غزہ میں نسل کُشی عالمی نظام کی بے حسی اور بے وقعت ہونے کو بے نقاب کرتی ہے: ماہرین

غزہ میں نسل کُشی عالمی نظام کی بے حسی اور بے وقعت ہونے کو بے نقاب کرتی ہے: ماہرین

غزہ میں اسرائیل کی جاری جارحیت اور نسل کُشی عالمی برادری کی ناکامی کی عکاسی کرتی ہے، جسے امریکی سیاست، زیادہ تر عرب ممالک کے ناکافی ردِعمل اور غیر مؤثر عالمی اداروں نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔یہ صورتحال اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ اسرائیلی اقدامات اور توسیع پسندانہ منصوبوں کو روکنے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے مسلم اتحاد، وسائل کے باہمی اشتراک، مشترکہ دفاعی معاہدوں اور امن قائم رکھنے والی افواج کی فوری ضرورت ہے۔

یہ مشاہدات تجربہ کار سفارتکاروں، دفاعی ماہرین اور ماہرینِ تعلیم نے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد میں۲۳ ستمبر ۲۰۲۵ کو منعقدہ سیمینار بعنوان” اسرائیلی جارحیت کا تسلسل: غزہ میں نسل کُشی کے دو سال “میں پیش کیے۔ سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں سابق سفیر نائلہ چوہان (کلیدی مقرر)، سابق سفیر نصراللہ خان، دفاعی ماہر بریگیڈیئر (ر) سید نذیر، سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر اظہر احمد اور انسٹیٹیوٹ کے نائب چیئرمین سابق سفیر سید ابرار حسین شامل تھے۔

سابق سفیر  نائلہ چوہان نے فلسطین-اسرائیل مسئلے کو درست طور پر پیش کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ایک جامع فہم قائم ہو سکے، جو فلسطینیوں کی نسل کُشی ختم کرنے اور ایک منصفانہ حل تلاش کرنے میں مددگار ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضروری ہے  کہ یہ واضح کیا جائے کہ یہ تنازع بنیادی طور پر مذہبی ہے، سیاسی ہے ،یا تجارتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جائداد کے کاروباری حلقے غزہ کو محض ایک ایسی زمین سمجھتے ہیں جسے مالی مفادات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، اور یہی تجارتی مفادات فلسطینیوں کو ان کے وطن سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو تقویت دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں یہ المیہ غزہ تک محدود تھا لیکن اب اس نے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسرائیل کی جارحیت نے، اس کے بعض پرانے ہمدردوں کو بھی جنگ بندی کا مطالبہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے، لیکن امریکہ مستقل طور پر ان اقدامات کو ویٹو کر دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر میں حماس کی مذاکراتی ٹیم کو نشانہ بنانا اس رائیل کے امن کے قیام میں عدم سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

سابق سفیر نصراللہ خان نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں پر جو ظلم ڈھایا ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر کے واقعے سے پہلے بھی فلسطینی غیر انسانی سلوک کا نشانہ تھے، لیکن اس کے بعد یہ المیہ کئی گنا بڑھ گیا۔ ان کے مطابق یہ نسل کُشی عالمی برادری کی اجتماعی ناکامی کی علامت ہے، جو انسانیت کی توقعات پر پوری نہیں اُتری۔

بریگیڈیئر (ر) سید نذیر نے کہا کہ امریکہ اور یورپ اسرائیل کی مسلسل حمایت کر رہے ہیں، جو ہر قرارداد اور اخلاقی اصول کو نظر انداز کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں کی ناکامی، جو امن قائم رکھنے اور فلسطین پرپاس کردہ  قراردادوں پر عمل درآمد کے ذمہ دار ہیں، اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اسی طرح، زیادہ تر عرب ممالک کے کمزور ردِعمل نے بھی اسرائیل کو مظالم جاری رکھنے کا حوصلہ دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکہ اپنی سکیورٹی گارنٹی دینے کی ساکھ کھو بیٹھا ہے۔ اس لیے آگے کا راستہ مسلم اتحاد اور اسرائیلی اقدامات کے خلاف مؤثر تیاری میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اجتماعی دفاعی معاہدہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں حال ہی میں طے پانے والا پاک-سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ ایک قابلِ اعتماد سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق مسلم ممالک کی عسکری، اقتصادی اور تکنیکی صلاحیتوں کو یکجا کرنے سے اسرائیل کے توسیع پسندانہ منصوبے” (Make Israel Great Again) “کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر اظہر احمد نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے ساتھ ساتھ مختلف کرداروں کے ردِعمل کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے محض واقعات کے بیان سے آگے بڑھ کر اسرائیلی دعوؤں کی صداقت اور عالمی برادری کے عملی اقدامات کا تجزیہ کرنا ہوگا تاکہ نسل کُشی کو روکا جا سکے۔

اختتامی کلمات میں سابق سفیر ابرار حسین نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت نے فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی کی ایک لہر پیدا کی ہے، دو ریاستی حل پر بحث کو دوبارہ زندہ کیا ہے اور کئی ممالک کو فلسطین کو تسلیم کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ تسلیم کرنا کافی نہیں کیونکہ جنگ بندی کی قراردادیں تاحال ویٹو کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا مقصد پورے فلسطین سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنا ہے۔ آگے کے راستے کے طور پر، انہوں نے تجویز دی کہ مسلم ممالک کی امن قائم رکھنے والی افواج کو غزہ میں تعینات کر کے خطے میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

Share this post