بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیاں تشویشناک، مذہبی طبقات کا کردار بڑھانے کی ضرورت: آئی پی ایس–آئی سی آر سی کانفرنس
دنیا بھر میں جاری جنگوں اور مسلح تنازعات میں بین الاقوامی قانونِ انسانیت (IHL) کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں عالمی ضمیر کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہیں، جس کے پیشِ نظر انسانی وقار کے تحفظ، جوابدہی کے فروغ اور اخلاقی اقدار کی بحالی کے لیے مذہبی طبقات کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسلامی روایات مسلح تنازعات کے دوران اخلاقی طرزِ عمل کی تشکیل اور غیر جنگجو افراد کے تحفظ کے لیے جامع رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار “بین الاقوامی جنگی قانون کی خلاف ورزیوں اور مذہبی طبقات کا کردار” کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں کیا گیا، جس کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS) نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (ICRC) کے اشتراک سے کراچی میں کیا۔ کانفرنس میں مذہبی رہنماؤں، ماہرینِ تعلیم، طبی شعبے سے وابستہ افراد، انسانی خدمت کے کارکنان، وکلا اور میڈیا نمائندگان سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
کانفرنس کے دوران مقررین نے بین الاقوامی قانونِ انسانیت کے نفاذ کو درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ عالمگیر اخلاقی اصولوں کے استحکام کے لیے مذہبی طبقات کا کردار نہایت اہم ہے۔ تقریب سے خطاب کرنے والوں میں مفتی منیب الرحمٰن، مفتی عبدالرحیم، پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد، ڈاکٹر محسن نقوی، ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر، ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی، ڈاکٹر حافظ محمد ثانی، چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمٰن اور ریڈ کراس کے ریجنل ایڈوائزر ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی سمیت دیگر نمایاں شخصیات شامل تھیں۔
کانفرنس کی پہلی نشست میں مسلح تنازعات کے دوران طے شدہ اصولوں کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ حالیہ عالمی بحرانوں میں نسل کشی، بچوں، خواتین، قیدیوں، مریضوں، طبی عملے اور صحافیوں کو نشانہ بنانا اور شہری آبادیوں پر اندھا دھند بمباری جیسے اقدامات انسانی اخلاقیات کی سنگین پامالی کی مثالیں ہیں۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ قانونی ڈھانچے کو مذہبی اور اخلاقی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اس کی مؤثر عملداری کو یقینی بنایا جائے۔
کلیدی خطاب میں رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد نے انسانی اصولوں کی پاسداری میں کمی کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے مسلم معاشروں پر زور دیا کہ وہ تنازعات کے دوران اخلاقی طرزِ عمل کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں۔
کانفرنس میں انسانی ہمدردی کے تناظر میں بین الاقوامی انسانی قانون اور اسلامی تعلیمات کے باہمی تعلق کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مقررین نے اسلام کے قانونِ جنگ (سِیَر) کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے شہریوں، مذہبی شخصیات، عبادت گاہوں اور غیر جنگجو افراد کے تحفظ کے اصولوں پر روشنی ڈالی اور قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
بعد ازاں نشست میں موجودہ حالات میں مسلم معاشروں کے عملی کردار پر غور کیا گیا اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو فروغ دینے کے طریقہ کار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ مذہبی رہنما اور دینی تنظیمیں بحران کے اوقات میں انسانی اقدار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں، جبکہ فلاحی اداروں کی خدمات، میڈیا کو درپیش چیلنجز اور طبی عملے کے تحفظ جیسے امور بھی خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔
چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمٰن نے کہا کہ یہ کانفرنس عالمی مسائل پر بامعنی مکالمے کو فروغ دینے، کلاسیکی اخلاقی روایات کو جدید پالیسی فریم ورک سے ہم آہنگ کرنے اور انسانی قانون و عمل کے بارے میں ذمہ دارانہ اور باخبر گفتگو کو تقویت دینے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔
اختتامی سیشن میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بین الاقوامی قانونِ انسانیت کے احترام میں کمی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مسلسل فکری، تعلیمی اور پالیسی سطح پر کوششیں ناگزیر ہیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اخلاقی، قانونی اور مذہبی پہلوؤں کو یکجا کر کے ہی انسانی مسائل کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
