امریکا کے اَساسی نظریات اور مداخلت پسندی کے درمیان دیرینہ کشمکش آج بھی عالمی نظام کی تشکیل پرمؤثر: آئی پی ایس سیمینار

امریکا کے اَساسی نظریات اور مداخلت پسندی کے درمیان دیرینہ کشمکش آج بھی عالمی نظام کی تشکیل پرمؤثر: آئی پی ایس سیمینار

 امریکا کے قیام کو ڈھائی سو برس مکمل ہونے کے باوجود اس کے بنیادی نظریات اور مداخلت پسند خارجہ پالیسی کے درمیان موجود دیرینہ کشمکش آج بھی نہ صرف امریکی ریاستی حکمتِ عملی بلکہ عالمی نظام کی تشکیل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ آزادی، جمہوریت اور آئینی حکمرانی جیسے اصول امریکی شناخت کا بنیادی حصہ رہے ہیں، تاہم خارجہ پالیسی میں قومی مفادات کو ترجیح دینے کے رجحان نے اخلاقی اقدار، عملیت پسندی اور عالمی قیادت کے باہمی تعلق پر اہم سوالات کھڑے کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد کے زیر اہتمام ’’امریکا کے ۲۵۰ برس: نظریات سے مداخلتوں تک‘‘ کے عنوان سے  ۱۵ جولائی کو منعقدہ سیمینار میں کیا گیا ۔

سیمینار کے کلیدی مقرر سابق سیکریٹری خارجہ اور امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر سفیر (ر) اعزاز احمد چوہدری تھے، جبکہ دیگر مقررین میں آئی پی ایس کے وائس چیئرمین سفیر (ر) سید ابرار حسین، قائداعظم یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ندیم مرزا، اور آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان شامل تھے۔ سیمینار میں پالیسی ماہرین، سفارتی برادری کے ارکان، اساتذہ، محققین اور طلبہ نے شرکت کی۔

مقررین نے کہا کہ امریکا کا آزادی، خودارادیت اور جمہوریت کے نظریات پر قائم ایک ریاست سے عالمی طاقت بننے کا سفر اخلاقی اصولوں اور جغرافیائی سیاسی مفادات کے درمیان مسلسل توازن کا متقاضی رہا ہے۔ ان کے مطابق آج کے ابھرتے ہوئے کثیر قطبی عالمی نظام میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ آیا کوئی بڑی طاقت عالمی اثرورسوخ برقرار رکھتے ہوئے اپنے بنیادی نظریات سے وفادار رہ سکتی ہے۔

شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کی غیر معمولی ترقی مضبوط آئینی ڈھانچے، جمہوری اداروں، انفرادی آزادیوں کے تحفظ اور جدت طرازی سے وابستگی کا نتیجہ ہے۔ اعلامیۂ آزادی اور امریکی آئین نے مساوات، آئینی حکمرانی، اختیارات کے توازن، معاشی آزادی اور شہری حقوق جیسے اصولوں کو فروغ دے کر سائنسی ترقی، اختراع، کاروباری سرگرمیوں اور ادارہ جاتی استحکام کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔

بحث کے دوران اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ امریکا کی نمایاں کامیابیوں کے ساتھ غلامی اور نسلی امتیاز کی تاریخی میراث، بڑھتی معاشی عدم مساوات، سیاسی تقسیم، عوامی قرض میں اضافہ اور ہجرت سے متعلق جاری مباحث جیسے چیلنجز بھی موجود رہے ہیں۔ مقررین کے مطابق جمہوری اقدار کا تسلسل انہی ساختی اور سماجی مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹنے سے مشروط ہے۔

ڈاکٹر ندیم مرزا نے امریکی خارجہ پالیسی کی فکری بنیادوں کو اخلاقیات، تنہائی پسندی اور عملیت پسندی کے تین مستقل ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکا مسلسل جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی اور حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا رہا ہے، تاہم جب بھی ان اصولوں اور قومی مفادات میں تصادم پیدا ہوا، قومی مفادات کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انیسویں صدی کا تصورِ مینیفسٹ ڈسٹینی (Manifest Destiny)بتدریج دنیا بھر میں امریکی سیاسی اقدار اور اداروں کے فروغ کے وسیع تر مشن میں تبدیل ہوا، جبکہ حالیہ امریکی انتظامیہ، خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں، طویل عسکری مداخلتوں پر سوالات ضرور اٹھائے گئے، لیکن قومی مفادات کو مرکزی حیثیت دینے کی روایت برقرار رہی۔

اختتامی کلمات میں خالد رحمان نے کہا کہ امریکا کے گزشتہ ڈھائی سو برس کو درست تناظر میں سمجھنے کے لیے چین کے ابھرتے ہوئے کردار اور بین الاقوامی نظام میں رونما ہونے والی وسیع تبدیلیوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قومی یا تجارتی مفادات مسلسل اخلاقی اصولوں پر غالب آتے رہے تو عملیت پسندی انہی اقدار سے دستبرداری کا جواز بن سکتی ہے، جن کے تحفظ کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

سیمینار کا اختتام سوال و جواب کی ایک بھرپور نشست پر ہوا۔

Share this post