اخلاقی اور اقدار پر مبنی تعلیم کمیونٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے
جنوبی ایشیا میں مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع کا منفرد نمونہ بنگلہ دیش ہے، جو اس کی قومی شناخت اور سماجی استحکام کی بنیاد ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک، جن کی آبادی متنوع ہے اور جن کا ورثہ رواداری پر مبنی ہے، میں مذہب اخلاقی طرزِ عمل کی تشکیل، سماجی اقدار کی رہنمائی، اور معاشرتی تعلقات کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تاہم، یہ معاشرے سماجی و نظریاتی نوعیت کے نئے چیلنجز کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اخلاقی اور اقدار پر مبنی تعلیم کو ایک اسٹریٹجک ترجیح بنانا ناگزیر ہے، ساتھ ہی مذہبی اصولوں کو قومی اتحاد، سماجی یکجہتی، اور ایک ایسے جامع معاشرے کی تعمیر کے لیے تعمیری بنیاد کے طور پر استعمال کرنا چاہیے جو احترام، امن، اور مشترکہ خوشحالی پر قائم ہو۔
یہ خیالات ڈاکٹر عبد الکلام آزاد، ایسوسی ایٹ پروفیسر، منارت انٹرنیشنل یونیورسٹی، ڈھاکہ، بنگلہ دیش نے اپنے لیکچر بعنوان "Religion, Religious Education, and National Solidarity in Bangladesh” میں پیش کیے، جو انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS)، اسلام آباد میں 4 نومبر 2025 کو منعقد ہوا۔سیشن کی نظامت سید ندیم فرحت، ریسرچ فیلو،آئی پی ایس،نے کی، جبکہ اختتامی کلمات ڈاکٹر شہزاد اقبال شام، سینئر ریسرچ فیلو فیلو،آئی پی ایس،نے پیش کیے۔
ڈاکٹر عبد الکلام آزاد نے وضاحت کی کہ بنگلہ دیش ایک کثیرالمذہبی اور کثیرالثقافتی معاشرہ ہے جہاں اسلام، ہندومت، بدھ مت، اور عیسائیت بقائے باہمی کے ساتھ موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کی تہذیبی بنیاد ایک ایسے روادار معاشرے پر رکھی گئی جو تنوع کو خوش آمدید کہتا ہے اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے روزمرہ زندگی کی ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف مذاہب کے لوگ باہمی تعامل میں مذہبی شناخت کو بنیاد نہیں بناتے، جو معاشرتی زندگی میں غیر امتیازی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1972 کے آئین میں آرٹیکل 41 کے تحت مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، جس کے مطابق ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ اور ترویج کا حق حاصل ہے۔ ڈاکٹر آزاد نے وضاحت کی کہ یہ آئینی فریم ورک تمام مذاہب کے لیے باہمی احترام اور قانونی تحفظ فراہم کر کے قومی یکجہتی کو فروغ دیتا ہے۔
مذہبی تعلیم کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدارس اور عصری تعلیمی نظام دونوں کو ایسی متوازن شخصیات پیدا کرنے کا ہدف رکھنا چاہیے جو اخلاقی اقدار پر مبنی ہوں۔ مذہبی تعلیم انسان میں اخلاقی ذمہ داری، دیانت داری، اور سماجی شعور پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کاروباری زندگی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی اخلاقیات پیشہ ورانہ طرزِ عمل پر اثرانداز ہوتی ہیں، جو دیانت داری اور انصاف کو فروغ دیتی ہیں۔ ان کے بقول، انسان کا مذہب اس کے لباس یا الفاظ سے نہیں بلکہ کردار اور عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔
انہوں نے مذہبی ہم آہنگی کو درپیش خطرات کا بھی ذکر کیا، جیسے مذہبی انتہا پسندی، مذہب کا سیاسی استعمال، ڈیجیٹل انتہا پسندی، اور اقلیتی آوازوں کی حاشیہ بندی۔ تاہم، ڈاکٹر آزاد نے زور دیا کہ کثیرالثقافتی معاشروں کو رواداری کے فروغ اور اخلاقی تعلیم کے استحکام کے ذریعے ان خطرات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ مذہبی اصول اب بھی قومی اتحاد، سماجی ہم آہنگی، اور قومی یکجہتی کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔
اختتامی کلمات میں ڈاکٹر شہزاد اقبال شام نے کہا کہ کردار، اخلاقیات، اور بین المذاہب تفہیم قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد ہیں۔ سیشن کے اختتام پر انہوں نے ڈاکٹر عبد الکلام آزاد کا شکریہ ادا کیا اور ان کے معلوماتی اور بصیرت افروز لیکچر کو سراہا۔
