اسلامی فکر کی روشنی میں جدید علمی نظریات پر نظرثانی کی ضرورت ہے: ڈاکٹر انیس احمد

اسلامی فکر کی روشنی میں جدید علمی نظریات پر نظرثانی کی ضرورت ہے: ڈاکٹر انیس احمد

 مغربی تصوّرِ تعلیم پر مبنی فکری نظام کے غلبےنے انسانیت کو اخلاقی پسماندگی اور فکری انتشار سے دوچار کیا ہے۔ انسانیت کو درپیش مسائل اور ان کی بنیادوں کا ادراک کرتے ہوئے اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ عصری علمی تصورات کا اسلامی روایت کی روشنی میں ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔ اسلامی تصورِ علم  انسانی شخصیت  کو جامعیت سے پروان چڑھاتا ہے اور معلومات، علم اور فن کو  اخلاقی اور روحانی بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔ معاشرتی حقائق اور دینی اصولوں کی بنیاد پر تشکیل کردہ نظامِ فکر و تعلیم عالمی سطح پر درپیش بحرانوں سے نمٹنے اور انسانی وقار کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

یہ بات معروف مفکر اور رِفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آبادمیں ۲۶ جون ۲۰۲۵ کو منعقد  اپنے کلیدی خطاب کے دوران کہی۔ یہ لیکچر "آج کی دنیا اور انسانیت کا مستقبل” کے عنوان سے جاری ادارے کی لیکچر سیریز کا حصہ تھا، جس کا موضوع تھا "تصورِ علم پر ازسر نو نظر

یہ پروگرام مارک فیلڈ انسٹیٹیوٹ آف ہائیر ایجوکیشن، برطانیہ، انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف مسلم یونٹی، ملائیشیا، اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اسلامیات کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔ اس موقع پرمارک فیلڈ انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ہارون بشیر اور بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے معلّم ڈاکٹر عبد القدوس صہیب نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ پروگرام کی نظامت پروفیسر ڈاکٹر مستفیض احمد علوی نے کی۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر انیس احمد نے مغربی علمی ماڈلز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام اخلاقی انحطاط، معاشرتی عدم مساوات، اور ماحولیاتی تباہی کا سبب بنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علم کی موجودہ تجارتی اور بیوروکریٹک شکل نے اسے اس کے روحانی، اخلاقی، اور ہمہ جہت مقاصد سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے اسلامی تصورِ علم کی بحالی پر زور دیا، جو توحید  اور وحی کو علم کے بنیادی مآخذ قرار دیتا ہے۔ پروفیسرانیس  احمد نے واضح کیا کہ اسلام میں علم صرف ایک ذہنی مشق نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انقلابی عمل ہے، جو انسان کو اس کے خالق، اور دوسرے انسانوں سے عدل، اخلاقی ذمہ داری، اور اجتماعی فلاح کے ذریعے جوڑتا ہے۔

انہوں نے ابن سینا اور ابن عربی جیسے مسلم مفکرین کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے عقل، وحی، اور روحانی بصیرت کو ہم آہنگ کرنے کی کوششوں میں زریں أصول مرتب کیے اور انہیں کامیابی سے برتا ہے ۔ قرآن مجید میں تفکر، تعقل، اور تذکر جیسے تصورات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے تعلیمی اور علمی نظام کو انہی اصولوں کی بنیاد پر دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ علم کی نوآبادیاتی سوچ سے نجات اور مسلم تعلیمی اداروں کی تجدید کے کے ذریعے ہی یہ ممکن ہے کہ مسلم معاشروں میں صرف مفید علم فراہم کیا جائے جو انسانوں کو حکمت، اخلاقی کردار، اور تعمیری سوچ سے مزین کرے گا ۔

ڈاکٹر ہارون بشیر نے کہا کہ یورپی سوچ کے زیرِ اثرعلمی رجحانات کو نوآبادیاتی دور میں مسلم اور دیگر غیر مغربی معاشروں پر مسلط کیا گیا اور آج بھی جدید نوآبادیاتی  نظام کے ذریعے اسے برقرار رکھا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدوس صہیب نے کہا کہ اس علمی نشست کے ذریعے جو خیالات سامنے آئے، وہ اسلامی فکری ماڈل کی تشکیل میں ایک بامعنی اور قابلِ قدر قدم ہیں، جو اخلاقیات، اور انسانی وقار پر مبنی ہے۔ اس تقریب میں ملک و بیرونِ ملک سے بڑی تعداد میں اسکالرز، اساتذہ، طلبہ، اور محققین نے بذریعہ آن لائن اوربراہِ راست شرکت کی۔

Share this post