اسلام میں انسانی تعلقات کی بنیاد صنفی انصاف پر ہے، نہ کہ صنفی مساوات پر

اسلام میں انسانی تعلقات کی بنیاد صنفی انصاف پر ہے، نہ کہ صنفی مساوات پر

اسلام میں صنفی انصاف خاندانی تعلقات کی اساس ہے۔ اخلاقی مساوات اور عدل پر مبنی یہ تصور مرد و عورت دونوں کے لیے وقار کو یقینی بناتا ہے، جبکہ حقیقی بااختیاری تکمیلیت اور توازن کے ذریعے ابھرتی ہے، جو خاندان اور معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔

یہ بات پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد، وائس چانسلر، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، نے ایک فکر انگیز لیکچر “The Essence of Human Relations: Family, Gender Roles, and Society” کے دوران کہی، جو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS)، اسلام آباد میں 31 جولائی 2025 کو منعقد ہوا۔ اس نشست سے ڈاکٹر رضوان کریم، لیکچرار، مارک فیلڈ انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن نے بھی خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر مصطفیٰ علوی، سینئر ایسوسی ایٹ آئی پی ایس اور سابق ڈین فیکلٹی آف سوشیال سائنسز، نمل(NUML) اسلام آباد نے انجام دیے۔

لیکچر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خاندان اسلام میں انسانی تعلقات کا مرکز ہے۔ پروفیسر احمد نے وضاحت کی کہ خاندان محض ایک سماجی اکائی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی بنیاد ہے، جس پر تقویٰ پر مبنی معاشرہ، ثقافت اور تہذیب قائم ہے۔

انہوں نے انسانی وجود کی اخلاقی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے خاندان کو ایک اخلاقی اکائی کے طور پر متعین کیا ہے، جہاں بچوں کی درست پرورش اور تعلیم و تربیت محض ذمہ داری نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے۔ انہوں نے خاندان کے کائناتی پہلو کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور قرآن کے تصورِ تکمیلیت کی وضاحت کی، جو یِن یانگ کی مانند ہے، جہاں مرد اور عورت ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں اور ایک وحدت تشکیل دیتے ہیں۔

پروفیسر احمد نے خاندان کو سکون، محبت اور اخلاقی تعاون کا سرچشمہ قرار دیا، جو قانونی و اخلاقی معاہدوں اور سماجی ذمہ داریوں پر قائم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک مضبوط خاندانی نظام نہ صرف افراد کی پرورش کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی بااختیار بناتا ہے۔

خواتین کے بااختیاری کے سوال پر، انہوں نے وضاحت کی کہ اسلام میں معاشی بااختیاری عبادت کے تصور کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور خواتین کو ان کے معاشی حقوق دین کا حصہ بنا کر عطا کیے گئے ہیں۔ صنفی مباحثے پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اسلام مغربی معنوں میں صنفی مساوات کا قائل نہیں بلکہ صنفی انصاف اور اخلاقی مساوات کو فروغ دیتا ہے، جو فطری فرق کو تسلیم کرتے ہوئے عدل و وقار کو یقینی بناتا ہے۔

لیکچر کا اختتام اس پیغام کے ساتھ ہوا کہ اسلامی اصولوں کو ازسرنو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ خاندان کے ادارے کو مضبوط بنایا جا سکے، صنفی انصاف کو فروغ دیا جا سکے اور ایسا معاشرہ قائم کیا جا سکے جو اخلاقی اور روحانی اقدار پر مبنی ہو۔

Share this post