ماہرین کے مطابق، برقی گاڑیوں (EVs) کے فروغ کے لیے مربوط پالیسیاں، مقامی تیاری، اور انفراسٹرکچر کی دستیابی کلیدی عوامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق، برقی گاڑیوں (EVs) کے فروغ کے لیے مربوط پالیسیاں، مقامی تیاری، اور انفراسٹرکچر کی دستیابی کلیدی عوامل ہیں۔

 الیکٹرک وہیکلز (ای وی) کم کاربن ٹرانسپورٹ کے حصول میں تبدیلی کا کردار ادا کرسکتے ہیں، تاہم پاکستان میں ای وی کے فروغ کے لیے مقامی مینوفیکچرنگ، چارجنگ و سوآپنگ انفراسٹرکچر اور تحقیق و ترقی (R&D) ناگزیر ہیں۔ اگرچہ نئی ای وی پالیسیوں میں متعدد مراعات شامل کی گئی ہیں، لیکن محدود خریداری طاقت، گرڈ کی تیاری کے مسائل اور مرمت و سروس کی سہولتوں کی کمی اب بھی ملک میں ان کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

یہ اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ ای وی اپنانے کے عمل کو اخراجات میں کمی، توانائی کے انتظام اور ملک کے وسیع تر ماحولیاتی و پائیداری اہداف کے حصول سے ہم آہنگ کرنے کے لیے یکجا پالیسیوں، تکنیکی تیاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی کی ضرورت ہے۔

ماہرین نے یہ مشاہدہ اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS) میں۱۸ اگست ۲۰۲۵ کو منعقدہ گول میز اجلاس "پاکستان میں کم کاربن ٹرانسپورٹ کے امکانات: ای وی کے مستقبل کی تلاش” میں کیا۔ اجلاس سے چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمٰن، کلیدی مقرر انجینئر عاصم ایاز (جی ایم پالیسی، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ)، سلیمان مجید (ڈائریکٹر پلاننگ، پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی)، ڈاکٹر فیصل احمد خان (سی ای او، بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی) نے خطاب کیا۔ دیگر مقررین میں ڈاکٹر عثمان قادر (سینئر اکانومسٹ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس)، ڈاکٹر محمد عادل خان (اسسٹنٹ پروفیسر، ایئر یونیورسٹی اسلام آباد)، مہروش فاطمہ (ای وی چارجنگ سلوشنز ایکسپرٹ، این آر ٹی سی)، افضل خان (نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی USPCAS-E) اور انجینئر اسد محمود (ماہر موسمیات) شامل تھے۔ اجلاس کی صدارت سابق وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی مرزا حامد حسن نے کی، جبکہ نظامت امینہ سہیل (انرجی سیکٹر وکیل) نے کی۔

وفاقی سطح پر پالیسی تیاری پر بات کرتے ہوئے عاصم ایاز نے بتایا کہ حکومت 2019 سے جامع ای وی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کئی پالیسی مراعات متعارف کرائی ہیں، جیسے سیلز ٹیکس میں چھوٹ، ای وی درآمد پر صرف 1% ڈیوٹی، اور ای وی بائیک تقسیم اسکیم جیسے اقدامات تاکہ طلب کو بڑھایا جا سکے۔ تاہم، اب بھی ای وی کی رسائی محدود ہے۔ ان کے مطابق تین بڑے مسائل ہیں: پیٹرول بائیک کے مقابلے میں دو پہیہ ای وی کی زیادہ ابتدائی قیمت، بیٹری سوآپنگ سہولتوں کی کمی، اور چارجنگ انفراسٹرکچر کی قلت۔

سلیمان مجید نے پنجاب کے تناظر میں بتایا کہ صوبے میں 89 فیصد رجسٹرڈ گاڑیاں دو پہیہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس غلبے کو بجلی سے چلنے والی ماس ٹرانزٹ سے بدلنا حکومت کی ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اورنج لائن کی کامیابی کا ذکر کیا جو روزانہ دو لاکھ مسافروں کو لے جاتی ہے۔ انہوں نے لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں بلیو اور پرپل لائن منصوبوں پر جاری کام کی بھی وضاحت کی، جہاں 500 برقی بسوں کی خریداری اور پنجاب کلین ایئر پروگرام کے تحت مزید 400 بسوں کے حصول کا عمل جاری ہے۔

بلوچستان کے حوالے سے ڈاکٹر فیصل خان نے کہا کہ صوبے کی جغرافیائی صورتحال کے باعث بڑے پیمانے پر ماس ٹرانزٹ منصوبے ممکن نہیں۔ اس کے بجائے صوبائی حکومت نے کوئٹہ کے ڈاؤن ٹاؤن کے لیے پائلٹ P3 ماڈل اپنایا ہے، جہاں تین مربع کلومیٹر کے علاقے میں نجی سرمایہ کاروں کے ذریعے بغیر سبسڈی کے ای وی پر مبنی ٹرانزٹ چلایا جائے گا، جبکہ حکومت پارکنگ اور چارجنگ اسٹیشنز کے لیے جگہ فراہم کرے گی۔

بحث کے دوران ڈاکٹر عثمان قادر نے زور دیا کہ مقامی مینوفیکچرنگ اور مؤثر R&D کے بغیر ای وی اپنانا پائیدار نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایسے ملک میں جہاں 10 فیصد سے بھی کم گھرانے ذاتی گاڑی رکھتے ہیں، ای وی کو سبسڈی دینا کس حد تک درست ہے۔

ڈاکٹر عادل خان نے ای وی چارجنگ سے پیدا ہونے والے گرڈ استحکام کے خطرات پر روشنی ڈالی، جو دیگر صارفین کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ان کی تائید میں مہروش فاطمہ نے کہا کہ ڈسکوز کے پاس ای وی انضمام کے لیے SOPs موجود نہیں ہیں، اور اسلام آباد میں چارجنگ اسٹیشنز سے پیدا ہونے والے وولٹیج مسائل کی ذاتی مثال بھی شیئر کی۔ افضل خان نے ای وی سروس اور مرمت کی سہولتوں کی عدم موجودگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی پہلو پالیسی مباحث میں نظرانداز ہو رہے ہیں۔ اسد محمود نے زور دیا کہ پالیسی سازوں کو بحث کو صرف ای وی تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ہائیڈروجن اور متبادل بیٹری ٹیکنالوجیز کو بھی دیکھنا چاہیے۔

مرزا حامد حسن نے اخراجات کم کرنے کے لیے مقامی مینوفیکچرنگ کی ضرورت کو دہرایا اور ایندھن پر مبنی گاڑیوں سے دوری کے باعث آمدنی میں کمی پر تشویش ظاہر کی۔

اختتامی کلمات میں خالد رحمن نے زور دیا کہ مراعات کا ڈیزائن صارفین کی حقیقی صورتحال کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے کیونکہ بالآخر عام صارف کو سہولت دینا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ایک جامع نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے جو تکنیکی، مالی اور عملی چیلنجز کو بیک وقت حل کرے۔

 

 

Share this post