صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - نئی مطبوعات پالیسی پرسپیکٹو (جلد۱۷ ، نمبر ۲ ، ۲۰۲۰) English
پالیسی پرسپیکٹو (جلد۱۷ ، نمبر ۲ ، ۲۰۲۰) چھاپیے ای میل

 

 

چیف ایڈیٹر: خالد رحمٰن

 مدیر: ڈاکٹر عتیق الظفر

جلد: ۱۷: شمارہ نمبر: ۲

قیمت : ۶۰۰ روپے

سالانہ خریداری : ۱۰۰۰ روپے

بیرون ملک قیمت: $ ۶۰

 بیرون ملک سالانہ خریداری: $ ۱۲۰

Title PP 17-2

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اس شمارےکے بارے

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے انگریزی زبان میں مؤقر علمی و تحقیقی مجلّے ”پالیسی پرسپیکٹیوز“ کا تازہ شمارہ (جلد ۱۷ نمبر ۲، ۲۰۲۱) پاکستان اور پاکستان سے باہر قارئین کے لیے دستیاب ہے۔ پالیسی پرسپیکٹیوز احالیہ موضوعات  پر آئی پی ایس کے تحقیق کاروں کی علمی و تحقیقی کاوشوں کا نچوڑ ہے۔

اس شمارے میں اہم عالمی نظری مباحثوں کے ساتھ ساتھ عصری اہمیت کے حامل علاقائی اور بین الاقوامی امور پر لکھے گئے تحقیقی مقالات شامل ہیں۔

پہلےمقالے “Faith Conversions in Pakistan: Projections and Interpretations”میں  ’جبری مذہبی تبدیلی ‘  کا جائزہ لیا گیا ہے  جس پر پاکستان میں ایک وسیع تر رجحان کے طور پر بحث کی جاتی ہے۔ مقالے میں یہ استدلال پیش کیا گیا ہے کہ مذہبی تبدیلی کا باعث بننے والے مختلف عوامل  مذہبی تبدیلی کی ان  مقبول عام  داستانوں میں موجودہی نہیں ہیں۔یہ مقالہ صوفی غلام حسین کی کاوش ہے۔

اگلا مقالہ “Footprints of Fascism in India: Implications for Local Muslims”اسامہ حمید کا تحریر کردہ ہے  جنہوں نے   ہندوستان میں فاشسٹ رجحانات پر تحقیق کرتے ہوئےیہ بتایا ہے کہ موجودہ ہندوستانی حکومت اٹلی اور جرمنی  کی کلاسیکی فاشسٹ حکومتوں کی کچھ خصوصیات کواپنائے ہوئے ہے اور ملک تیزی سے اپنی سیکولر اور جمہوری روایات کو ترک کر رہا ہے۔

"China-Iran Relations: Prospects and Complexities” کےعنوان سے تحریر کیا گیا تیسرامقالہ کلثوم بلال کا تحریر کردہ ہے۔ مقالے میں چین اور ایران کے درمیان تعاون کے حالیہ اقدامات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ایسے مختلف عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے جنہوں نے ان ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ مقالے میں ان  تاریخی اور موجودہ رجحانات  پر نظر ڈالی گئی ہے  جو اس شراکت داری کے مستقبل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں جن میں داخلی پہلو اورعمل ادراک ، بڑی طاقتوں اور درمیانی طاقتوں کے درمیان  طاقت کے عملی پہلو اور علاقائی ممالک کاکردار شامل ہیں۔

  طوبی عظیم کے تحریر کردہ مقالے " Muslims’ Share of the Waves: Law, War and Tradition "  میں سمندری قانون اور روایات کے ارتقا میں مسلمانوں کے کردار پر بحث کی گئی ہے۔ اس مقالے میں تاریخی واقعات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور ان امور اور اصولوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جن کے باعث سمندروں کی افادیت کو  سمجھنے میں مدد ملتی ہے اورجو نیوی گیشن کی آزادی پر نظریاتی بحث میں  اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔

"Net Metering and Solar PV Prosumage in Pakistan: Growth and Challenges " کے عنوان سے تحریر کردہ مقالہ نائلہ صالح اور سارہ کی مشترکہ کاوش ہے۔ مقالے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ۲۰۱۵ کے نیٹ میٹرنگ کے ضوابط صارفین کو بجلی کی پیداوار میں حصہ ڈالنے کی ترغیب دینے میں  پورے طور پر کارآمد نہیں ہیں۔مقالے میں  اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کرملک میں پیدا ہونے والی بجلی کی تقسیم  کی راہ میں رکاوٹوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ گرڈ سے منسلک شمسی توانائی  کی پیداوار  میں اضافے کے لیےاس مقالے میں ایک روڈ میپ بھی پیش کیا گیا ہے۔

آخری مقالہ “Decentralization of Environment in Pakistan: Issues in Governance”مریم عمر خیام اور ڈاکٹر افتخار احمد نے تحریر کیا ہے۔ یہ مقالہ پاکستان میں ۱۸ ویں آئینی ترمیم کے بعد  ماحولیات کے لیے بہتر طرز حکمرانی پر مرکوز ہے ، جس میں ماحول سمیت  متعدد قانونی موضوعات کو صوبوں  کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اس مقالے میں ایسے مزیدچیلنجوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو کمزور مالی لا مرکزیت اور ہم آہنگی میں کمی کے  باعث سر اٹھائے ہوئے ہیں۔مقالے میں ایک بہتر اور موافق ماحولیاتی بندوبست  کے لیے بین السرکاری اور بین الصوبائی تعاون میں اضافےکی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

   “Afghanistan in Transition” میں سابق افغان وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کی افغانستان میں جاری امن عمل کے تناظر میں آئی پی ایس آمد پر ہونے والی گفتگو کو پیش کیا گیا ہے۔ یورپ میں حقوق و مراعات سے محروم کر دینے والےرجحان اور اسلامو فوبیا کے تناظر میں “Religion and the Freedom of Expression in the European Context”  کے عنوان سے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق (  ECHR) کے فیصلے کا متن ایک تعارف کے ساتھ اس شمارے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس شمارے کے آخر میں آئی پی ایس میں عصری اہمیت کے مختلف موضوعات پر ہونے والی گفتگو پر روشنی ڈالی  گئی ہے۔

 پالیسی پرسپیکٹو کے ضمن میں  یہ اعلان باعث تہنیت ہے کہ اسے بہت جلد ’اوپن ایکسس‘ دی جارہی ہے اور پالیسی اسکالرشپ کو فروغ دینے میں ایک قدم آگے  کو بڑھا جا رہا ہے۔ جرنل کا مکمل متن جلد ہی JSTOR کے ذریعے آزادانہ طور پر آن لائن دستیاب ہوگا۔ ہم فی الحال ’اوپن ایکسس‘ کے آپشن پر کام کر رہے ہیں جو جرنل ، اس کے معاونین اور قارئین کے لیے بہترین کام سرنجام دے گا۔