بدلتا عالمی نظام پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے: آئی پی ایس سیمینار
بدلتی ہوئی عالمی سیاسی و معاشی صورتِ حال اور ابھرتا ہوا کثیر قطبی عالمی نظام پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی، تزویراتی اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق دونوں ممالک تاریخی بداعتمادی اور سرد جنگ کے اثرات سے نکل کر توانائی، تجارت، سلامتی اور علاقائی روابط کے شعبوں میں عملی تعاون کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم اس شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل مکالمہ، ادارہ جاتی روابط اور عوامی سطح پر تعاون ناگزیر ہے۔
ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) میں “پاکستان-روس تعلقات: موجودہ سمت اور مستقبل کے امکانات” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں کیا گیا، جو فیڈرل اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور قازان فیڈرل یونیورسٹی، روس، کے اشتراک سے منعقدہ دوسرے روسی-پاکستانی بین الاقوامی کانفرنس کا حصہ تھا۔ صہ تھا۔ سیمینار سے آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمٰن ، نائب چیئرمین سفیر (ر) سید ابرار حسین، سابق سفیر برائے چین سفیر (ر) مسعود خالد، بحریہ یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سائرہ نواز عباسی، اور انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے ریسرچ ایسوسی ایٹ تیمور فہد نے خطاب کیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سفیر (ر) مسعود خالد نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی صف بندیوں، افغان تنازع اور ١٩٧١ کے بھارت-سوویت معاہدے نے ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کیا، تاہم اب پاکستان اور روس سرد جنگ کی میراث سے آگے بڑھتے ہوئے محتاط مگر بامعنی تعاون کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان سے امریکی انخلا، امریکہ اور بھارت کی بڑھتی قربت، اور علاقائی سلامتی سے متعلق مشترکہ خدشات نے دونوں ممالک کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے تجارت، توانائی، تعلیم اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
ڈاکٹر سائرہ نواز عباسی نےاظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ روس اب پاکستان کو گلوبل ساؤتھ اور یوریشیائی روابط کے تناظر میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی خام تیل کی درآمد، ریفائنریوں کی جدیدکاری اور ایل این جی تعاون نے توانائی کے شعبے کو دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون بنا دیا ہے۔
تیمور فہد نےاس بات پر روشنی ڈالی کہ اگرچہ جنوبی ایشیا کے حوالے سے روس کی پالیسی اب بھی بڑی حد تک بھارت پر مرکوز ہے، تاہم افغانستان، انسدادِ دہشت گردی، یوریشیائی روابط اور دفاعی تعاون جیسے شعبے پاکستان اور روس کے تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں۔
سیمینار کے اختتام پر خالد رحمٰن نے کہا کہ تیزی سے بدلتا عالمی نظام طویل المدتی تزویراتی سوچ، علاقائی تعاون اور مسلسل علمی مکالمے کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ پاکستان اور روس کے درمیان اعتماد سازی اور فکری روابط کے فروغ سے دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
