صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - نئی مطبوعات گواتر بے سے سر کریک - تاریخ اور یادداشتیں English
گواتر بے سے سر کریک - تاریخ اور یادداشتیں چھاپیے ای میل

مصنف:   وائس ایڈمرل افتخار احمد راؤ (ریٹائرڈ)

زبان:   انگریزی

جلدبندی: مجلد

ایڈیشن: پہلا

سال: 2022

صفحات: 354

آئی ایس بی این نمبر:  978-969-448-810-3

ناشر:  آئی پی ایس پریس

قیمت:  PKR2000/- | USD50/-

فہرستِ مضامین 

Title - Gwatar Bay to Sir Creek

مصنف کے بارے میں

 وائس ایڈمرل افتخار احمد راؤ (ر) 40 سال سے زائد میری ٹائم تجربہ رکھتے ہیں۔انہوں نے جہاز پر خدمات انجام دی ہیں اور بحری جہازوں کی کمانڈ کی ہے ۔وہ ایک نیول ایوی ایٹر  بھی ہیں، جس کے باعث انہیں  ساحل کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے پسنی میں پی این ایس مکران کو اس کے پہلے کمانڈنگ آفیسر کے طور پر اٹھایا اور پھر پی این ایس کی کوسٹل کمانڈ کو فلیگ آفیسر کے طور پر کھڑا کیا اور پاکستان کے ساحل کی ترقی کے لیے تندہی سے کام کیا۔ وہ ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (آپریشنز) تھے اور بندرگاہ کے منصوبے کے آغاز میں گوادر پورٹ پر عملدری کمیٹی کے رکن تھے چنانچہ انہوں نےاس کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر، انہیں اس کی تبدیلی کا سہرا جاتا ہے۔ وہ جہاز سازی کی صنعت کی ترقی کے لیے حکومت پاکستان کے مشیر رہے اور انھیں اس صنعت کی ترقی، پاکستان کے لیے اس کے وژن اور منصوبہ کے پیچھے دماغ سمجھا جاتا ہے۔ اب  وزیراعظم نے  اس کی منظوری دے دی  ہوئی ہے۔ وہ رائل سعودی نیول فورسز کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی حالیہ کتاب ایلیمنٹس آف بلیو اکانومی کو پاکستان کے بحری حلقوں اور تعلیمی اداروں میں اس شعبے پر ایک اہم کام کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، اسٹاف کالجز، نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی، اور سمندری امور پر سیمینارز میں باقاعدہ مقرر ہیں۔

 کتاب کے بارے میں

 یہ کتاب قارئین کو مکران کے ساحل کی تاریخ کا ایک جائزہ فراہم کرتی ہے- قدیم دور کے گیڈروسیا، عمانی کنٹرول میں گوادر، پاکستان کی طرف سے اس کے حصول کی مشترکہ کوششوں سے لے کر  سی پیک کے حالیہ دن۔ یہ گہرے پانی کی بندرگاہ   گوادر کی ترقی، پاکستان کے لیے اس کی اہمیت اور ہمارے ساحلی خزانے سے مستفید ہونے کے لیے ضروری توجہ کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کتاب میں ایران کی سرحد پر واقع گواتربے سے لے کر ہندوستان کی سرحد پر واقع سر کریک تک ساحل کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ وائس ایڈمرل افتخار احمد راؤ (ریٹائرڈ) نے اپنے ابتدائی دنوں میں بطور لیفٹیننٹ آن بورڈ شپس اورہیلی کاپٹر کے ذریعےایران کی سرحد سے متصل مکران کے ساحل کے بنجر علاقوں اوراب تک کےغیر آباد خطوں  میں  اپنی مہم جوئی اور ذاتی تجربات کا تذکرہ کیا ہے۔ ہندوستان کی سرحد سے متصل کریک ایریا کے دلدلی علاقوں میں کیچڑ سے لت پت گشت ،  میرینز کے ساتھ مارچ  اور ساحل پر خدمات انجام دیتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا کرنا ، ان  کی بحیثیت فلیگ آفیسر یاداشتیں اس کتاب کا حصہ ہیں۔ ایڈمرل قارئین کے سامنے منظر کشی کرتے ہوئے یہ بھی بتاتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح ساحلی علاقوں میں بحریہ کی تعیناتی، ساحل کے ساتھ بحری منصوبوں کی تعمیر سے عوام کا فائدہ ہوتے دیکھا ہے جس سے ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔