صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - نئی مطبوعات ہائیڈروڈپلومیسی: ایٹم سے مسلح پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی پر جنگ کی روک تھام English
ہائیڈروڈپلومیسی: ایٹم سے مسلح پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی پر جنگ کی روک تھام چھاپیے ای میل

مصنف:     اشفاق محمود

ISBN:978-969-448-170-5

بائنڈنگ: مجلد

صفحات: ۲۴۴

قیمت:(اندرونِ ملک) ۹۰۰ روپے، (بیرونِ ملک) ۱۵ امریکی ڈالر

Hydro-Diplomacy-

 

کتاب کا تعارف

اس کتاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان آزادی کے بعد ۱۹۴۷ء سے جاری تعلقات میں سرحدوں کے آرپار پانی کی شراکت کے مسائل پر ہونے والے اتارچڑھاؤ کو بیان کیا گیا ہے۔ ۱۹۶۰ء میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اس کی مختلف شقوں کی تعبیر اور پاکستان کے لیے مختص کیے جانے والے دریاؤں پر بھارت کی طرف سے ڈیموں کے تعمیراتی ڈھانچوں کے منصوبوں کے باعث ۱۹۷۰ء کی دہائی سے ہی اختلافات شروع ہوگئے تھے۔ ابتدائی دور میں ان اختلافات کو دوطرفہ ہنگامی سفارتکاری کے ذریعے حل کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد ۱۹۸۰ء کی دہائی کے وسط سے دوطرفہ کوششیں ناکام ہونا شروع ہوئیں جس کے نتیجے میں سندھ طاس معاہدے پر تنازعات کے حل کے لیے غیرجانبدار ماہرین اور ثالثی کی عدالت کے طریقۂ کار کی طرف معاملات چلے گئے۔ یہ رجحان جاری ہے اور کئی دیگر منصوبوں کا معاملہ بھی اس روش کا شکار ہے لیکن اب تو تنازعات کے حل کے لیے مناسب فورم کا چناؤ بھی دونوں ممالک میں بحث و تکرار کا رُخ اختیار کیے ہوئے ہے۔ علاوہ ازیں معاہدے سے متعلق کئی مسائل، جیسے آب و ہوا کی تبدیلی اور زیرِزمین پانی کی کمی کے اثرات اور بہت سے ایسے مسائل جن کی پیش بینی نہیں کی گئی تھی ان سے مناسب طور پر نہیں نمٹا گیا تھا، اب پانی کے مسئلے ساتھ، دونوں پڑوسی ایٹمی طاقتوں کے مابین ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔

سیاسی چالبازیوں میں پانی کا ہتھیار کے طور پر استعمال خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔ ۲۰۱۶ء میں بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ کو روک دینے کی دھمکی دی اور یہاں تک کہ کہہ دیا کہ ”خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے“۔ جبکہ پاکستان میں سوسائٹی کا ایک حصہ بھارتی دھمکی کے عملی شکل اختیار کرنے پر کسی ایٹمی جنگ کے امکان کو یکسر مسترد نہیں کرتا۔

کتاب پیشہ وارانہ نقطۂ نظر پر مبنی ہے۔ اہمیت کے حامل ہر حالیہ مسئلے کی وضاحت کرتی ہے۔ یہ کس طرح پیدا ہوا، حل کرنے کے لیے کوششیں کیسے کی گئیں، بعض معاملات میں دو طرفہ کوششیں کیونکر ناکام ہوئیں اور غیرجانبدار ماہرین اور ثالثی کی عدالت جیسے تیسرے فریق کے سامنے ان مسائل کا مقدمہ کس طرح لڑا گیا۔ حقیقی زندگی کے تجربات سے حاصل کیے گئے اسباق اور بصیرت افروز سوچ کی حامل اس کتاب میں تجاویز دی گئی ہیں کہ کس طرح پانی کے ان مسائل کو مستقبل میں بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے اور اس جنگ کو بھی جو ایک تلوار کی طرح لٹکے ہوئے ہے۔

مصنف کا تعارف

اشفاق محمود حکومت پاکستان میں پانی اور توانائی کے وفاقی سیکرٹری کی حیثیت سے بین الاقوامی سرحدوں کے آرپار پانی کی شراکت کے مسائل سے نبٹنے، بین الصوبائی پانی کی تقسیم و شراکت، پاکستان کمیشن آف انڈس واٹرز (PCIW)، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) اور واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان جیسے متعلقہ اداروں کی ذمہ داری شامل تھی۔ وہ واٹر شیڈ مینجمنٹ (Water Shed Management) اور آبپاشی کی ٹیکنالوجی پر پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان سہ رکنی مذاکرات کے شریک چیئرمین بھی تھے اور سرحدوں کے آرپار پانی کی شراکت کے مسائل اور ہائیڈروڈپلومیسی پر انٹرنیشنل یونین آف کنزرویشن آف نیچر(IUCN) کے ایڈوائزر بھی رہے۔ وہ بہت سے تھنک ٹینکس کے ممبر بھی ہیں۔۰۷-۲۰۰۴ء کے دوران انہوں نے بگلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے متعلق دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کے حل کے لیے غیرجانبدار ماہرین کے سامنے ہونے والی کارروائی اور بھارت کے ساتھ پانی کے بہت سے مسائل پر پاکستانی ٹیم کی قیادت کی۔ وہ کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے معاملے میں مقدمے کی تیاری میں بھی شامل تھے جس کا فیصلہ بعد ازاں ثالثی کی عدالت (Court of Arbitration) نے کر دیا تھا۔

مصنف کا تعارف

اشفاق محمود حکومت پاکستان میں پانی اور توانائی کے وفاقی سیکرٹری کی حیثیت سے بین الاقوامی سرحدوں کے آرپار پانی کی شراکت کے مسائل سے نبٹنے، بین الصوبائی پانی کی تقسیم و شراکت، پاکستان کمیشن آف انڈس واٹرز (PCIW)، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) اور واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان جیسے متعلقہ اداروں کی ذمہ داری شامل تھی۔ وہ واٹر شیڈ مینجمنٹ (Water Shed Management) اور آبپاشی کی ٹیکنالوجی پر پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان سہ رکنی مذاکرات کے شریک چیئرمین بھی تھے اور سرحدوں کے آرپار پانی کی شراکت کے مسائل اور ہائیڈروڈپلومیسی پر انٹرنیشنل یونین آف کنزرویشن آف نیچر(IUCN) کے ایڈوائزر بھی رہے۔ وہ بہت سے تھنک ٹینکس کے ممبر بھی ہیں۔۰۷-۲۰۰۴ء کے دوران انہوں نے بگلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے متعلق دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کے حل کے لیے غیرجانبدار ماہرین کے سامنے ہونے والی کارروائی اور بھارت کے ساتھ پانی کے بہت سے مسائل پر پاکستانی ٹیم کی قیادت کی۔ وہ کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے معاملے میں مقدمے کی تیاری میں بھی شامل تھے جس کا فیصلہ بعد ازاں ثالثی کی عدالت (Court of Arbitration) نے کر دیا تھا۔