ایمبیسیڈر (ر) اعزاز احمد چوہدری کے ساتھ دی لیونگ اسکرپٹس سیشنز

ایمبیسیڈر (ر) اعزاز احمد چوہدری کے ساتھ دی لیونگ اسکرپٹس سیشنز

آئی پی ایس کے اورل ہسٹری پراجیکٹ دی لیونگ اسکرپٹس کا 39th سیشن سابق سیکریٹری خارجہ پاکستان، ایمبیسیڈر اعزاز احمد چوہدری کے ساتھ منعقد ہوا۔ یہ مکالماتی نشستیں 27 اکتوبر 2025 اور 8 اور 29 جنوری 2026 کو ہوئیں، جن میں ایمبیسیڈر چوہدری نے اپنی زندگی اور سفارتی کیریئر کے اہم مراحل کو یاد کرتے ہوئے اپنی یادیں، مشاہدات اور ذاتی تجربات شیئر کیے۔

اپنے ابتدائی برسوں کو یاد کرتے ہوئے ایمبیسیڈر چوہدری نے اپنی پرورش اور تعلیمی سفر کے بارے میں پُرجوش انداز میں گفتگو کی۔ وہ 27 فروری 1958 کو پیدا ہوئے اور اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز پی اے ایف کالج سرگودھا سے کیا، جس ادارے کو وہ اپنی شخصیت میں نظم و ضبط، خود اعتمادی اور قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے جامعہ پنجاب، لاہور میں گزارے گئے طالب علمی کے دنوں کو بھی یاد کیا، جہاں انہوں نے 1978 سے 1982 کے دوران سیاسیات میں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ عالمی امور کی گہری سمجھ بوجھ حاصل کرنے کی خواہش انہیں فلیچر اسکول آف لا اینڈ ڈپلومیسی، ٹفٹس یونیورسٹی لے گئی، جہاں انہوں نے 1990 میں بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز مکمل کیا۔ایک ایسا دور جسے وہ فکری طور پر نہایت تبدیلی کا حامل قرار دیتے ہیں۔

ایمبیسیڈر چوہدری نے 1980 میں فارن سروس آف پاکستان میں شمولیت کی یادیں بھی تازہ کیں۔ انہوں نے لاہور میں سول سروس اکیڈمی اور بعد ازاں اسلام آباد میں فارن سروس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والی سخت تربیت کا ذکر کیا، جس نے انہیں سفارتی زندگی کے تقاضوں اور ذمہ داریوں سے روشناس کرایا۔ ان کی ابتدائی تعیناتیوں میں قاہرہ میں لسانی تربیت اور قطر کے شہر دوحہ میں بطور تھرڈ اور بعد ازاں سیکنڈ سیکریٹری خدمات شامل تھیں۔ ان تجربات نے انہیں مشرق وسطیٰ کی سیاست اور کثیرالجہتی سفارت کاری کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ وہ اکثر اس بات کا ذکر کرتے رہے کہ ان ابتدائی برسوں نے ان کے سفارتی فہم کو گہرائی بخشی۔

1988 میں اسلام آباد واپسی کے بعد کے دور کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے وزارتِ خارجہ میں اپنی ذمہ داریوں اور بعد ازاں تہران میں اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے سیکریٹری جنرل کے شیف ڈی کیبنٹ کے طور پر چھ سالہ خدمات کے تجربات بیان کیے۔ ان کے بقول 1990 کی دہائی عالمی تاریخ کا ایک غیرمعمولی دور تھا،سرد جنگ کا خاتمہ، سوویت یونین کا انہدام، اور وسط ایشیائی ریاستوں کا ظہور۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں ECO کی توسیع اور ارتقاء کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، اور یہ کہ علاقائی تعاون کس طرح بیک وقت ایک چیلنج اور موقع دونوں بن کر سامنے آیا۔

1997 میں بطور شیف ڈی کیبنٹ سیکریٹری خارجہ کے ساتھ اپنی تعیناتی کے دوران کے تجربات بیان کرتے ہوئے انہوں نے جنوبی ایشیا میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا ذکر کیا۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات اور 1998 میں پاکستان کے جوہری تجربات کے تناظر میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بارے میں اندرونی سفارتی مشاہدات شیئر کیے۔ ایمبیسیڈر چوہدری نے اُس دور کے شدید دباؤ،بین الاقوامی پابندیوں، معاشی مشکلات اور تزویراتی مخمصوں،کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح پالیسی سازوں نے ایسے فیصلے کیے جنہیں وہ علاقائی توازن کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے۔

1999 سے 2006 تک نیویارک میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن میں ان کی خدمات ان کے کیریئر کے سب سے اہم اور ہنگامہ خیز ادوار میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے 11 ستمبر کے حملوں کے وقت اقوام متحدہ میں موجود ہونے اور اس کے بعد عالمی سیاست میں آنے والی ڈرامائی تبدیلیوں کی یادیں تازہ کیں۔ انہوں نے دیر رات تک جاری رہنے والے مذاکرات، سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاسوں، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن ریاست کے طور پر کردار سے متعلق کئی دلچسپ واقعات بیان کیے۔ ان کے مطابق یہ وہ سال تھے جنہوں نے انہیں شدید دباؤ کے ماحول میں کثیرالجہتی سفارت کاری کے حقیقی معنی سکھائے۔

2007 میں اسلام آباد واپسی پر ایمبیسیڈر چوہدری نے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے ساتھ پاکستان کی سفارتی مصروفیات کی قیادت سنبھالنے کی یادیں بیان کیں۔ انہوں نے OIC کے اجلاسوں کی صدارت، اور مئی 2007 میں اسلام آباد میں منعقدہ وزرائے خارجہ کانفرنس کے انعقاد میں اپنے کردار کا ذکر کیا۔ ان کے بقول یہ وہ دور تھا جب پاکستان خود کو مسلم دنیا اور مغرب کے درمیان ایک پل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بعد ازاں بطور ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیا) انہوں نے سارک فورمز میں پاکستان کی نمائندگی اور علاقائی سفارت کاری کے پیچیدہ پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

2009 سے 2012 تک نیدرلینڈز میں بطور سفیر اپنی تعیناتی کو انہوں نے ایک مختلف مگر نہایت بامعنی تجربہ قرار دیا۔ انہوں نے یورپی حلقوں کے ساتھ روابط اور پاکستان کا متوازن تاثر پیش کرنے کی اپنی کوششوں کو خوشگوار یادوں کے طور پر بیان کیا۔ اسی دور میں انہوں نے اپنی کتاب Pakistan Mirrored to Dutch Eyes تصنیف کی، جسے وہ بیرون ملک پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے تصورات کو سمجھنے اور بہتر بنانے کی ایک کاوش قرار دیتے ہیں۔

اس کے بعد اسلام آباد میں اپنے بعد کے ادوار کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے 2012 میں ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ کی حیثیت سے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعلقات کی نگرانی، اور پھر 2013 میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے طور پر خدمات انجام دینے کے تجربات بیان کیے۔ ان کے مطابق یہ ایک نہایت حساس اور مشکل دور تھا، جس میں محتاط اور ذمہ دارانہ ابلاغ کی شدید ضرورت تھی۔

سب سے زیادہ تفصیل اور گہرائی کے ساتھ انہوں نے دسمبر 2013 سے مارچ 2017 تک سیکریٹری خارجہ کے طور پر اپنے دور کو یاد کیا، جسے وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا نقطۂ عروج قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی سفارتی مشینری کی قیادت اور بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنا کس قدر بھاری ذمہ داری کا کام تھا۔ بعد ازاں امریکا میں بطور سفیر تعیناتی کو انہوں نے ایک مشکل مگر بے حد سیکھنے والا تجربہ قرار دیا، جس نے ان کی سفارتی بصیرت اور برداشت کو مزید جلا بخشی۔

سیشنز کے اختتام پر ایمبیسیڈر چوہدری نے اپنی دہائیوں پر محیط خدمات سے حاصل ہونے والے اسباق پر زور دیا،خصوصاً تزویراتی بصیرت، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور خارجہ پالیسی میں تسلسل کی اہمیت پر۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماضی کے تجربات، بالخصوص 1990 کی دہائی کے حالات، آج بھی پاکستان کو درپیش سفارتی چیلنجز کو سمجھنے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

ان کی کہانیوں، مشاہدات اور بے تکلف یادوں کے ذریعے یہ نشستیں ایک ایسے سفارت کار کی زندگی کی نادر جھلک پیش کرتی ہیں، جس نے نہ صرف پاکستان کی حالیہ تاریخ کے کئی اہم لمحات کو قریب سے دیکھا بلکہ انہیں تشکیل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

Share this post