صفحہ اول بین الاقوامی تعلقات - مسلم دنیا مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسیاں اور اس کے مضمرات English
مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسیاں اور اس کے مضمرات چھاپیے ای میل

اہم عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کے اثرات بالعموم اسی خطے یا ریاست تک محدود نہیں رہتے جس کے حوالے سے پالیسی تشکیل دی گئی ہو۔ بعض اوقات تو یہ اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دورِ حاضر میں مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں امریکی پالیسیوں پر یہ بات کچھ زیادہ ہی صادق آتی ہے۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ پالیسیاں تاریخ، مقامی سیاسی حقائق اور عمل اور ردّعمل کے تزویراتی خمیازے ہی نہیں، دوستوں اور اتحادیوں بلکہ خود بڑی طاقتوں کے اپنے قومی مفادات کو بھی پیش نظر رکھے بغیر وضع کر لی جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان پالیسیوں کے مضمرات جاننے کے لیے ان عوامل کی اہمیت کو پیش نظر رکھا جائے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ متعدد مواقع ایسے آئے جب کئی واقعات وعوامل اس طرح سے رونما ہوئے جنہوںنے بین الاقوامی سیاست کے حقائق ومناہج کو اس حد تک تبدیل کردیا کہ بڑی طاقتوں کی پالیسیوں کو لازماً تبدیل کیا جانا چاہیے تھا۔لیکن پالیسیوں کو تشکیل دیے جانے اور ان کے اثرات کا جائزہ لینے کا عمل اپنی ہی ڈگر پر چلتا رہا۔

 

ماضی قریب میں مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں امریکی پالیسیوں اور ان کے نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے مذکورہ بالا اُمور پیش نظر رکھنا ضروری ہیں۔ بین الاقوامی سیاست کے اُتار چڑھائو میں مشرقِ وسطیٰ کے حالات کا بہت اہم کردار ہے۔ دنیا کے اہم ترین جنگی، اقتصادی اور سیاسی اہمیت کے حامل بحر عرب، خلیج فارس، خلیج عمان، بحر احمر اور بحر روم اسی خطے میں پائے جاتے ہیں۔ توانائی کے دنیا کے عظیم ترین ذخائرکی خطے میں موجودگی نے بھی اسے اہم علاقہ بنادیا ہے۔ علاوہ ازیں مکہ، مدینہ اور یروشلم کے تین مقدس شہروں کے علاوہ (ایران اور عراق میں موجود) شیعہ مسلمانوں کے کئی مقدس مقامات واقع ہونے کی وجہ سے بھی یہ خطہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں تینوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ان ہی اسباب کی بناء پر مشرق وسطیٰ پر اثر انداز ہونے والی بڑی طاقتوں کی پالیسیاں باقی مسلم دنیا پر بھی اثر پذیر ہوتی ہیں اور اسی طرح کسی بھی مسلم ملک یا آبادی کے حوالے سے ان طاقتوں کے فیصلے مشرق وسطیٰ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اس خطے کی اہمیت، یہاں سے متعلق پالیسیاں اور ان کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ان تمام باہم گڈ مڈ عوامل کو بیک وقت سامنے رکھنا ہوگا۔

جنگ عظیم اوّل کے بعد خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے اور خطے میں یہودیوں کو ایک ریاست مہیا کرنے کے برطانوی وعدے نے مشرقِ وسطیٰ پر دور رَس اثرات مرتب کیے۱۔اس وقت کی بڑی طاقتوں،برطانیہ اور فرانس،نے اپنے ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں عرب سرزمین کو ٹکڑوں میں بانٹ کر وہاں اپنی مرضی کے حکمران مسلط کرکے عربوں کے مابین اور عربوں اور یہودیوں کے درمیان مستقل تنازعے کے بیج بودیے۔جنگ عظیم دوم کے بعد اسرائیل کے قیام نے ان تنازعات کو مستقل بنیادوں پر فروغ دیا۔ مغربی طاقتوں کو اس خطے میں ایک دیرپا اور قابل اعتماد دوست کی ضرورت ہے، اس لیے وہ مستقلاً اسرائیل کی پشت پناہی کرتی ہیںاور اسی مقصد کے حصول کی غرض سے وہ تنازعات کو ہوا دینے یا انہیں دبانے کا عمل جاری رکھتی ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کو اپنی سلامتی اور استحکام کے لیے کم از کم کسی ایک بڑی طاقت کی سرپرستی کی ضرورت رہتی ہے کیونکہ اسے اپنے کمزور لیکن بڑی تعداد میں موجود دشمنوں سے خطرات لاحق رہتے ہیں۔۱۹۴۸ء کی عرب اسرائیل جنگ سے جہاں یہ ثابت ہوا کہ اسرائیل کی بقا اس کے سرپرستوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں، وہیں یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ جب تک اسرائیل کو مغربی حمایت حاصل ہے عرب اس کو شکست نہیں دے سکتے۔

سیاستِ سرد جنگ

امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کی رسہ کشی نے بھی مشرق وسطیٰ کی سیاست پر اثرات مرتب کیے۔ ۱۹۵۶ء میں نہر سوئز کا تنازعہ بھی اسی وجہ سے کھڑا ہوا۔امریکہ خطے میں روسی اثرات روکنا چاہتا تھا اورخطے میں تیل کے وسیع ذخائر بھی دریافت ہورہے تھے۔چنانچہ امریکہ کے لیے اس خطے کی اہمیت دو چندتھی۔

مصر اور عراق کے روس کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے امریکہ نے خطے کے تین غیر عرب ممالک: اسرائیل، ایران اور ترکی کے ساتھ قربت پیدا کی اور علاقے کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینا شروع کی۔ ان ممالک میں بھی امریکہ کو دیگر مغربی ممالک کی طرح سب سے زیادہ قربت و اعتماد اسرائیل کے ساتھ تھا۔ ۱۹۶۷ء کی جنگ میں اسرائیل کی فتح نے امریکہ کو اس کے مزید قریب کردیا۔باقاعدہ فوجی اوراسٹریٹیجک حصہ دار کی حیثیت سے امریکہ نے اسرائیل کو انتہائی جدید اوراعلیٰ قسم کے ہتھیاروںاورغیر معمولی فنڈز مہیاکرکے اُسے علاقے کی ناقابل تسخیرقوت بنادیا۔

۱۹۷۱ء میں برطانیہ نے اپنی فوجیں خلیج فارس سے واپس بلالیں تو امریکہ علاقے کے تحفظ کا ضامن بن کر آگیا۔اس حوالے سے واشنگٹن نے زیادہ کام ایران اور سعودی عرب سے لیا۔ یہ منصوبہ دو رُکنی حکمتِ عملی (two-pillar strategy) کے نام سے معروف ہے۔اس میں زیادہ مضبوط اور قابل بھروسہ دوست ایران تھا۔اس دو رُکنی حکمت عملی میں ایک دقّت تھی اور وہ یہ کہ خلیج کی ان دونوں ریاستوں کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے اور امریکہ کوان دونوں کے ساتھ تعاون کے لیے پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا تھا۔ دوسرے یہ کہ سعودی عرب خلیجی ریاست ہونے کے ساتھ عرب لیگ کا ممبر اور اسرائیل کا دشمن تھا۔ لیکن یہ مسئلہ امریکہ کے لیے زیادہ تشویش کا باعث نہ تھاکیونکہ وہ خلیج کی صورتحال اور باقی مشرق وسطیٰ کے معاملات کو دو مختلف اُمور کے طور پر دیکھتا تھا۔ لیکن ۱۹۷۳ء کی جنگ میں یہ نظریہ غلط ثابت ہوا اور پوری مغربی دنیا کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی جب خلیجی ریاستوں نے امریکہ سمیت اسرائیل کے تمام طرف داروں کو تیل کی برآمد پر پابندی لگادی۔اس کے بعد ہی سے امریکہ نے ایران اور اسرائیل کو قریب لانا شروع کردیا اور ان دو ریاستوں پر اس کا مزید اعتماد قائم ہوا۔

یہ حکمتِ عملی بھی اس وقت ناکام ہوگئی جب ۱۹۷۹ء میں ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہوگیا۔ اب امریکہ کا انتہائی معتمد اتحادی اس کا یکسر دشمن بن چکا تھا۔ اس کے فوراً ہی بعد سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کردیا اور تھوڑے ہی عرصے بعد عراق ایران جنگ چھڑ گئی۔ تجزیہ نگاروں نے امریکی انتظامیہ کو خلیج سے متعلق پالیسیوں پر از سرِ نو غور کرنے پر رضامند کرلیا۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے سعودی عرب کے ذریعے سے عراق کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے اُکسایا۔ کارٹر انتظامیہ نے ’’تنازعہ میں انتہائی غیر جانب دار‘‘ رہنے کی پالیسی کا اعلان کیا لیکن پھر عراق کو براہِ راست اور ایران کو اسرائیل کے توسط سے ہتھیار پہنچانے شروع کردیے تاکہ جنگ طول پکڑے اور دونوں ملک کمزور ہوں۔ ۱۹۸۸ء تک امریکہ اس قابل ہوگیا کہ خطے میں پہلے ہی سے موجود بحری افواج کو مزید مضبوط بنائے اور اپنے مفادات کو محفو ظ بنالے۔

کوئی اخلاقی ضابطہ، قانون یا بین الاقوامی سیاست کا کوئی اصول ایران اور عراق دونوں کو اسلحہ مہیا کرنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن امریکہ کو کسی اصول، ضابطہ، اخلاق یا انسانیت کی بھلائی سے نہیں،اپنے مفادات سے غرض تھی۔

بعد از سرد جنگ پالیسیاں

جس وقت ایران عراق جنگ اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی، اسی عرصہ میں افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کے ساتھ سرد جنگ بھی ختم ہورہی تھی۔اب امریکہ واحد سپر طاقت بن کر سامنے آیا۔ وہ اپنے دشمنوں اور دوستوں سب پر واضح اقتصادی، سیاسی اور فوجی برتری کا حامل تھا۔ اہم گزرگاہیں اس کی افواج کے قبضے میں تھیں۔کویت پر صدام کے حملہ (۹۱-۱۹۹۰ئ)نے امریکہ کو یہ موقع دیا کہ وہ کویت کو آزادی دلانے کے بہانے اپنی اتحادی طاقتوں کے ساتھ تیل سے مالامال خلیج میں آبیٹھا۔

خلیج میں امریکی توسیع پسندی کی مزاحمت کرنے کی ہمت کسی ریاست میں نہ تھی۔ لیکن متعدد غیرریاستی عناصر نے مزاحمت شروع کردی، جنہیں پہلے مغربی ذرائع ابلاغ نے ’’مجاہدین‘‘ اور پھر ’’دہشت گرد‘‘ کا نام دیا۔ یہ وہی گروہ تھے جو امریکہ کی فنی و حربی معاونت سے سوویت یونین کے خلاف برسر پیکار رہے تھے۔ اس وقت امریکہ نے ان گروہوں کے نظریاتی اور مذہبی جذبات کو بھی سوویت یونین کے خلاف استعمال کیا۔ لیکن سرد جنگ کے بعد سوویت یونین کے انتشار اور صدام کی شکست کو امریکہ نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا۔ مختصر افواج کی حامل خلیجی ریاستیں اب اپنے تحفظ و بقاء کے لیے امریکہ کی رہین منت ہوکررہ گئی ہیں۔ ایک اہم بات یہ ہوئی ہے کہ امریکہ نے خطے میں اپنی افواج کو اس طرح مضبوط و منظم کرلیا ہے کہ اب نہ صرف وہ تیل کی سپلائی کو اپنے قبضے میں رکھنے کے قابل ہوچکا ہے،بلکہ خطے کے اندر سے ابھرنے والے یا بیرونی طور پر در آنے والے خطرات سے نمٹنا بھی اس کے لیے آسان ہوگیا ہے۔

دونوں خلیجی جنگوں کے خاتمے اور سرد جنگ کے اختتام سے امریکہ کو وہ سفارتی، سیاسی، اقتصادی اور فوجی طاقت حاصل ہوگئی کہ وہ ایران، عراق اور شام جیسی امریکہ مخالف قوتوں کو لگام دینے اور اپنے باج گزار حکمرانوں کی مدد سے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں عرب اسرائیل تنازعے کے حل کے لیے امن مذاکرات شروع کرانے کے قابل بھی ہوگیا۔ ۱۹۹۳ء میں معاہدہ اوسلو ہوا لیکن اسے نہ تو حماس اور دوسرے فلسطینی گروہوں نے قبول کیا اور نہ ہی اسرائیلی آباد کاروں نے۔ اس لیے اس پر جزوی عمل ہی ہوسکا۔ اس معاہدہ پر عملدرآمد اور کئی مزید اختلافی اُمور کو طے کرنے کے لیے متعدد اجلاس اور کوششیں ہوئیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوسکا۔ نتیجتاً مسلح گروپ متحرک ہوئے اور ۲۰۰۰ء میں اسرائیل کے خلاف دوسرا انتفاضہ ہوا۔

۱۹۹۰ء کی دہائی میں امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے مرکزی نکات یہ تھے: اقوامِ متحدہ کی پابندیوں اور میزائل حملوں سے عراق کو کمزور کرنا، ایران کے ایٹمی پروگرام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہدف تنقید بناکر اسے عالمی برادری میں تنہاکرنا اور عرب ریاستوں کو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں اُلجھانا۔

بعد از 11ستمبر پالیسیاں

’’دی پروجیکٹ فار دی نیو امریکن سینچری‘‘ (PNAC) نے ستمبر ۲۰۰۰ء میں ۹۰ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ بعنوان ’’امریکی دفاع کی تعمیر نو-- نئی صدی کے لیے حکمتِ عملیاں، قوتیں اور وسائل‘‘ شائع کی۔ اس میں تجویز کیا گیا تھا کہ امریکی سلامتی اور وقار کو مستحکم بنانے کے لیے عراق پر حملہ ناگزیر ہے۲۔سانحۂ ۱۱ ستمبر ان تجاویز کو رو بہ عمل لانے کے لیے نہایت موزوں تھا۔ یہ بھی واضح رہے کہ PNAC کے اکثر اراکین بش انتظامیہ کے مؤثر افراد میں سے تھے۔

بش کی مشیر برائے قومی سلامتی کونڈا لیزا رائس اور سیکریٹری دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ اسی نہج پر منصوبہ سازی کررہے تھے کہ سانحۂ ۱۱ ستمبر سے صدام حسین کا کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود عراق پر حملہ کردینا چاہیے۔کولن پاول کا مؤقف تھا کہ افغانستان پر حملہ اور قبضہ عراق کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوگا۔یہ سب حقائق یہ ظاہر کرتے ہیںکہ بش انتظامیہ کسی نہ کسی بہانے عراق پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی پہلے ہی سے کرچکی تھی۔

عراق پر حملے کا ایک مقصد یہ تھا کہ اسرائیل پر سے دو دشمن ریاستوں، عراقی خطرات کو ختم کرنا اور شام پر دباؤ میں اضافہ کرنا تھا، تاکہ علاقائی توازن میں امریکہ اور اسرائیل کا پلڑا مزید بھاری ہوسکے۔ اس کا دوسرا مقصد فلسطینیوں کے حوصلے پست کرنا تھا تاکہ وہ اسرائیل کی پیش کردہ شرائط قبول کرلیں۔ تیسرے یہ کہ بش انتظامیہ میں گہرا عمل دخل رکھنے والی امریکی آئل کمپنیاں، تعمیراتی ادارے اور دفاعی صنعت کے مفادات کو تحفظ دیا جاسکے۔ ان مقاصد کے حصول کی خاطر امریکہ نے تمام مخالفتوں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالم گیر احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے عراق پر یک طرفہ حملہ کردیا۔

عراق اور افغانستان پر مہم جوئی کے بعد امریکی پالیسی سازوں نے ایران کی طرف توجہ کی، کیونکہ ان کے خیال میں امریکہ اور اسرائیل کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کرنے کی بناء پر ایران دنیا بھر کے مسلمانوں، بالخصوص عراق اور افغانستان کی شیعہ آبادی میں خاصا مقبول ہوگیا تھا اور خلیج میں ایک مضبوط حریف ثابت ہوسکتا تھا۔ لہٰذا دہشت گردی کے خلاف جنگ کی خاطر ایران کو ’’برائیوں کا مرکز‘‘، ’’دہشت گردوں کا سرپرست‘‘، ’’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں‘‘،’’افغانستان کے مغربی حصے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا مجرم ‘‘اور ’’القاعدہ کی پناہ گاہ‘‘ وغیرہ الزامات لگائے جانے لگے اور یہاں بھی عراق جیسی حکمت عملی اختیار کی گئی تاکہ ایران پر حملے کے جواز فراہم ہوسکیں۔

تاہم یہ دیکھتے ہوئے کہ عراق اور افغانستان میں صورتحال مکمل قابو میں نہیں ہے اور یہاں ایران کی مدد کی ضرورت ہے، امریکہ نے ایران کو تنہا کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کی۔ یہ خیال بھی تھا کہ اس طرح اسرائیل اور ایران کے درمیان پائی جانے والی تناؤ کی کیفیت میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ میں مختلف الخیال ریاستوں کی موجودگی کو برقرار رکھنے کے روایتی امریکی حربے کو استعمال کیاگیا۔

مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی پالیسی کے تحت اس کے دیرینہ اتحادی،اسرائیل، کو ۱۱ ستمبر کے سانحے کے بعد زیادہ چھوٹ دی گئی تاکہ وہ اپنی سرحدوں پر موجود ’’دہشت گردوں‘‘ سے بخوبی نمٹ سکے۔ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی سے اپنی فوجوں کی غیر مشروط واپسی اور فلسطینی اتھارٹی کو محدود خودمختاری دے کر اسرائیل نے دو دھاری حکمت عملی اختیار کی۔ ایک طرف اس نے اپنے دشمن غیرریاستی عناصر کو قتل کرنا شروع کیا اور دوسری جانب فلسطینی گروہ کی حمایت کرکے ان دونوں گروہوں کے درمیان خلیج کو وسیع کیا، تاکہ فلسطینی مزاحمت کو کمزور کیا جاسکے اور فلسطینی اسرائیل کے پیش کردہ امن معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں۔اسرائیل کے ان سارے منصوبوں میں اسے امریکہ کی غیر مشروط اور مسلسل حمایت حاصل رہی اور یہ کہا گیا کہ خودکش حملہ آوروں سے اسرائیل کو سانحۂ ۱۱ ستمبر سے زیادہ نقصان اُٹھانا پڑا ہے، اس لیے امریکہ اور اسرائیل اپنے تحفظ کی خاطر دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے مشترکہ کوششیں کررہے ہیں۔

فلسطین اور لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی کھلم کھلا امریکی حمایت نے مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر اشتعال پیدا کیا، جس سے مزاحمت اور متشدد انہ کارروائیوں میں اضافہ ہوا اورعوامی سطح پر اس کے ردعمل کی بناء پرفلسطین اور لبنان میں اسلامی قوتیں جمہوری عمل کے ذریعے سے کرسیٔ اقتدار تک پہنچ گئیں۔

مذکورہ بالا امریکی پالیسیوں، ان کے نتائج اور اس خطے ہی نہیں دنیا بھر بالخصوص یورپ میں اس کے رد عمل کو دیکھتے ہوئے، سیاسی و معاشرتی اضطراب کو کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔ ان اقدامات میں معاشی، تعلیمی اور سیاسی اصلاحات، خواتین کو بااختیار بنانا،جمہوریت اور بہتر انتظام (good governance) کے اقدامات کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں امن کا لائحۂ عمل(Road Map for Peace) تیار کرنا شامل تھا۔ گوکہ اس نقشۂ کار پر عمل نہ ہوسکا۔ کیونکہ یہ سارے نعرے خوبصورت لیکن کھوکھلے تھے۔ لوگ دیکھ رہے تھے کہ شفاف انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار آنے والی فلسطین کی حماس اور لبنان کی حزب اللہ کو کام نہیں کرنے دیا جارہا۔ جبکہ مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں کے آمرانہ حکومتیں امریکہ کی قریبی حلیف بنی ہوئی ہیں۔

لبنانی حزب اور فلسطینی حماس کے اسرائیل کے ساتھ مسلسل تصادم کی صورت حال میں ۲۰۰۲ء میں عرب سربراہ کانفرنس نے قیام امن کے لیے کئی تجاویز پیش کیں اور پھر ۲۰۰۷ء کے اجلاس میں ان تجاویز کا اعادہ کیا۔ یہ تجاویز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر ۱۹۴ کی روح کے مطابق تھیں اور سب نے انہیں منصفانہ اور معقول قرار دیا لیکن اقوامِ متحدہ سمیت کسی نے ان پر عملدرآمد میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

امریکی پالیسیوں سے یوں لگتا ہے کہ ان کا اصل محور اسرائیل کا دفاع ہے، خواہ اس کی وجہ سے خود امریکہ میں انتہا پسندانہ جذبات پروان چڑھیں، آمرانہ حکومتوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑے یا غیر ریاستی عناصر کو مستحکم کیا جائے۔

اوباما انتظامیہ کی پالیسیوں کے رجحانات

جارج بش کے بارک حسین اوباما کو اقتدار منتقل کرنے سے پہلے امریکہ نے عراق کے ساتھ دو دفاعی معاہدے کیے: ایک افواج کی حیثیت کے تعین سے متعلق اوردوسرا تزویراتی دائرۂ کار (strategic framework) کے بارے میں۔ ان معاہدوں کی بدولت امریکہ کو عراق کی سیاسی، دفاعی، اقتصادی اور سفارتی پالیسیوں پر طویل عرصہ تک اثر انداز ہونے کی اجازت مل گئی۔ اور اب یہ ممکن نہ رہا کہ عراق پر اسرائیل مخالف یا امریکہ مخالف کوئی قوت تسلط حاصل کرسکے، یا اسرائیل کے تحفظ اور امریکی مفاد کو کوئی نقصان پہنچاسکے۔ اس پالیسی کو امریکی صدر اوباما نے بھی کیمپ لیجیون،نارتھ کیرولینا میں تقریر کے دوران میںعراق سے امریکی افواج کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے واضح الفاظ میں بیان کیا:

’’ہم ذمہ داری کے ساتھ اپنی افواج کو واپس بلائیں گے۔ ہم اپنی حکمتِ عملی کے دوسرے حصے کے بارے میں بھی چوکنا رہیں گے۔( ایک زیادہ پُر امن اور مستحکم عراق کے حوالے سے دیرپا سفارت کاری۔) عراق آئینی اداروں کا حامل ایک خودمختار ملک ہے۔ امریکہ ان کی جگہ نہیں لے سکتا اور نہ اسے لینا چاہیے۔ تاہم ہماری ایک مضبوط سیاسی، سفارتی اور تمدنی کوشش سے ترقی، پائیدار امن اور سلامتی میں مدد ملے گی۔‘‘

یہ بات سمجھ لینے کے بعد کہ عراق میں پُر تشدد واقعات زندگی کا لازمی حصہ بن جائیں گے اور کئی برسوں تک عراق کی سیاسی صورتِ حال ابتر رہے گی، نظر یہ آتا ہے کہ امریکہ کی توجہ مزاحم یا سرد مہری کے حامل ممالک جیسے ایران اور شام پر زیادہ ہوجائے گی۔ امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا:’’امریکہ خطے کے تمام ممالک، بشمول ایران اور شام، سے اصولی اور پائیدار تعلقات قائم کرے گا۔‘‘

یہ بات صدر اوباما اپنی متعدد تقاریر میں تواتر کے ساتھ دہراتے رہے ہیں اور بالخصوص قاہرہ یونیورسٹی میں کی جانے والی تقریر میں اسے شد و مد کے ساتھ دہرایا گیا۔ تاہم اوباما انتظامیہ کی پالیسی کے مقاصد ان کے پیش رئووں سے بہت زیادہ مختلف نہیں۔ امریکہ میں مضبوط اسرائیلی لابی کو دیکھتے ہوئے اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اسرائیل کی ہر طرح کی امداد جاری رہے گی۔ اسرائیل کے تحفظ کی خاطر تمام وسائل بروئے کار لائے جاتے رہیں گے۔ اوباما انتظامیہ بھی عراق کی جنگ میں کامیابیوں کے ثمرات سمیٹتی رہے گی، کیونکہ اس کی نظریں ’’مشرقِ وسطیٰ میں نئی امریکی قیادت اور اس کے عمل دخل‘‘ پر مرکوز ہیں۔

مختصریہ کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے بنیادی اور ثانوی مقاصد یہ ہیں کہ توانائی کے ذخائر اور تیل کی فراہمی پر تسلط، خطے کے اہم دفاعی اور تجارتی مقامات پر گرفت اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اقتصادی و سیاسی مفادات کو درپیش ممکنہ خطرات کا تدارک۔ اس وجہ سے یہ باور کیا جاتا ہے کہ امریکہ خطے میں تادیر موجود رہے گا، اسرائیل اور دوسری مغرب نواز حکومتوں کی امداد جاری رکھے گا اور خطے کے اہم عناصر کو آپس میں منقسم رکھے گا۔

مضمرات

مشرقِ وسطیٰ کا پوراخطہ امریکی پالیسیوں سے بری طرح متأثر ہوا ہے اورغالب گمان یہی ہے کہ مستقبل قریب میں یہ عمل اس طرح جاری رہے گا۔ عالمگیریت کی موجودہ رفتار اور پھیلاؤ کے پیش نظر یہ امکان بھی موجود ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں امریکی رویہ باقی دنیا کو بھی متأثر کرے گا اور خود امریکہ کے لیے کئی ایسے مسائل جنم لیں گے جن سے جان چھڑانا مشکل ہوجائے گا۔ قارئین کی سہولت کے لیے ان اثرات کو تین مختلف پیرایوں میں بیان کیاجارہا ہے: مشرقِ وسطیٰ پر اثرات، امریکہ پر اثرات اور باقی دنیا پر اثرات۔

مشرقِ وسطیٰ پر اثرات

مشرقِ وسطیٰ ایک غیر مستحکم اور غیر محفوظ خطہ بن کر رہ گیا ہے۔ ہر ریاست کے لیے تحفظ سب سے اہم مسئلہ ہے اور تمام ریاستیں اپنی فوجی صلاحیت میں اضافے کے لیے خطیر رقم خرچ کررہی ہیں۔

اس سلگتی ہوئی صورتِ حال میں جبکہ اسرائیل کو بہترین ہتھیاروں کی تیاری اور مستحکم عسکری وسائل کے حصول میں مغربی ممالک کا مالی ہی نہیں فوجی تعاون بھی حاصل ہے، خطے کی دوسری ریاستیں اپنے مالی وسائل خرچ کرنے کے باوجوداپنے تحفظ کے لیے بیرونی ضمانتوں کی محتاج ہیں۔ یہ ریاستیں دفاعی صنعتوں کو ترقی دے کر اعلیٰ معیار کے ہتھیار خود تیار کرنے اور بیرونی سہاروں سے نجات حاصل کرنے کے بجائے باہر سے تیار شدہ اسلحہ اور ساز و سامان خریدنے پر انحصار کررہی ہیں اور ان کے معیار کو بہتر بنانے یا مرمت کرنے کا کوئی انتظام بھی ان کے پاس موجود نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے میں بھی ان کے برآمد کنندگان کی مدد کے محتاج رہتے ہیں۔ اس سے ان ممالک کے بیرونی طاقتوں پر انحصار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

خلیجی ریاستوں کے دفاعی ڈھانچے کی سست رفتاری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کے لحاظ سے پیش بندی کی پالیسی پر نہیں بلکہ دفاعِ محض کے نظریے پر یقین رکھتی ہیں۔ اسی لیے ان کے پاس اتنی فوجی طاقت نہیں کہ وہ کسی بڑے خطرے سے نمٹ سکیں، خواہ یہ خطرہ خطے ہی میں سے نمودار ہو یا اس کے باہر سے در آئے۔

اس حوالے سے امریکہ تقریباً وہی کردار ادا کررہا ہے جو ۱۹۷۰ء تک برطانیہ کا تھا۔اس بناء پر غالباً ایران کے استثنیٰ کے ساتھ، فوجی اعتبار سے خلیج کی تمام ریاستیں اسرائیل کی نسبت بہت کمزور ہیں۔ اس خطے کو عسکری لحاظ سے دنیا کا متحرک ترین خطہ سمجھا جاتا ہے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک فوجی سازو سامان، فنی مہارت اور جدید اسلحہ مغرب بالخصوص امریکہ سے خریدنے پر مجبور ہیں۔

بیرونی مداخلت اور عوامی اضطراب

مشرقِ وسطیٰ کی اکثر ریاستیں اپنے معاملات و مسائل کے حل کے سلسلے میں پیش بندی اور اقدام کی صلاحیت سے عاری ہیں کیونکہ ان کے رہنماؤں کو اصل فکر یہ رہتی ہے کہ ان کی پشت پناہ طاقت --امریکہ -- ان کے اقدامات کی منظوری دیتی ہے یا نہیں؟ یہ ریاستیں ان ممالک سے تعلقات استوار کرنابھی چاہیںجو امریکہ کے پسندیدہ ممالک نہیں تو اس خوف کی وجہ سے کہ امریکہ اس سے ناراض ہوگا، یہ ریاستیں خاموشی ہی میں عافیت سمجھتی ہیں۔ اس لیے یہ ریاستیں دیگر ممالک مثلاً چین اور روس سے تحقیق، فنی مہارت، جدید تعلیم، تجارت اور اقتصادی ترقی وغیرہ میں معاونت حاصل نہیں کرسکتیں، باوجوداس کے کہ ایسے ممالک ان کی مدد کرنے پرآمادہ ہیں۔

اسی طرح مقامی سطح پر امریکہ کی کھلم کھلا مداخلت نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں بلکہ یہاں کے عوام کو بھی اپنے اکثر سیاسی مسائل کے سلسلے میں اپنی صوابدید کے مطابق حل تلاش کرنے سے محروم کردیا ہے۔ مثلاً صدام حسین کا کویت پر حملہ، امریکہ کی عراق پر چڑھائی، ایران کے مبینہ جوہری منصوبوں پر دھمکیاں، اسرائیل کی لبنان، غزہ اورمغربی کنارے کے خلاف جارحیت اور شدت پسندی میں اضافے مشرقِ وسطیٰ کے ایسے مسائل ہیں جن کو خطے کے مقامی عوامل کے تحت حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ لیکن مشرقِ وسطیٰ کی اکثر حکومتیں اپنی خواہش اور ترجیحات کے مطابق ان مسائل کو حل نہیں کرسکتیں اور وہ مجبور ہیں کہ ان مسائل کے حل میں بھی بیرونی قوتوں کی مداخلت کو خاموشی سے برداشت کریں۔ حتیٰ کہ خطے میں جمہوری طور پر منتخب حکومتیں مثلاً فلسطین، لبنان، مصر اور الجزائر کو ختم کرکے ان ممالک کو جمہوریت سے محروم کردیا گیا اور یہ کام بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں ہی نے کیا۔ ان اقدامات کی وجہ سے لوگوں نے اپنے اپنے ممالک میں غیر مقبول حکمرانوں کے خلاف سیاسی اور مسلح جدوجہد کے علاوہ دیگر امکانات پر سوچنا شروع کردیا۔

ان حالات نے خطے کے عوام میں اضطراب، مایوسی، غصہ، جارحانہ رویہ اور شدت پسندی کو فروغ دیاہے۔ خطے کے اکثر رہنما امریکی فیصلوں اور اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جبکہ عوام چاہتے ہیں کہ ان کی حکومتیں اپنے قومی مفاد کے پیش نظر فیصلے کریں۔ عوام اور حکمرانوں کے درمیان اس تفریق نے اُلجھنوں، احساسِ محرومی، مایوسی اور بے حسی میں اضافہ کیا ہے اور یہ چیزیں بالآخر جارحیت اور شدت پسندی کی طرف لے جارہی ہیں۔ اسی طرح امریکہ کی ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘کو مسلمان ’’اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ‘‘ تصور کرتے ہیں، کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کسی اور گروہ کو ہدف نہیں بنایا گیا ہے اور نہ کسی اور کو مقدمہ چلائے بغیر قید رکھا جاتا ہے اورابوغریب اور گوانتانامو بے جیسے اذیت خانوں میں تشدد کا نشانہ بننے والے بھی صرف مسلمان ہی ہیں۔ان احساسات کو اس بات سے مزید تقویت ملتی ہے کہ فلسطینیوں اور لبنانیوں کے خلاف اسرائیل کی ہر فوجی جارحیت کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل رہتی ہے۔

انتشار، بدگمانی اور فرقہ وارانہ اختلافات

’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی روایتی پالیسی مشرقِ وسطیٰ کے لیے بھی کوئی نئی بات نہیں۔ مختلف گروہوں میں تفرقہ پیدا کرنا اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینا استعماری طاقتوں کا شروع سے وطیرہ رہا ہے اور اس خطے میں بھی اس کے ذریعہ سے لوگوں کو منقسم رکھنے اور حکمرانوں کو اس خوف میں مبتلا رکھنے کا کام کیا جاتا رہا ہے کہ علاقائی گروہ اور ریاستیں ان کے لیے خطرہ ہیں۔ خوف اور بے اعتمادی کی ایسی فضا بنادینے سے استعمار کو اپنی نو آبادیات میں قدم جمانے اور وہاں کے عوام کو قابو میں رکھنے میں بہت سہولت رہتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں کو منتشر رکھنے کے لیے اب یہی حکمتِ عملی امریکہ نے اختیار کی ہے۳۔ اس وقت مسئلہ فلسطین کے حل اور عرب اسرائیل تنازعے کو طے کرانے کی کوئی قابل ذکر کوششیں نہیں ہورہیں۔ ایران اور عرب ریاستوں کے معاملے میں بھی اوّل الذکر کو خطے کے تحفظ کو درپیش سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جارہا ہے اور اس پرجوہری پروگرام ترک کرنے کے لیے دبائو ڈالا جارہاہے۔

امریکہ کے زیر اثر ذرائع ابلاغِ عامہ کے توسط سے فرقہ وارانہ اختلاف کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جارہا ہے۔اس کی بناء پر یہاں کے عوام کے لیے اپنے مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں مل جل کر کام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ خطے کے سیاسی اُمور زیادہ تر بیرونی طاقتوں کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے مختلف فرقوں اور نسلی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد پیدا کرنے کے لیے کوئی کوشش نہیں ہورہی جس سے عمومی طور پر عوام میں نفرت، اختلاف اور انتشار پروان چڑھ رہا ہے۔

تیل کے ذخائر کو درپیش خطرات

خلیج فارس کی اقتصادی ترقی کا اصل دار و مدار تیل کے ذخائر پر ہے۔ ۱۹۸۰ء تا ۱۹۸۸ء کی ایران عراق جنگ، کویت پر عراق کی چڑھائی اور خلیج کی دو جنگوں نے تیل کے ان ذخائر کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک طرف تو اربوں ڈالر کا تیل ضائع ہوا اور دوسری طرف تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے خلیج کی ریاستوں کو کافی آمدن ہوئی لیکن یہ عارضی منافع ہی ثابت ہوگا اور اس بات کا مداوا نہیں ہوسکے گا کہ خطے کے ذخائر آہستہ آہستہ ختم ہوتے جارہے ہیں۔ امریکہ مخالف جذبات اور بڑھتا ہوا اشتعال خطے کی سلامتی اور تیل کے ذخائر کے لیے خطرہ ہیں۔ اس کا مزید نقصان یہاں کی ریاستوں کی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

معاشرتی ڈھانچہ اورانسانی وسائل کی ترقی میںکمی

دنیا کی امیر ترین ریاستیں ہونے کے باوجود مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اپنے معاشرتی، عسکری اور انسانی وسائل کے مستحکم ادارے اور سائنسی، تعلیمی اور فنی مہارتوں کے شعبے یا مقامی ماہرین کی تیاری کے لیے تحقیقی مراکز قائم کرنے پر توجہ نہیں دے رہے ہیں، بلکہ وہ دیگر ممالک کے ماہرین کی مدد ہی پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں۔ اور چونکہ آمرانہ طرز حکومت کی وجہ سے بیرونی عناصر کے لیے مفادات حاصل کرنا آسان رہتا ہے لہٰذا ایسے مستحکم اداروں کے قیام کی طرف کوئی توجہ بھی نہیں ہے جن کے ذریعے سے جمہوریت کو پروان چڑھایا جاسکے اور امورِ مملکت میں عوام کی شرکت کا کوئی نظام وضع کیا جاسکے۔

عراق کا المیہ

یوں تو پورا خطہ ہی امریکی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے لیکن عراق کی صورتِ حال سب سے زیادہ ابتر ہے۔ عراقی المیہ کی کچھ جھلک امریکی صدر باراک اوباما کے اس بیان میں دیکھی جاسکتی ہے:

’’عراق میں پُر تشدد کارروائیاں معمول کا حصہ بنی رہیں گی۔ عراق کے بارے میں بہت سارے بنیادی سیاسی سوالات جو اب طلب ہیں۔ تیل کی آمدنی کم ہوتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام حکومت کی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔ --- اس وقت عراق کو خطے میں سیاسی یا اقتصادی لحاظ سے کوئی مقام حاصل نہیں۔ ---لاکھوں بے گھر عراقی ابھی بھی مدد کے منتظر ہیں۔ یہ مرد، عورتیں اور بچے اس جنگ کے منہ بولتے اثرات اور خطے کے استحکام کے لیے چیلنج ہیں‘‘۔(۲۷فروری۲۰۰۹ئ)

اس گول مول بیان سے بھی یہ بات واضح ہورہی ہے کہ جارحانہ امریکی پالیسی کا اصل مقصد محض اپنے مفادات کا حصول ہے۔ یہ اتحادی جارحیت اب تک دس لاکھ سے زائد افراد کو نگل چکی ہے اور یہ تقریباً تمام ہی افراد عام شہری تھے۔جارحیت کایہ بھیانک رُخ واحد تو نہیں لیکن اذیت ناک ترین ضرور ہے۔ عراق میں امریکی اقدامات کے انسانی نقصان کا مکمل اندازہ لگانے کے لیے بنیادی معاشرتی ڈھانچے کی تباہی، آبادیوں کا انخلاء اور نفسیاتی اثرات کے ساتھ ساتھ معاشرتی و سیاسی سانحات، نسلی و لسانی تصادم اورملک کے مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں اہم مقام حاصل کرنے کی غرض سے ہونے والی فرقہ وارانہ کوششوں کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔

عراق کی اس بھیانک اور مایوس کن صورتِ حال اور تسلسل کے ساتھ پُر تشدد واقعات پر نظر رکھنے والے افراد بآسانی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ عوام کے شدائد و مصائب کا یہ سلسلہ تادیر جاری رہے گا۔ عراقی عوام پر مسلط کردہ یک طرفہ ’’جنگ‘‘ کے متأثرین جن کے گھر اُجڑ گئے، کاروبار تباہ ہوگئے، عزیز و اقربا ہلاک اور معذور ہوئے اور جنہوں نے ابو غریب جیسے عقوبت خانوں کا تشدد سہا، وہ اپنی پوری زندگی اس کرب کا شکار رہیں گے۔ عراقیوں کی اگلی نسلیں ہی شاید معمول کی زندگی گزار سکیں۔

امریکی قیادت یہ دعوے کررہی ہے کہ اس ’’جنگ‘‘ کے نتیجے میں عراقیوں کو آزادی اور جمہوریت حاصل ہوئی ہے، جبکہ خود مغرب کا سیاسی ارتقاء یہ بتاتا ہے کہ جمہوری اقدار کا فروغ اور جمہوری رویوں کی تشکیل آہستہ روی کے ساتھ بتدریج ہوتی ہے اور آمریت سے جمہوریت کا سفر معاشرے کی اندرونی جدوجہد ہی سے ممکن ہوتا ہے۔ عراق کے عوام پر اچانک جمہوریت ٹھونس دینے سے جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی اور ملک کا سیاسی مستقبل سالہا سال تک مخدوش ہی رہے گا۔ یہ بات سمجھنی زیادہ مشکل نہیں کہ اگر عراق میں جمہوریت ناکام ہوتی ہے تو خطے کے دیگر ممالک میں جمہوریت کے پنپنے کے امکانات بھی معدوم ہوجائیں گے۔

امریکہ پر اثرات

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اپنی پالیسی کے گو ناگوں نتائج حاصل کیے ہیں۔ اسے کسی بھی دوسری بیرونی طاقت کی نسبت زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہے اور گمان یہی ہے کہ مستقبل قریب میں اسے یہ حیثیت حاصل رہے گی۔ بہت سے رہنما خطے میں امریکی پالیسیوں کی پیروی یا مزاحمت کررہے ہیں یا اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے اپنے مفادات کو درپیش خطرات پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے۔ ان مفادات میں اسرائیل کا تحفظ، تیل کے ذخائراور پیٹرو ڈالر پر تسلط اور اندرونی اور بیرونی طور پر ابھرنے والے خطروں کو انگیخت کرنا شامل ہے۔ بلاشبہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی بساط بنیادی طور پر امریکہ نے بچھائی ہے اور علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں خطے کے مسائل کے حل کے لیے امریکہ ہی کی طرف دیکھتی ہیں۔

ان کامیابیوں کے پہلو بہ پہلو مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں امریکی پالیسی سے خود اس کو بھی کئی ناگوار نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گوکہ واشنگٹن میں تیار ہونے والی پالیسیوں کے ردّعمل سے نمٹنے کی حکمت عملیاں بھی وضع کی گئیں لیکن امریکی پالیسی ساز کچھ پالیسیوں کے منفی اثرات کا اندازہ صحیح طور پر نہ لگاسکے۔ یا تو متوقع ردّعمل اور نتائج کی شدت توقع سے زیادہ رہی یا پھر ایسے واقعات پیش آئے جن کے بارے میں سوچا نہیں گیا تھا۔ ذیل میں دیا گیا تجزیہ واضح کرتا ہے کہ امریکی پالیسی سازوں کی توقعات اور اندازوں سے ہٹ کر رونما ہونے والے اثرات آنے والے وقتوں میں امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔

مقامی سیاسی ماحول کا انتہا پسندی کی طرف میلان

امریکہ کی ہر معاملے میں اسرائیل نواز پالیسی کی وجہ سے امریکہ خود عالمی برادری میں اپنی ساکھ اور وقار کھورہا ہے۔ اسرائیلی اقدامات امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے لیے خطرہ بنتے جارہے ہیں۔ اگر ان پر قابو نہ پایا گیا تو کچھ عرصہ بعد امریکہ دنیا میں کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ مزید یہ کہ اسرائیل کی من مانیاں خود امریکہ کی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ امریکہ کے قانون ساز، پالیسی ساز اور اور دانشور حضرات اسرائیل کے ہر اقدام کے دفاع میں جو جارحانہ اور شدت پسندانہ نقطۂ نظر اختیار کرتے ہیں وہ نہ صرف امریکہ کی معاشرتی و نظریاتی اور سیاسی اقدار کو متأثر کررہے ہیں بلکہ اس ’’امریکی طرز فکر‘‘ کو بھی مجروح کررہے ہیں جس پر امریکی اب تک فخر کرتے چلے آئے ہیں۔

امریکہ میں مذہبی اور نظریاتی شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ملک میں سیاسی مباحثوں کے ماحول کو مزید گرما دیا ہے۔ خاص طور پر اسرائیل کی مدد اور تعاون کی پالیسی اکثر زیر بحث رہتی ہے۔نسل پرستانہ مذہبی سوچ امریکہ کے پالیسی ساز گروہوں میں اچھی طرح جڑ پکڑ چکی ہے اور بار بار بائبل کے حوالے دے دے کر یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کو باقی رہنے کا حق ہے اور یہ امریکی عوام کی ’’مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری‘‘ ہے کہ فلسطینیوں کو مقبوضہ علاقوں سے نکالنے میں اسرائیل کی مدد کی جائے۔ بالفاظ دیگر یہ ’’نسلی صفایا‘‘ سیاسی جنگ قطعاً نہیں ہے، بلکہ اس سے مقصود یہ ثابت کرنا ہے کہ ’’خدا کی بات سچی ہے یا نہیں‘‘۔ (اس تناظر میں ’’خدا کی بات‘‘ کا مطلب ہے: بائبل میں اسرائیلیوں سے خدا کا یہ فرمان کہ ’’میں تمہیں یہ زمین دے رہا ہوں‘‘۔)

گوکہ اسرائیل کے حق میںیہ شدت پسندانہ مذہبی بنیاد پرستی امریکی عوام کی اکثریت کو قبول نہیں لیکن اس سوچ کا بااثر پالیسی ساز اور ذہن ساز گروہوں میں گہرائی تک سرایت کرجانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ نقطۂ نظر اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے اور اس کے نتیجے میں نفرت، مذہبی شدت پسندی، بعض صورتوں میں قوم پرستانہ سیاسی بنیاد پرستی، نسل پرستی اور عدم برداشت کے مظاہر امریکی معاشرے میں پروان چڑھنے لگیں گے۔

پالیسی سازی کا مخدوش مستقبل

اسرائیل کو تحفظ اور مدد فراہم کرنے کی مستقل پالیسی امریکہ کی بین الاقوامی سفارتی حیثیت اور اس کے عالمی رہنما ہونے کی ساکھ کے لیے شدید خطرہ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس سے بین الاقوامی سیاست کی اخلاقیات و آداب بھی سخت متأثر ہورہے ہیں۔ اسرائیل اور اسرائیلی لابی کی امریکی پالیسیوں بالخصوص مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اُمور پر روز افزوں گرفت اور بڑھتے ہوئے دباؤ کا اندازہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے اشکیلون (اسرائیل) کے مقام پر ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ ۲۰۰۹ء میں غزہ کی جنگ بندی کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے بارے میں اس وقت کے امریکی صدر بش کے ساتھ ٹیلی فون پر اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ایہود اولمرٹ نے بتایا کہ ’’میں نے اس (بش) سے کہا کہ تم اس قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دوگے۔ا س پر صدر بش نے جواب دیا، مجھے اس قرارداد کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ میں نے اسے دیکھا بھی نہیں ہے اور نہ میں اس کے متن سے واقف ہوں۔ اس پر ایہود اولمرٹ نے کہا کہ:یہ کافی ہے کہ میں اسے جانتا ہوں، تم اس کے حق میں ووٹ نہیں دو گے۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ’’اس (بش) نے اپنی سیکریٹری آف اسٹیٹ کو حکم دیا اور سیکریٹری آف اسٹیٹ کو اس بات کی سخت شرمندگی اُٹھانی پڑی کہ اس قرارداد کے حق میں اس نے ووٹ نہیں دیا جو اس نے خود سوچی، تیار کی، اسے حتمی شکل دی اور اس کے لیے لوگوں کو قائل کیا تھا۔‘‘

اس ایک واقعہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ امریکہ اسرائیل اتحاد کی مثال زیادہ عرصہ یوں نہیں رہ سکتی کہ کتا دُم کو نہیںہلارہا ہے، بلکہ دُم کتے کو گھما رہی ہے اور اس کا سر بھی دیوار سے پھوڑ رہی ہے۔

ساکھ کی خرابی اور امریکہ مخالف جذبات کا فروغ

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نہر سوئز کے مسئلہ پر جب امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں حصہ لینا شروع کیا اور ایک معتدل نقطۂ نظر اختیار کیا تو اسے خطے کے عوام نے امن کے حقیقی علم بردار کی حیثیت سے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ تاہم اس میں غیر ضروری توسیع کے ذریعہ سے اسرائیل کو فائدہ پہنچانے کی کوشش نے امریکہ کی ساکھ کو مجروح کرنا شروع کردیا۔

خطے میں امریکی پالیسیوں کا پہلا غیر معمولی ردّعمل ایرانی انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ ایران میں امریکی مداخلت کی پالیسی کا غیر متوقع نتیجہ تھا۔ گوکہ امریکی پالیسی سازوں نے کوشش کی کہ سنی عرب حکمرانوں کو شیعہ فارسی خطرے سے ڈرا کر ایران کے خلاف مقامی تعاون حاصل کیا جائے لیکن پھر بھی خلیج فارس میں امریکہ کو اپنے مقاصد حاصل نہ ہوسکے۔ امریکہ کی اب بھی حتی المقدور کوشش ہے کہ ایران کو اس طرح الجھاکر رکھا جائے کہ وہ خطے میں امریکی مفادات کی راہ میں رُکاوٹ نہ بن سکے۔

عوامی سطح پر بے چینی کا دوسرا مظہر مسلح گروہوں کا منظم ہونا ہے۔ یہ گروہ اسرائیل کی ’’پُرامن‘‘ بقا، امریکہ کے حمایت یافتہ مسلمان حکمرانوں اور امریکی مفادات کے حامل خطے کے توانائی کے ذخائر کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ان گروہوں کی تنظیم کی ضرورت، تخلیق اور ان میں اضافے کی اصل وجہ امریکی پالیسیوں کا اپنا شدت پسندانہ انداز ہے۔ اسی بناء پرہاس(Haass)کے الفاظ میں ’’عراق، لبنان اور فلسطینی علاقوں کی نجی افواج پہلے ہی مضبوط ہورہی ہیں۔ ---عرب حکمرانوں کے بارے میں یہی اندازہ ہے کہ وہ آمرانہ طرز ہی پر کاربند، مذہبی لحاظ سے غیر مصالحت پسند اور امریکہ مخالف رہیںگے۔ دواہم ہمنوامصر اور سعودی عرب ہی ہوںگے‘‘۔

امریکی افواج کی جانب سے ابو غریب، بگرام اور گوانتا نامو بے کے قیدیوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک، عراق کے حوالے سے گمراہ کن امریکی پروپیگنڈہ اور فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی مظالم پر اسرائیل کی کھلم کھلا امریکی حمایت نے امریکہ کی ساکھ کو بری طرح متأثر کیا ہے۔ امریکہ ایک طرف تو جمہوریت، آزادی اور حریت پسندی کا علم بردار ہونے کا دعویٰ کرتاہے، لیکن مشرق وسطیٰ کے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ امریکی قیادت کے بیانات جو بڑے تواتر کے ساتھ امریکی ذرائع ابلاغ سے نشر ہوتے رہتے ہیں، ان میں انہیں اسلامی فاشسٹ قرار دے کر نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے خلاف کارروائیوں کو ’’صلیبی جنگ‘‘، ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘اور’’ تہذیبوں کے درمیان تصادم‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ مزید برآں امریکہ کا مسلمان ممالک سے ان کے تعلیمی نظام،تہذیب و اقدار اور نظام حکمرانی میں امریکی طرز پر تبدیلی لانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے عمل سے مسلمان عوام بجا طور پر یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے اسلامی تمدن پر امریکی طرز زندگی کو مسلّط کیا جارہا ہے۔ اس بناء پر امریکہ مخالف ہی نہیں مغرب مخالف جذبات اور فکر پروان چڑھ رہی ہے۔

درج بالا صورت حال کی وجہ سے امریکہ کے بطور عالمی رہنما اور دنیا کی بھلائی کے لیے کام کرنے والی حقیقی طاقت کا تأثر زائل ہورہا ہے۔لوب(Lobe)کے الفاظ میں:’’ بہت جلد یہ نظر آنے والاہے کہ امریکہ ایک نوآبادیاتی طاقت ہے۔ بلکہ امریکہ اپنے سے پہلے والوں (یورپیوں) سے بھی بدتر نظر آئے گا۔ کیونکہ ان کو اقتصادی مفادات کی حامل وسائل چوسنے والی طاقتیں سمجھا جاتا تھا، جبکہ امریکہ وسائل ہڑپ کرنے والی طاقت کے ساتھ ساتھ نظریاتی دشمن بھی ہے‘‘۔

مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اگر امریکہ اپنی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کرتا تو خلیج کے رہنما خواہی نخواہی اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوکر امریکہ مخالف ممالک سے وابستہ ہوجائیں گے۔ یہ بات امریکی مفادات کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگی۔ جس طرح کئی مغربی ممالک یہ دیکھتے ہوئے کہ امریکہ اپنے مفاد کی غرض سے مختلف مہم جوئیاں کررہا ہے، امریکہ کی حمایت کی پالیسی سے دست کش ہورہے ہیں۴۔ مختلف ممالک کی یہ سوچ آگے چل کر امریکہ کو بین الاقوامی برادری سے علیحدہ کرسکتی ہے۔

امریکہ اور یورپ کے درمیان کھینچاتانی

صدام حسین کی کویت پر چڑھائی کے موقع پر تو امریکہ اہم بین الاقوامی طاقتوں کا اتحاد بنانے میں کامیاب ہوگیا اور خلیج کی پہلی جنگ کے نتیجے میں اسے خطے میں قدم جمانے کا موقع بھی مل گیا لیکن نائن الیون کے بعد عراق پر حملے کے لیے امریکہ کی دلیل کو کئی ایسے ممالک نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا جو پہلے اس کے ساتھ شریک رہے تھے اوراقوامِ متحدہ نے بھی اس اقدام کی منظوری نہیںدی۔ امریکہ اپنی اس جارحیت کی بناء پر بین الاقوامی برادری میں تنہا ہوگیا۔ خاص طور پر اسے یورپ میں پذیرائی نہ مل سکی اور اسے اکیلے ہی عراق پر حملہ کرنا پڑا۔ کچھ یورپی ممالک نے تو بین الاقوامی اداروں میں عراق کے خلاف جنگ کی سخت الفاظ میں مخالفت کی۔ ویتنام کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب امریکہ کو اپنے یورپی دوست ممالک کی طرف سے اتنی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکہ کی اسرائیلی لابی کو خوش رکھنے اور ہر جا و بے جا اقدام پر اسرائیل کی حمایت کرنے کی پالیسی کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کے درمیان سرد مہری میں مزید اضافہ ہوا۔ کچھ یورپی رہنماؤں، تحقیقی و تجزیاتی اداروں (Think Tanks) اور سیاسی دانشوروں کو، خصوصاً اسرائیلی لابی کی طرف سے، اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں اس کی جارحیت پر تنقید کرنے کی وجہ سے سامی مخالف (Anti-Semitic) کی گالی دی گئی۔اسرائیل پر تنقید کرنے والوں کو سامی مخالف قرار دینے اور یورپ میں سامیت مخالفت کو ہیبت ناک اور دہشت انگیز بناکر پیش کرنے سے امریکہ پر جو اثرات پڑے ہیں، وہ متعلقہ اُمور تک ہی محدود نہیں رہیں گے۔

اس زاویۂ نگاہ نے ان امریکی تجزیہ نگاروں کو بھی متأثر کیا ہے جو بالعموم سمجھ دار اور اعتدال پسند گردانے جاتے ہیں۔ مثلاً تھامس فرائڈ مین نے ’’نیویارک ٹائمز‘‘ میں تحریر کیا کہ ’’فرانس ہمارا محض ناراض اتحادی نہیں ہے، یہ ہمارا محض حاسد مخالف بھی نہیں ہے بلکہ یہ ہمارا دشمن بنتا جارہا ہے‘‘۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے اس بات کے لیے ووٹ دیا کہ اس کے کیفے ٹیریا میں فرنچ فرائز (چپس) کا نام بدل کر اسے فریڈم فرائز کہا جائے۔اس طرح کے اقدام امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان تصادم کی سرکاری تصدیق کرتے ہیں۔ یہ رویہ بالآخر خود امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

عالمی اثرات

فی الوقت امریکہ ہی بنیادی طور پر بین الاقوامی سطح پر ترجیحات طے کرنے کا کام کرتا ہے۔ بین الاقوامی برادری، خصوصاً مغربی دنیا، بالعموم امریکی نقطۂ نظر ہی کی پیروی کرتی ہے۔ اس طرح بہت سے ممالک اپنے اپنے طور پر اپنے مالی، انسانی، عسکری، سفارتی اور سیاسی وسائل امریکی مفادات کو لاحق خطرات سے مقابلہ کرنے میں صرف کرتے ہیں۔

نائن الیون کے بعد کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسیوں نے بلاشبہ بین الاقوامی سیاسی منظر نامے کو جڑسے ہلاکر رکھ دیا ہے۔ پہلے دہشت گردی کو جرم سمجھا جاتا تھا اور دہشت گرد پر عدالتوں میں مقدمہ چلاکرتا تھا۔ نائن الیون کے بعد دنیا نے قانون و انصاف کے بین الاقوامی نظام میں یکسر تبدیلی دیکھی۔ خودمختار ریاستوں کو ہدف بنایا گیا، بدنام کیا گیا، ان پر حملے کیے گئے اور ان پر قبضہ کرلیا گیا۔ صرف اس لیے کہ کچھ افراد نے انفرادی طور پر مجرمانہ سرگرمیاں کی تھیں۔ واشنگٹن کے اس دعوے کہ ’’عالم گیر دسترس رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف جنگ غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والا عالمی سطح کا کام ہے‘‘ کا مطلب ہے کہ خفیہ دشمن کو ختم کرنے کی فوجی کارروائی سالہا سال تک جاری رہ سکتی ہے اور مزید خود مختار ممالک اور اقوام کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

اس جنگ میں دشمن کے خلاف نفسیاتی حربوں کو بے رحمانہ طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے۔ بین الاقوامی سیاست کے اخلاق و آداب کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے رائے عامہ کو گمراہ کیا جاتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایسی پالیسیوں پر عملدرآمد، بالخصوص صدام حسین کے خلاف جھوٹے دلائل کی بنیاد پر جنگ نے بھی انسانی تحفظ اور انسانی حقوق کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ دنیا کی تمام مہذب اقوام کے لیے چند سالوں کے اندر لکھوکھا افراد کی ہلاکت ہی تشویش کا باعث نہیں ہے بلکہ معصوم شہریوں کی عزت و وقار کے منافی امریکہ کی زیر قیادت اتحادی افواج کی کارروائیوں نے مغربی دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اس عمل سے خود ان کی اپنی تہذیبی ترقی متأثر ہورہی ہے۔

امریکہ کی یک طرفہ فوجی مہم جوئی، اقوام متحدہ کو درخور اعتنا نہ سمجھنا، اِقدامی حملہ کا اصول اور جب اور جہاں چاہے طاقت کے استعمال کی پالیسی نے دنیا کو جنگل کے قانون کے اُس دور میں پہنچادیا ہے جہاں آمر اور مامور، طاقتور اور کمزور اقوام اور دوست اور دشمن کے درمیان تعلقات کا فیصلہ ڈنڈے کی طاقت کی بنیاد پر ہوتا تھا۔حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے اس پر احتجاج کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ان قوانین کو پامال کرکے رکھ دیا گیا ہے جو قانونی اور پُرامن طریقے سے اختلافِ رائے کا اظہار کرنے والے شہریوں کے حوالے سے موجود ہیں۔ اب حکمران مخالفانہ جمہوری تحریکوں کو طاقت کے ذریعے سے کچل دینے میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھنے لگے ہیں۔

اِقدامی حملہ (Preemptive Strike) کا اصول بین الاقوامی سیاسی نظام میں طوائف الملوکی کا سبب بناہواہے اور عالمی برادری کے مفادات داؤ پر لگ چکے ہیں۔ علاقائی طاقتیں مثلاً اسرائیل اور بھارت کھلم کھلا یہ باتیں کررہے ہیں کہ وہ اپنے دشمن پر اِقدامی حملہ کرسکتے ہیں۔ اسرائیل بہت سے فلسطینی رہنماؤں کو قتل کراچکا ہے، لبنان اور فلسطین کے خلاف جنگ چھیڑ چکا ہے۔ یہ طرز فکر ایسے نہایت ذہین، مہذب اور معتدل افراد کو بھی متأثر کررہا ہے جن کی دلائل و اعتدال کی صلاحیت اُس وقت ختم ہوجاتی ہے جب ان کے افراد اور قوم کو درپیش تنازعات پر بات شروع ہوتی ہے۔یہ احساسات انہیں انتہا پسند اورعسکریت پسند گروہوں میں شامل ہونے پر مجبور کردیتے ہیں۔

اس بات کا خدشہ ہے کہ عراق، لبنان اورفلسطین میں موجود عسکریت پسندی پڑوسی ممالک شام، ترکی اور خلیجی ریاستوں اور بالآخر پوری دنیا میں پھیل جائے گی۔ عراق میں فرقہ وارانہ گروہوں کو باہم منقسم رکھنے کی امریکی پالیسی بھی انتہائی مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ کیونکہ عراق میں تیل کے بڑے ذخائر سنی علاقوں میں ہیں اور ان پر عسکریت پسند عناصر کا قبضہ کسی بھی صورت میں بین الاقوامی برادری کے مفاد میں نہیں ہے۔

مزید برآں مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں امریکی پالیسیوں نے تحاریکِ آزادی، خودمختاری کے لیے جدوجہد اور حقِ خودارادیت کے حصول کے تصورات کو ختم کرکے رکھ دیاہے۔ نائن الیون سے پہلے بین الاقوامی سیاست میں انہیں قانونی اور مبنی بر انصاف سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اس سے نفرت، مایوسی، جھنجلاہٹ اور متشددانہ رجحان میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ اور دنیا کو اس جانب دھکیلا جارہاہے کہ سیاسی جدوجہد کو مسلح تحریکوں میں تبدیل کردیا جائے۔ اگر یہ رجحان بین الاقوامی سیاسی نظام میں رواج پاگیا تو پورا کرۂ ارض تشدد کی لپیٹ میں آجائے گا۔

حاصلِ بحث

جنگ عظیم دوم کے اختتام پر دنیا نے یہ باور کرلیا تھا کہ قوم پرستی کو زیادہ مضبوط بنانا، قومی مفادات پر ضرورت سے زیادہ زور دینا اور کمزور اقوام پر کسی خاص نسل کے لوگوں کو بزورِ طاقت مسلّط کرنا دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے جاسکتا ہے۔ یہ بات عالمی سطح پر تسلیم کی گئی کہ نازیوں کا یہ تصور کہ جرمن نسل دیگر تمام اقوام سے برتر ہے، دنیا کی تباہ کن ترین جنگ کا ایک اہم سبب ہے۔

اس تناظر میں امریکہ کی ۲۰۰۲ء کی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی میں یہ متکبرانہ دعویٰ کہ’’ امریکی قوم، امریکہ کا معاشرتی، سیاسی و اقتصادی نظام اوریہاں کی اقدار ہی قومی کامیابی کی بقاکے لیے رہنمائی کاکام دے سکتی ہیں‘‘،بین الاقوامی برادری کو اس کے مضمرات پر توجہ دینی ہوگی۔غرور اور قومی برتری کا یہ احساس امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں میں واضح طور پر نظر آتا ہے اور اس کے اثرات مسلسل بڑھتے تشدد، عدم برداشت، جنگی جنون اور مسلح جدوجہد کی شکل میں نظر آرہے ہیں۔

اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ بین الاقوامی برادری امریکہ میں موجودروشن خیال اور اعتدال پسند قوتوں کے ساتھ مل کر نازی ازم کی طرز کی دقیانوسی سوچ کو ختم کرنے کے لیے کام کرے تاکہ امریکہ کے سیاسی و معاشرتی منظر نامے کو درست کیا جاسکے اور بین الاقوامی سیاسی نظام کو ان قوتوں کے ہاتھوں میں جانے سے بچایا جاسکے جنہوں نے آزادی اور جمہوریت کو امریکہ کی بالادست فوجی قوت سے وابستہ کررکھا ہے۔

ضرورت صرف اسی بات کی نہیں کہ دنیا امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں پالیسیوں اور بین الاقوامی برادری پر پڑنے والے ان کے اثرات سے سبق حاصل کرے بلکہ اس امر کی ضرورت کہیں زیادہ ہے کہ طاقت کے محرکات کے استعمال کے حوالے سے زیادہ محتاط رہا جائے اور ان پر گہری نظر رکھی جائے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کی ذمہ دار ریاستیں تنازعات کے فیصلے، مسائل کے حل، خطرات سے نمٹنے اور معاملات کو سلجھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، اس سے پہلے کہ بحران اور گھمبیر ہوجائیں اور تصادم مزید شدت اختیار کرلیں۔

(تلخیص و ترجمہ: محمد شاہد رفیع)

حواشی

۱۔ یہ وعدہ برطانوی خارجہ سیکرٹری اے جے بالفور نے لارڈراتھ شیلڈ کے نام اپنے خط محررہ ۲ نومبر ۱۹۱۷ء میں کیا۔اسے معاہدہ بالفور کہاجاتاہے۔اس خط کا متن اسرائیل کی وزارت امور خارجہ کی ویب سائٹ http://www.mfa.gov.ilپر"The Balfour Declaration - November 2, 1917"کے نام سے دیکھا جاسکتاہے۔ ۲۔ ’’سرد جنگ کے دوران فوج کاکام سوویت پھیلائو کو روکنا تھا۔آج اس کا کام ’’جمہوری امن کے خطوں ‘‘کی حفاظت اوران کا پھیلائوہے،تاکہ مقابلہ کی نئی طاقت کو ابھرنے سے روکا جا سکے؛ اور یورپ ، مشرقی ایشیا اورمشرقِ وسطیٰ کے اہم خطوں کا تحفظ کیا جاسکے اوراس لیے کہ نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال سے نئی قسم کی ممکنہ جنگ کے خلاف امریکہ کی اقدامی صلاحیت کا تحفظ کیا جاسکے۔‘‘حوالہ: Donnelly, "Rebuilding America's Defenses: Strategy, Forces and Resources for a new Century",2-3, See also Eaton, Why Iraq? Why Now? ۳۔ ایرانی انقلاب اور صدام کی کویت پر چڑھائی، بہت سے واقعات میں سے دو ایسے واقعات ہیں جن کو بنیاد بنا کر امریکہ نے پروپیگنڈے کے ذریعے خطے میںیہ تاثر دیا ہے کہ چھوٹی ریاستیں سخت خطرے میں ہیں اور انہیں اپنے تحفظ کے لیے امریکی طاقت کی ضرورت ہے۔امریکہ ایک عشرہ پر محیط ایران عراق جنگ میں دونوں ممالک کو اسلحہ مہیا کرتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ دونوں کو خطے کے لیے خطرہ بھی قرار دیتا رہا۔اگر خطے کے رہنما یکجاہو جاتے تو کسی بیرونی طاقت کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ ان کو غلط طور پر استعمال کرسکے۔ ۴۔ جیسا کہ ہاس (Haass)نے اپنے مقالے میںتحریر کیا ہے کہ ـحالیہ برسوں میں بین الاقوامی معاملات میں واضح دراڑ پڑ چکی ہے۔ ان معاملات میں بین الاقوامی فوجداری عدالت، کیوٹو پروٹوکول اور ABMمعاہدہ شامل ہیں۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے اقدامات بھی تشویش کا باعث ہیں۔یورپی لوگ ہر معاملے میں اسرائیل کی حمایت اور فلسطینوں کے حقوق اور مطالبات کو لائق اعتنانہ سمجھنے کی امریکی پالیسوں کو بھی سمجھنے لگے ہیں۔حتیٰ کہ جب امریکیوں اور یورپیوں کے درمیان کوئی اصولی تجارتی معاہدہ بھی ہوتا ہے تو اس کی بھی ہمیشہ پاسداری نہیں کی جاتی ۔(نیز دیکھیے: Blacker, "US-European Relations after Iraq - An American perspective", and Gamble, "The idea of the West: Changing Perspectives on Europe and America."