پاک چین تعلقات کے ۷۰ سال چھاپیے ای میل

 

Download PDF


پاک چین تعلقات کے ۷۰ سال

خالد رحمٰن
چیئر مین انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز- اسلام آباد


۷۰ستّر سال قبل 21 مئ 1951 کو جب پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہو ے تو اپنی جگہ ایک معمول کا واقعہ ہونے کے باوجود بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں یہ ایک غیر معمولی پیش رفت کی بنیاد ثابت ہوی۔ غیر کیمونسٹ ملکوں میں پاکستان پہلا ملک تھا جس نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے اور یہ اس کے باوجود تھا کہ چِین کی شناخت کمیونزم تھی جبکہ پاکستان وہ ملک تھا جس کے قیام کا پس منظر اس کی مسلم شناخت تھی ۔ جبکہ اس وقت دنیا نظریاتی اعتبار سے کیمونزم اور اینٹی کمیونزم بنیادوں پر بلاکس میں تقسیم ہو رہی تھی ۔ دوسری جانب یہی وہ وقت تھا کہ خطہ میں تعلقات کی مساوات میں انڈیا اور چین کے درمیان گہری دوستی کی بنیاد پڑ رہی تھی ۔ تاہم خطہ کے اور عالمی سطح پر بدلتے حالات میں یہ دونوں ملکوں کی اعلی قیادت کے درمیان مسلسل رابطوں اور بڑھتے ہوے اعتماد کا نتیجہ تھا کہ دو طر فہ تعلقات محض رسمی بنیادوں تک محدود نہ رہے۔ خطہ میں ہی نہیں دنیا بھر میں اور خود دونوں ملکوں میں بھی بار بار تبدیلیاں آتی رہیں لیکن دو مختلف نظام ہو نے کے باوجود دونوں دوست ملکوں کے درمیان اعتماد اور باہمی احترام کا رشتہ ہر گذرتے دن کے ساتھ گہرا ہو تا چلا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دو طرفہ گہرے مثالی تعلقات نے جہاں دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچایا ہے وہِیں یہ پور ے خطہ کے لیےیہ توازن اور استحکام کا با عث بنا ہے۔

چین نے اس عرصہ میں اور بالخصوص گزشتہ چار دہائیوں میں غیر معمو لی پراگریس کی ہے۔ قوت خرید کی برابری (Purchasing Power Parity) کی بنیاد پر چینی معیشت آج دنیا میں اول نمبر پر ہے۔ صنعت اور خدمات کے میدان میں اس وقت یہ دنیا کا مرکز ہے اور کچھ عرصہ میں اسے مالیاتی مرکز کا مقام بھی حاصل ہو جائے گا۔ یوں چین کو بجا طور پر اس وقت دنیا کے گروتھ انجن کی حیثیت حاصل ہے۔ اندرون ملک علاقا ئی ترقی میں مساوات کی کو ششوں کے ساتھ چین نے اپنے ۸۰۰ ملین لوگوں کو غربت سے نکالنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کا چین محض تیز رفتار اور ہمہ گیر معاشی ترقی کی ہی علامت نہیں بلکہ اسے عالمی سیاست میں بھی اہم ترین مقام حاصل ہے۔ اس میں کو ئِ شک نہیں کہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد دوست ملک چین کی اس ترقی کو خوشی اور امید کی نگاہوں سے دیکھتی ہے۔

دوسری جانب پاکستانیوں کو احساس ہے کہ مختلف اندرونی اور بیرونی عوامل کی بناء پر ان کی اپنی ترقی کی رفتار متائثر رہی ہے - اس صو رتحال میِں اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان ماضی میں موجود مساوات (equation) میں کافی تبدیلی بھی آئی ہے لیکن باہم اعتماد اور ہم آہنگی کے جذبہ پر قائم ان دو طرفہ تعلقات کا یہ نمایاں پہلو ہے کہ چین نے ،عالمی اقتصادی اور سیاسی منظرنامہ کو مثبت طور پر تبدیل کرنے کے لیے ،رابطوں (connectivity) کے جس نظام اور اس کی بنیاد پر بی آر آئی کے جن میگا منصوبوں کا اعلان کیا ان میں پاکستان نہ صرف شریک ہے بلکہ سی پیک کی صورت میں، جو ان میگا منصوبوں کا کلیدی حصہ ہے، اسے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی رابطوں کی تاریخ تو ہزاروں سال پرانی ہے ۔ لیکن حالیہ تاریخ میں بھی سی پیک کوئی پہلا قدم نہیں ہے۔ اس سے قبل ۱۹۶۴ میں پی آئی اے کی پرواز کی صورت میں فضائی کاریڈور ، ۱۹۷۸ میں قراقرم ہائی وے کی صورت میں زمینی کاریڈور اور پھر ۲۰۰۰ کے عشرے کے آغاز میں گوادر پورٹ کی تعمیر کی صورت میں ساحلی رابطوں کی بنیادیں ڈلی ہیں۔ بجا طور پر یہ وہ اقدامات ہیں جنہوں نے آج کے میگا منصوبوں کے لیے بنیاد فراہم کی ہے۔

سی پیک پر اتفاق تو ۲۰۱۳ میں ہوا لیکن اس کا باقاعدہ آغاز ۲۰۱۵ میں ہوا تھا ۔ پانچ سال کے دوران ابھی پہلا مرحلہ ہی مکمل ہواہے لیکن اس کے بہت سے مفید اثرات محسوس ہو رہے ہیں۔ ۶۵ بلین ڈالرز کے منصوبوں میں سے ۲۵ بلین پاکستانی انفراسٹرکچر اور معیشت کا حصہ بن چکے ہیں ۔ توانائی کے پر وجیکٹس کی تکمیل کے ساتھ لو ڈ شیڈ نگ کا بڑی حد تک خاتمہ ہو گیا ہے۔ شاہراہوں کی تعمیر نے آمد و رفت کی نئی سہولتیں فراہم کی ہیں ، گوادر پورٹ پر آپریشن شروع ہو چکا ہے جبکہ کم از کم تین خصوصی اقتصادی زونز کی بنیادیں بھی ڈل چکی ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق اس عرصہ میں ۷۰ سے ۸۰ ہزار مواقع روزگار کے فراہم ہوے ہیں جبکہ فطری طور پر دونوں ملکوں کے درمیان عوامی رابطوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان کسی قدر توجہ طلب عنوان تھا۔

پاک چین تعلقات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ زندگی کے کم وبیش تمام دائروں سے متعلق ہے۔ اقتصادی دائرہ تو فطری طور پر سی پیک کی وجہ سے اس وقت بہت نمایاں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاسی دائرہ ہو یا دفاع اور سلامتی امور ، دونوں ملکوں کے درمیان گہری ہم آہنگی رہی ہے۔ ماضی میں عالمی فورمز پر چین کو اس کا جائز مقام دلانے کی کو ششیں ہوں یا بین الااقوامی سطح پر ایک دوسرے کے موقف کی تائید، دونوں ملک اہم مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ نظر آتے رہے ہیں۔ اسی طرح ٹکنالوجی اور تعلیم و ثقافت کے میدان میں بھی تعاون میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کسی موضوع پر کبھی بھی کوئی اختلاف نہ ہو۔ درحقیقت یہ تو ا نسانی زندگی میں موجود تنوعات ہی کا ایک تقاضہ اور فطری نتیجہ ہے کہ انسانوں کی سوچ ان کے پس منظر ،ترجیحات اور مفادات کی بناء پر مختلف ہو سکتی ہے۔ لیکن چین پاکستان تعلق میں موجود باہم اعتماد اور باہم احترام ایسے معاملات کو بگاڑ کی جانب لے جانے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

سات دہائیوں کے تعلقات اب چوتھی نسل کو منتقل ہو رہے ہیں۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ ان تعلقات میں ہم آہنگی اور ان کی کامیا بی میں باہم اعتماد و احترام پر مبنی تعاون اور ہم آہنگی کے جذبہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاک چین تعلقات کے یہ وہ اصول ہیں جنہیں دنیا بھر میں باہم تعلقات کے لیے پیش نظر رکھا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا حقیقی معنوں میں امن و سلامتی اور ترقی کی جانب تیزی سے سفر نہ کر سکے۔