبندی اور بریلوی مذہبی دعووں کو بنیاد بناتے ہوئے انہوں نے  روایتی/اعتدال پسند ، ترقی پسند/قدامت پسند اور قانونی/پراسرار کی ان بحثوں کو چیلنج کیا جو اکثر اوقات اسلامی روایات میں لپٹی سیکولر تاثرات کی حامل ہوتی ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ کس طرح خدائی حاکمیت کے تصور، پیغمبرؐ کی پیشن گوئی کی اتھارٹی ، اور رسمی طریقوں نے 18 ویں اور 19 ویں صدیوں کے برصغیر میں دو دانشورانہ سوچوں کو جنم دیا۔ انہوں نے مذہب کی جدید تعمیر  اور خاص طور پر یورو سینٹرک علمیات کے ذریعے اسلام کا مطالعہ اور ڈیکولونائزیشن کے تضاد میں لپٹے عالمی نظریے کی تفہیم بیان کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی تصورات کو سیکولرائز کرنا یا  انہیں مغربی رنگ دینا کسی بھی مذہب کے عقائد اور بیان کیے گئے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ڈاکٹر حمیرا اقتدار نے کہا کہ مقامی علوم کا مغربی زبانوں میں ترجمہ سے بہت کچھ ضائع ہو گیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ‘sovereign’ اور ‘sovereignty’ کے تصور پر روشنی ڈالی جنہیں سکالرز اسلامی اصطلاحات  ’حکم‘ یا ’حاکمیت‘ کے مترادف کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اٹھا لیتے ۔

ان کا خیال تھا کہ امن اور استحکام ، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کو یقینی بنانے کے لیے سیکولرازم کے علاوہ دیگر آپشنز پر غور کیا جانا چاہیے کیونکہ سیکولرزم کی ایک اپنی تاریخ ہے جو صدیوں کے دوران مغرب میں اس کی ترقی کی داستان سناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر مثال پر تنقید کو سیکولرازم کی مکمل تردید کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے ۔ تاہم  سیکولرازم کو تمام برائیوں کا واحد حل سمجھنے پر تنقید کو بھی قبول کیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر انیس احمد نےبحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ  دیوبندی اور بریلوی دونوں مکاتب فکربنیادی طور پر ایک ہی ہیں اور ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں۔ وہ اصولوں اور طریقوں میں بہت سی  باتوں پر اشتراک کرتے ہیں۔ تاہم ، فرق دونوں مکاتب فکرکے علماء کی طرف سے اپنایا گیا مذہبی نقطۂ نظر میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے تمام فرقوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور یہ مغربی علمیات اور اصولیات کا اطلاق ہے جو مسلمانوں اور ان کے مباحث پر لاگو کیا جاتا ہے تو وہ ان مکاتب فکرکےدرمیان اختلاف کو نمایاں کردیتا  ہے۔ انہوں نے مختلف گروہوں کے درمیان پائے جانے والے مذہبی تصورات اور اختلافات کو سمجھنے کے لیے مغربی علوم کے نظریے اور علم الوجودکی جگہ اسلامی علمیات اورطریقہ کار کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے پاس الفاظ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے جن کا موازنہ یا مقابلہ مغربی خطوط سے کیے بغیر ، ان کے اپنے سیاق و سباق  اور اسلامی روایات میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

سیشن کے اختتام پر ، وائس چیئرمین آئی پی ایس سید ابرار حسین نے حنفی مکتبہ فکر کے تحت دیوبندی اور بریلوی روایات کے اختلافی پہلوؤں کو واضح کرنے کے لیے پروفیسر ترین کی کوشش کو تسلیم کیا۔ حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے، سابق سفیر نے وضاحت کی کہ منطقی بحث یا تعمیری دلیل کو اسلام میں سراہا گیا ہے جس سےشدت کی بجائے لچک پیدا ہوتی ہے  اور کثرت پسندانہ خیالات میں اضافہ ہوتا ہے۔