چین کی ترقی نے اسے تشکیل پاتے کثیر قطبی نظام کا مرکز بنا دیا ہے: ماہرین
چین کی ترقی موجودہ عالمی نظام کو ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی تشکیل نو کے لیے ہے، جو بتدریج اصلاحات اور گہری کثیرالجہتی شمولیت کے ذریعے ممکن ہو رہا ہے۔ مساوات، عدم مداخلت، اور ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی ترقی کے اصولوں کی بنا پر چین ترقی پذیر ممالک کو مواقع بھی فراہم کر رہا ہے اور مغرب کے تسلط سے آزاد لائقِ اعتماد اور دیرپا حل کی راہیں بھی کھول رہا ہے ۔ اس طرزِ فکرنے چین کو ابھرتے ہوئے کثیر قطبی نظام کے بنیادی محرک کا کردار دے دیا ہے ۔
یہ بات ماہرین اور سکالرز نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز )آئی پی ایس (میں۳۰ دسمبر ۲۰۲۵ کو منعقدہ سیمینار اور کتاب کی رُونمائی کی تقریب میں نوٹ کی، جس کا عنوان تھا ”چین کی عالمی کاری اور نیا عالمی نظام “۔ مقررین میں خالد رحمان، چیئرمین آئی پی ایس ؛ سابق سفیر سید ابرار حسین، نائب چیئرمین آئی پی ایس ؛ چین سمیت مختلف اہم ممالک اور اداروں میں سفارتی فرائض انجام دینے والی سابق سفیر نغمانہ ہاشمی ؛ کتاب کے شریک مدیر پروفیسر ڈاکٹر آدم سعود اور ڈاکٹر نجم الدین بکر؛ پروفیسر ڈاکٹر منظور آفریدی، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز، بین الاقوامی اسلامی یونیوسٹی ؛ اور ڈاکٹر فرحت تاج، ایسوسی ایٹ پروفیسر، یونیورسٹی آف ٹرومسو، ناروے ،شامل تھے۔
ابتدائی کلمات میں، جناب ابرار حسین نے عالمی نظام کے حوالے سے چین کے نقطہ نظر میں تبدیلی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین اب صرف اقتصادی فوائد حاصل کرنے پر مرکوز نہیں بلکہ عالمی حکمرانی کو شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر عالمی جنوبی ممالک پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اور مساوات، باہمی احترام، اور جامع حکمرانی کے اصولوں کی رہنمائی میں۔ اس کے اقدامات کا مقصد اقتصادی عالمی کاری کی دوسری لہر کو آگے بڑھانا اور چوتھے صنعتی انقلاب کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ چین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں گھٹتی ہوئی ملکی معیشت، ہائی ٹیک برآمدات پر نئے ٹیریف، اور جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں شامل ہیں۔
کتاب کا تعارف کراتے ہوئے، پروفیسر آدم سعود نے بتایا کہ یہ 17 ابواب پر مشتمل ہے، جو چین کے عالمی نظام میں عروج اور عالمی حکمرانی پر اس کے اثرات کا کثیر جہتی اور بین الشعبہ جاتی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ کتاب چین کے عروج کے حوالے سے روایتی "حالت موجود بمقابلہ نظرثانی پسند طاقت” کے مباحثے سے آگے جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی جمہوریت کو اکثر حکمرانی کے عالمی ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو کسی بھی متبادل نظام کی توثیق کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، چین خود کو ایک تہذیبی ریاست کے طور پر دیکھتا ہے جو کنفیوشس اصولوں اور فلسفوں سے تشکیل پائی ہے اور "انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل” کے تصور کو فروغ دیتا ہے۔
ڈاکٹر نجم الدین بکر نے کہا کہ چین کا ریاستی قیادت والا ترقیاتی ماڈل مغربی ترقیاتی ماڈلز کے مقابلے میں ایک منفرد اعتباری متبادل پیش کرتا ہے۔ ابن خلدون کےتہذیبوں کے عروج و زوال کے نظریے کی روشنی میں، انہوں نے کہا کہ چین عالمی معیاروں کی تشکیل نو میں مادی اور علمی دونوں سطحوں پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
نغمانہ ہاشمی نے کتاب کو چین کی تاریخ، سیاسی رجحانات اور ترقیاتی راستے کو سمجھنے کے لیے ایک اہم حوالہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، موجودہ عالمی ادارے نوآبادیاتی یا بعد از نوآبادیاتی طاقتوں کے مفادات کے لیے بنائے گئے تھے، لیکن اب درمیانی طاقتوں کے عروج نے ان کی ساختی حدود کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ممالک جو اس نظام کے بانی تھے اب اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جبکہ تاریخی طور پر حاشیہ نشین ممالک اسے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر منظور آفریدی نے کہا کہ کتاب دو حصوں میں تقسیم ہے: ایک حصہ یہ کہ چین دنیا کو کیسے دیکھتا ہے اور دوسرا یہ کہ دنیا چین کو کیسے دیکھتی ہے۔ انہوں نے چین کے انقلابی مرحلے سے عالمی سطح پر ایک مربوط کردار ادا کرنے والے ادارے تک کے ارتقاء کا جائزہ لیا اور کہا کہ آج چین اپنے پڑوسی ممالک میں خطرہ نہیں بلکہ ایک شریک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اپنی بڑھتی ہوئی موجودگی کے باوجود، چین طاقت کے مظاہر سے گریز کرتا ہے اور امن کے پانچ اصولوں پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کنسسس کے ساتھ ساتھ ابھرتا ہوا بیجنگ کنسسس انفراسٹرکچر اور رابطہ کاری کے اقدامات کے ذریعے عالمی ترقی کو نئی شکل دے رہا ہے۔
ڈاکٹر فرحت تاج نے کہا کہ کتاب پالیسی سازوں اور عام عوام کے لیے انتہائی متعلقہ ہے کیونکہ عالمی تبدیلیاں بین الاقوامی اور ملکی حقائق دونوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے مصنفین اور شریک مدیران کی کوششوں کو سراہا اور مزید تحقیق کے لیے شعبے تجویز کیے، جن میں غلط معلومات، ہائبرڈ وارفیئر، اور بڑے طاقتوں کے درمیان مقابلے میں غیر ریاستی کردار شامل ہیں۔
اختتامی کلمات میں آئی پی ایس کے چئیرمین خالد رحمان نے کہا کہ چین کی اپنی تہذیبی اور قدری فریم ورک میں سوچنے کی صلاحیت اس کے عروج کا مرکزی عنصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ کثیر قطبیت ناگزیر ہے، یہ ریاستوں کو متعدد اختیارات اور زیادہ مواقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تھنک ٹینکس اور تعلیمی اداروں کی اہمیت بڑھ رہی ہے، جو ایک غیر مستحکم عالمی ماحول میں بیانیے کی تشکیل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے انہوں نے زور دیا کہ اسے کثیر محور حکمت عملی اپنانا ضروری ہے اور کسی ایک طاقت پر زیادہ انحصار سے گریز کرنا چاہیے۔
