صفحہ اول تازہ سرگرمیاں - تربیت اور ورکشاپ اسلام آباد میں نوجوان پالیسی تحقیق کاروں کے لیے میری ٹائم سمر سکول کا آغاز English
اسلام آباد میں نوجوان پالیسی تحقیق کاروں کے لیے میری ٹائم سمر سکول کا آغاز چھاپیے ای میل

maritime-summer-school

اکستان میں انفرادی اور اداریاتی پالیسی تحقیق کاروں اور پریکٹیشنرزکے نیٹ ورک میری اسٹڈی فورم کی جانب سے میری ٹائم کے میدان میں دلچسپی رکھنے والے نوجوان محققین کے لیے   5 اگست 2019 سے  خصوصی طور پر پانچ روزہ میری ٹائم سمر سکول کا آغاز کر دیا گیا۔

پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میری ٹائم اسڈی فورم کے صدر ڈاکٹر سید محمد انور نے کہا کہ اس قسم کے تربیتی سرگرمی کے انعقاد کا مقصد ابھرتے ہوئے سکالرز کے لیے پاکستان کے سمندری شعبے سے متعلق امور اور اس کے مسائل کے حل کو عوامی سطح پر زیربحث لانا ہے تاکہ وہ مذکورہ میدان میں اپنے تحقیقی مقالات اس طرح ترتیب دے سکیں جس سے نہ صرف موثر پالیسی سازی کو فروغ ملے بلکہ ملک میں سمندری شعبے میں مواقع اور اس سے متعلق مسائل کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی بھی پیدا ہو سکے۔

اس موقع پر انسٹیٹوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے جی ایم اپریشنز نوفل شاہ رخ نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے اپنی نوعیت کی اس واحد تعلیمی سرگرمی کا مقصد ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کو میری ٹائم امور سے متعلق محاضراتی اور ابھرتے ہوئے تصورات سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ اس سے متعلق ابتدائی نوعیت کی معلومات سے لے کر اس کے پالیسی پر مبنی منصوبوں اور ان کی تجزیہ کاری، اس کے معیشت اور صنعت میں کردار، سلامتی کے امور سے متعلق اس کی نظر اور سفارت کاری سے منسلک امور کے ساتھ ساتھ سمندری ساحلوں سے منسلک سماجی و اقتصادی پہلوؤں تک علم کی رسائی حاصل کرسکیں۔ 

باہمی گفتگو پر مبنی لیکچروں، عملی مشقوں اورمیری ٹائم کے حوالے سے اہمیت کے حامل اداروں کے دوروں کے ذریعے اس پانچ روزہ ورکشاپ سے نوجوان اسکالرز کو یہ موقع میسر آئے گا کہ وہ اس میدان کے نمایاں پالیسی سازوں، پیشہ ور امور کے ماہرین، اعلیٰ تعلیم یافتہ دانشوروں اور معروف ماہرین کی ذیرِ نگرانی براہِ راست اس موضوع پر تربیت حاصل کر سکیں ۔ ان اہم شخصیات میں کیپٹن (ریٹائرڈ) جمیل احمد خان، پارلیمانی سیکرٹری وزارت بحری امور، وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) خاور علی شاہ، ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز، اسامہ جدون، ممبر قومی اسمبلی، وجیہیہ اکرم، ممبر قومی اسمبلی، ایمبیسیڈر فوزیہ نسرین، سابق سفیربرائے پولینڈ، وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) رائو افتخار، رکن ، بورڈ آف ایڈوائزر، ایم ایس ایف، خالد رحمٰن، ایگزیگٹیو پریزیڈنٹ، انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد، ڈاکٹر نذہت خان، ڈائریکٹر جنرل، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشینو گرافی، خرم مرزا، ایگزیگٹیو ڈائریکٹر، اسپیشل پراجیکٹس اینڈ پلاننگ، پی این ایس سی، بریگیڈیئر ڈاکٹر طاہر الملک کہلون، نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی، اسلام آباد، ڈاکٹر اظہر احمد، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، حیومینیٹیز اینڈ سوشل سائینسز، بحریہ یونیورسٹی، اسلام آباد اور ممبر، بورڈ آف ڈائیریکٹرز، ایم ایس ایف، ڈاکٹر تغرل یامین، ایسو سی ایٹ ڈین، ڈیپارٹمنٹ آف پیس اینڈ کانفلکٹ اسٹدیز، نیشنل یونیورسٹی آف سائینس اینڈ ٹیکنالوجی، ایمبیسیڈر وائس ایڈمرل [ر] خان ہاشم بن صدیق، صدر، اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ڈاکٹر راشد آفتاب، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، رفاہ انسٹٹیوٹ آف پبلک پالیسی، ڈاکٹر سید محمد انور، صدر، میری ٹائم اسٹڈی فورم، ڈاکٹر خرم اقبال، اسسٹنٹ پروفیسر، ںیشںل ڈیفینس یونیورسٹی، ثمینہ قریشی، اسوسی ایٹ پروفیسر، ابلاغِ عامہ، کراچی یونیورسٹی اور ممبر ایم ایس اف، نوفل شاہ رخ، جی ایم آپریشنز، اور جنرل سیکریٹری، ایم ایس ایف، اور سلمان جاوید، ممبر بورڈ آف ڈائیریکٹرز، ایم ایس ایف شامل ہیں۔

IMG-20190805-WA0015