قضیہ فلسطین اور موروثیت چھاپیے ای میل

palestineفلسطین جسےتاریخی طورپر شام کہا جاتا تھا انسانی تہذیبوں میں اپنی سیاسی، معاشی، مذہبی اور ثقافتی وجوہات کی بناء پر صیہونی غیر قانونی تسلط سےقبل بھی اپنا الگ مقام رکھتا تھا اور اسےیہودی اور عیسائی روایات میں بھی تقدس حاصل تھا۔ قرآن کریم نےاسی علاقےکےحوالےسےسورہ بنی اسرائیل یا اسراء کےآغاز میںیوں ارشاد کیا ہے ’’پاک ہےوہ جو لےگیا ایک رات اپنےبندےکو مسجد حرام سےدور کی اس مسجد تک جس کےماحول کو اس نےبرکت دی ہےتاکہ وہ اسےاپنی کچھ نشانیوںکا مشاہدہ کرائے‘‘ (۷۱:۱)۔ تفصیلات میںجائےبغیر اس آیت مبارکہ میںپہلی بات یہ واضح کر دی گئی ہےکہ الصخرہ کےاردگرد کا ماحول خصوصیت رکھتا ہےاور اسےاللہ تعالیٰ نےبرکت سےنوازا ہے۔ یہی سبب ہےکہ الاقصیٰ یا دُور والی مسجد کو القدس نہ صرف عربی بلکہ عبرانی زبان میںبھی کہا گیا ہے۔
دوسری بات یہ سمجھائی گئی ہےکہ اس میں اہل ِ دانش کےلیےنشانیاں ہیں یعنی قوموں کےعروج و زوال کی داستان کےبعض اہم ابواب کا تعلق اس خطہ کےساتھ ہے۔  یہاں قرآن کریم نےیہودی اساتیر کےاس نقطہ نظر سےمکمل طورپر اختلاف کیا ہےجس میں یہودیوں کے’’منتخب قوم‘‘ ہونےکی بناء پر گویا انہیں القدس وراثت میں اس طرح دے دیا گیا ہےکہ اس کی تولیت نسلاً بعد نسل صرف یہودی تخم رکھنےوالی نسل ہی میں رہے۔ قرآن کریم زمین اور حیات بعد الممات میںانسانوں کو شرف دینےکا سبب نہ ان کی نسلی، لسانی، قبائلی یا خطےسےوابستہ عصبیت کو قرار دیتا ہےاور نہ ایسی کسی وراثت کا قائل ہےجو ازل تا ابد کسی ایک گروہ کےسپرد کر دی جائے۔
قرآنی اخلاقیات میں ان تعصبات کی جگہ تقویٰ، بندگی ٔ رب اور حاکمیت الٰہی کےقیام کو معیار قراردیا گیا ہے۔ چنانچہ جب تک ایک گروہ انسانیت اس اخلاقی ضابطےپر عمل کرتا ہےزمین پر اختیار کا مستحق قرار پاتا ہےوگرنہ اس سےبہتر گروہ کےذریعہ ایک تاریخی عمل کےطورپر تبدیلی لائی جاتی ہے۔ ’’یہ تو زمانےکےنشیب و فراز ہیںجنہیںہم لوگوں کےدرمیان گردش دیتےرہتےہیں‘‘(آل عمران۳: ۰۴۱)۔ قوموں کےعروج وزوال کےقرآنی نظام میں للٰہیت او رعدل کو بنیاد قرار دےکر یہ بات سمجھائی گئی ہےکہ جو قوم بھی اپنا تعلق رب سےجوڑنےکی بجائےجاہلانہ عصبیت و عربیت یا صیہونیت  سےجوڑےگی اور بندگی ٔ رب کو نظرانداز کرتےہوئےجادۂ عدل سےانحراف کرےگی وہ قیادت کی مستحق نہیںہو سکتی۔
لیکن کیا اس کا مطلب یہ لیا جائےکہ اگر حقیقت واقعہ کےطور پر ایک سفاک طاغوتی قوت کسی خطہ پر قابض ہےاور اس کےافراد کو محکوم ،مظلوم اور مستضعفین بنا کر ظلم کا نشانہ بنا رہی ہےتو اسےیہ اختیار دےدیا جائےاور یہ سمجھا جائےکہ طاغوت کےمسلط ہونےمیںحمایت ربانی شامل ہے؟بات بہت واضح ہےکہ جو عدل،رحم وکرم،اور شفقت کا منبع ہےجو اپنےبندوںسےہر لمحہ محبت کرتا ہےوہ طاغوت اور ظلم کی نہ تو پشت پناہی کر سکتا ہےنہ اسےظلم کرتےہوئےدیکھ کر خوش ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہےکہ قرآن کریم نےایسےمجبور وبےکس افراد کےحوالےسےیوںہدایت کی ہے’’آخر کیا وجہ ہےکہ تم اللہ کی راہ میںان بےبس مردوں،عورتوںاور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیےگئےہیںاور فریاد کر رہےہیںکہ ہمارےرب ہم کو اس بستی سےنکال جس کےباشندےظالم ہیں،اور اپنی طرف سےہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے‘‘(النساء۴:۵۷)۔ گویا ظلم جہاںبھی ہو اورجس کسی کو اس کےاپنےگھر میںمجبور و بےکس بنادیا گیا ہو قرآنی اخلاقیات کا مطالبہ ہےکہ اسےطاغوت سےنجات دلانےمیںمدد کی جائےاور حقوق انسانی کی بحالی کےلیےجہاد کو اختیار کیا جائے۔
اس تناظر میںدیکھا جائےتو صیہونی قابضوںکا یہ دعویٰ کہ ان کا فلسطین پر کوئی آبائی حق ہے،نہ قرآن کی روشنی میںاور نہ خود ان کےمصادر کی بنیاد پر کوئی سنجیدہ دعویٰ خیال کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالےسےریچل میسی نائےکا مقالہ Historiography in Relations to the Territory of Palestin قیمتی معلومات فراہم کرتا ہےاور بیک وقت لادینی ذہنیت رکھنےوالےمفکرین اور دیگر حضرات کےتصورات کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ اس نوعیت کی علمی بحث سےقطع نظر فلسطین کےمسلم اور عیسائی باشندوں پرصیہونی مظالم بیسویںصدی کی تاریخ کےتاریک ترین باب سےتعلق رکھتےہیںاور صرف سماعت،بینائی،اور قوتِ عقل سےمحروم شخص ہی فلسطینیوںکےحق خود ارادیت کا انکار کر سکتا ہے۔
اس پورےقضیےمیںمغربی طاقتوںکا گھناؤنا کردار بھی ایک شفاف تاریخی حقیقت ہے۔ برطانیہ ہو یا امریکہ ناموںکےفرق کےباوجود دونوںقوتوںنےاپنےمقدوربھرظلم کا ساتھ دینےاور مظلوم فلسطینیوںکو عدل سےمحروم رکھنےمیںایک سفاکانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیںکہ فلسطینیوںپر اس ظلم کےذمہ دار صرف بیرونی دوست نما دشمن ہیں بلکہ حقیقت واقعہ یہ ہےکہ خود فلسطینیوںکےبعض دھڑےاور نام نہاد عرب قومیت کےعلمبردار ممالک نےزبانی جمع خرچ کےسوا آج تک کوئی ایسا اقدام نہیںکیا جو ان کی سنجیدگی کا پتہ دیتا ہو۔ اگر پوری صورت حال کو اختصار کےساتھ بیان کیا جائےتو تین عوامل بہت نمایاںطورپر کارفرما نظر آتےہیں۔ اولاً مغرب کےعلمی اور ابلاغی حلقوںکی طرف سےایک سوچی سمجھی حکمت عملی کےطورپر عالمی افق پر معلومات کا اس طرح نشر کرنا کہ فلسطینی ظالم، قاتل،دہشت گرد،خودکش حملہ آور اور بنیاد پرست اور سیامیت کش (anti-semlt) نظر آئیں اور ارض مقدس پر ناجائز قبضہ کرنےوالے، نسل پرست، خون آلود ہاتھوں والےاسرائیلی اس ظلم کا نشانہ سمجھےجائیں۔ معروف ماہر لسانیات ایڈورڈ سعید کی تصنیفات اس حوالہ سےانتہائی مستند حقائق فراہم کرتی ہیں۔
ثانیاً خود فلسطینیوں کو اس ابلاغی سازش کےنتیجہ میںنفسیاتی اور ذہنی طورپر دو بیماریوںمیںمبتلا کر دیا جائےیعنی اوّل یہ کہ وہ ایک کمزور،بےبس،پسماندہ لوگ ہیںجنہیںاگر کوئی  خیرات دےدی جائےتو انہیںشکرگزار ہونا چاہیےگو وہ اس خیرات کےبھی مستحق نہیںہیں۔ چنانچہ وہ صیہونیوںکی شرائط پر جن کی حمایت برطانیہ اور امریکہ روز اول سےکرتا آ رہا ہےاحسان مندی کےساتھ عمل کرنےکےلیےآمادہ ہو ں اور روٹی کےجو بھی ٹکڑےاُنہیںدےدیےجائیں،اس پر شا کر و شاداںہونے

کےلیےذہنی طورپر تیار ہو جائیں۔ دوم یہ کہ یہ تصور نہ صرف فلسطین کےمظلوم باشندوںبلکہ نام نہاد عرب قومیت کےعلمبردار ممالک کےفرمانرواؤںکےبھی ذہن نشین کرادیا جائےکہ مسئلہ کا حل صرف گفتگو سےہی ہو سکتا ہے۔ قوت کا استعمال کوئی کام نہیںکر ےگا۔ یہ نصیحت اور تصور ان اقوام کی طرف سےگزشتہ ۰۶ سال سےپیش کیا جا رہا ہےجو موجودہ دور کی تاریخ میںسب سےزیادہ قوت کےاندھےاستعمال پر عمل کر کےکروڑوںافراد کےسفاکانہ قتل کی ذمہ دار ہیں۔ اور صرف یہ جانتی ہیںکہ لاٹھی کےبغیر بھینس پر قبضہ نہیںہو سکتا۔
بہرصورت اس بات میںلازماً صداقت پائی جاتی ہےکہ بعض قضیےگفتگو سےبھی طےہو سکتےہیںیہ اسی وقت ہو گا جب دوسرےفریق کو قرآن کریم کی الہامی حکمت کی روشنی میں،یہ احساس ہو جائےکہ اس کا مقابلہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کےساتھ ہے،ایک ایسی قوم کےساتھ ہےجس کی نگاہ میںموت کا خوف کوئی مقام نہیںرکھتا اور جو شہادت اور جہاد کو اپنا مقصد حیات سمجھتی ہے۔ 
اس کےبرعکس اگر فریق مخالف کو یہ معلوم ہوکہ نام نہاد مسلم فرمانروا ہر اس بات کو لپک لپک کر خوش آمدید کہنےکےلیےبےتاب ہیںجو امریکہ کی  طرف سےبطور ایک اشارہ کےبھی آجائےتو مذا کرات اپنا مفہوم کھو بیٹھتےہیں۔ گویا کمزوری،لاچاری، بےبسی اور افلاس کےاحساس کو روح اور دماغ میںاتناجاگزیں کر دیا جائےکہ اسرائیلی وکیل جو کچھ کہےاسےفوراً شکرگذاری کےاحساس کےساتھ مان لیا جائے۔ یہ ایک مسلسل نفسیاتی جنگ ہےجو ۰۶ سال سےلڑی جا رہی ہےاورجس کےنتیجہ میںبعض نام نہاد قائدین آخرکار امریکہ کی ہر تجویز کو ماننےپر آمادہ ہوتےچلےگئےہیں۔
ثالثاً اس مغربی اور صیہونی حکمت عملی کا ایک اہم جزو آبادی کےاس تناسب کو جو ۸۴۹۱ء سےایک تاریخی حقیقت کی حیثیت رکھتا تھا اور جس میںمسلمان اور عیسائی فلسطینی اکثریت میں اور صیہونی اقلیت میںتھےاس طرح تبدیل کیا جائےکہ اگر فلسطینیوںکو کچھ ٹوٹےپھوٹےحقوق بطور خیرات دینےبھی پڑیں تو وہ ظالم اور قابض صیہونیوں کےلیےکبھی خطرہ نہ بن سکیں۔


اللہ تعالیٰ کا نظام بھی عجب ہےاس پورےعرصہ میںصیہونیوںنےچھانٹ چھانٹ کر فلسطینی نوجوانوںکو تشدد اور قتل کا نشانہ بنایا ہےلیکن فلسطین میںآبادی میںنہ صرف نمایاںاضافہ ہوا بلکہ لڑکیوںکےمقابلہ میںلڑکوںکی پیدائش کی شرح زیادہ رہی۔ گویا جہاد کےلیےانسانی وسائل کی فراہمی میںکمی واقع نہیںہوئی۔ اس حقیقت کو سمجھتےہوئےمغرب نےجو حکمت عملی نہ صرف ارض مقدس میںبلکہ پورےعالم اسلام میںمسلم دانش وروںکےتعاون سےاختیار کی ہےوہ آبادی پر قابوپاتےہوئےترقی کی شرح کو کم سےکم رکھنےکی پالیسی ہے۔ مقام حیرت ہےکہ ایران جیسےملک نےبھی اپنی شرح پیدائش کو قابو میںکرنےکی اعلیٰ مثال پیش کی ہےاور کل تک جہاںشرح پیدائش۵فیصد ہوا کرتی تھی اب ۲فیصد پر آ گئی ہے۔
مغربی تصور ترقی کا ایک لازمی جزو آبادی پر قابو کا فلسفہ ہےجس کےنتیجےمیںیورپ امریکہ اور چین معمر افراد کی کثرت اور نوجوانوںکی قلت کا شکار ہورہےہیں۔ لیکن بجائےاس مسئلہ کےفطری حل کی طرف جانےکےمغرب کی حکمت عملی یہ ہےکہ آبادی کےفطری دباؤ کو جو زیادہ آبادی کےخطوںسےکم آبادی کےخطوںکی طرف ہو رہا ہےروکنےکےلیےبجائےاپنےگھر کو درست کرنےکےزیادہ آبادی کی شرح والےممالک کو اپنی پیدائش میںکمی پر امداد کی رقوم دےکر آمادہ کیا جائےتاکہ آبادی کا بہاؤ ان کی طرف نہ ہو اور اس طرح وہ اپنےاقتدار کو زیادہ محفوظ و مستحکم کرسکیں۔
اگر آبادی کےحوالےسےیہ سازش کامیاب ہوتی ہےتو آئندہ ۳۰ سالوںمیںمسلم فلسطین کی جگہ جزوی اکثریت والا خطہ وجود میںآجائےگا اور فلسطینی جو اقلیت نہ ہونےکےباوجود ظلم اور عصبیت کا شکار ہیںایک اقلیت بن جانےکےبعد اپنےحقوق کی طرف تصور میںبھی دیکھنےکےقابل نہیںرہیںگے۔
مسلم دانش وروںکا فرض ہےکہ وہ عالمی طاقتوںکی حکمت عملی اور منصوبہ بندی سےشعوری آگاہی کےساتھ خود اپنےمفادات کےتحفظ کےلیےمتبادل حکمت عملی تجویز کریںاور مسلم دنیا کےمغرب زدہ فرمان رواؤںکو بار بار مستقبل کےخطرات اور مسائل سےمتعارف کراتےہوئےان مسائل کےحل با الخصوص اپنی سیاسی حاکمیت کو مضبوط کرنے،مغرب کی ذہنی،مادی اور روحانی غلامیسےنجات حاصل کرنےاور دفاع اور معیشت میںبھی خود انحصاری کےحصول کی طرف متوجہ کریں۔
ایک طاقتور مسلم دنیا ہی مسلمانوںکےحقوق کا تحفظ کر سکتی ہے۔ جب تک مسلم دنیا کا سہ گدائی ہاتھ میںلیےاپنےدفاع،اپنی سیاسی آزادی،اپنےتعلیمی نظام،اپنےقانون حتیٰ کہ اپنی زبان و ثقافت کےلیےبھی مغربی سامراج کی مرہون منت ہو گی دستوری طورپر آزاد ہونےکےباوجود ایسےممالک اپنےمفادات کا تحفظ نہیںکرسکیںگے۔
فلسطین کی آزادی اور وہاںپر اسلامی معاشرےکےساتھ اسلامی سیاسی حاکمیت کا قیام نہ صرف فلسطینیوںکےدل و دماغ کا مطالبہ ہےبلکہ ایک عالمی انسانی ضرورت ہے۔ اگر امن عالم ایک ضرورت ہےتو اس کا وجود اسی وقت ہو گا جب فلسطین،کشمیر،میانمراور دیگر مقامات کی تحریکات حریت کو تقویت پہنچاکر کامیاب کیا جائےتاکہ وہ نزاعات ،ظلم اور زیادتیاںختم ہوںجو آخرکار سیاسی،معاشی اور اخلاقی مسائل کا اصل سبب قرارپاتی ہیں۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہےاور اسےصرف فلسطینی عوام کےآزادانہ حق خودارادیت کی بنیاد پر ہی حل کیاجا سکتا ہے۔ یہی صورت حال مقبوضہ کشمیر کی ہےخطےکا امن وسکون اس بات سےوابستہ ہےکہ مقبوضہ کشمیر میںریاستی دہشت گردی ختم ہو اور اہل کشمیر کو آزادانہ طورپر انتخابات کےذریعہ اپنی قسمت کا فیصلہ کرنےکا حق دیا جائے۔
گویا محض مذا کرات مسئلہ کا حل نہیںہو سکتےمظلوم افراد کو حق خودارادیت دینےاور ان کی آزاد ریاست کےقیام کےبغیر مسئلےکا حل ممکن نہیں۔