دی لیونگ اسکرپٹس سیشن – سفیر معین الحق کے ساتھ
آئی پی ایس کے زبانی تاریخ کے منصوبے دی لیونگ اسکرپٹس کا اڑتیسواں سیشن سفیر (ر) معین الحق، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوامی جمہوریہ چین میں سابق سفیر، کے ساتھ منعقد ہوا۔ یہ نشستیں 15 اکتوبر، 23 اکتوبر اور 18 نومبر 2025 کو منعقد کی گئیں۔
سفیر معین الحق، جو 1987 بیچ کے فارن سروس آف پاکستان کے ایک ممتاز کیریئر سفارت کار ہیں، نے اپنے سفارتی سفر، اہم بیرونِ ملک تعیناتیوں اور پاکستان–چین تعلقات کے بدلتے ہوئے پہلوؤں کے بارے میں کھل کر اپنے تجربات اور مشاہدات شیئر کیے۔
وہ یکم مارچ 1963 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور ایم کام کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد 14 نومبر 1987 کو فارن سروس میں شمولیت اختیار کی۔ وزارتِ خارجہ میں اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے کئی اہم ذمہ داریاں انجام دیں، جن میں بنگلہ دیش ڈیسک آفیسر، پرسنل ڈویژن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر، او آئی سی سمٹ سیل اور دفترِ خارجہ کے سیکرٹری کے دفتر میں ڈپٹی ڈائریکٹر، دفترِ خارجہ کے سیکرٹری کے دفتر میں ڈائریکٹر، یورپ کے لیے ڈائریکٹر جنرل، چیف آف پروٹوکول، اور ایڈیشنل سیکرٹری (انتظامیہ) کے عہدے شامل ہیں۔ ان ذمہ داریوں کے دوران وہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی روابط اور اہم ادارہ جاتی اصلاحات کے مرکز میں رہے۔
پروٹوکول ڈویژن میں اپنے دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ دو سال تک پاکستان کے چیف آف پروٹوکول رہے، جہاں انہوں نے کئی اہم سرکاری دوروں کی نگرانی کی، جن میں اپریل 2015 میں چین کے صدر کا پاکستان کا تاریخی دورہ بھی شامل تھا، جس نے پاکستان–چین تعلقات کو ایک نئی بلندی عطا کی۔ اسی عرصے میں انہوں نے اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کے ساتھ ناروے اور فرانس کے سرکاری دوروں میں بھی شرکت کی۔
سفیر معین الحق کی بیرونِ ملک تعیناتیاں مختلف خطوں پر محیط رہیں۔ وہ برسلز (1993–1996)، نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن (1999–2002)، کولمبو (2002–2005)، وینکوور میں قونصل جنرل (2007–2010) اور انقرہ میں نائب سربراہِ مشن (2010–2013) کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

جولائی 2016 میں وہ فرانس میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے، جہاں وہ بیک وقت موناکو میں بھی سفیر کے طور پر تعینات رہے اور یونیسکو میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اس دور کو نہایت اہم مگر چیلنجنگ قرار دیا، کیونکہ اس دوران انہوں نے پیرس اور نیس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا براہِ راست مشاہدہ کیا اور بھارت–فرانس طیارہ معاہدے کے باعث پیدا ہونے والی عارضی سفارتی رکاوٹوں کا بھی سامنا کیا۔ ان مشکلات کے باوجود انہوں نے پاکستان کی سیاحتی صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے فرانسیسی ٹور آپریٹرز کو مدعو کیا اور منظم سیاحتی پیکیجز کی تیاری میں مدد دی۔ انہوں نے یونیسکو میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی بھی کی جس میں پاکستان کی ثقافتی اور تعلیمی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا۔
سفیر معین الحق اگست 2020 سے 2023 تک چین میں پاکستان کے سفیر کے طور پر تعینات رہے۔ انہوں نے اس ذمہ داری کو پاکستان–چین تعاون کی گہرائی کے پیشِ نظر ایک “بہت بڑی ذمہ داری” قرار دیا۔ چین کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تین اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی: چین کا نظامِ حکمرانی، اس کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کی بنیادیں، اور پاکستان کے ساتھ اس کی دیرینہ دوستی۔ انہوں نے کہا کہ چین کی تاریخی طور پر پُرامن خارجہ پالیسی اور ڈینگ شیاؤپنگ کی قیادت میں ہونے والی تبدیلیوں نے کئی دہائیوں پر محیط معاشی ترقی کی بنیاد رکھی۔ آج چین برآمدات، برقی گاڑیوں، شمسی توانائی، ڈرون ٹیکنالوجی، ای کامرس اور تیز رفتار ریلوے جیسے شعبوں میں دنیا میں سب سے آگے ہے اور اس نے 80 کروڑ سے زائد افراد کو غربت سے نکالا ہے۔
انہوں نے چین کی کامیابی کو مضبوط ریاستی توجہ، تہذیبی تسلسل، طویل مدتی پالیسی استحکام، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری، غیر مرکزی طرزِ حکمرانی اور متحرک نجی شعبے کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق قومی نظم و ضبط، اتحاد اور اقدار پر مبنی قیادت نے بھی اس کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی رہنما وہ ہوتا ہے جو کردار اور اخلاق سے قیادت کرے، نہ کہ طاقت کے زور پر۔
پاکستان–چین تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کو ‘آہنی بھائی’ قرار دیا اور کہا کہ چین 1960 کی دہائی سے مسلسل پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے سی پیک کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا پہلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر مرکوز تھا جبکہ دوسرا مرحلہ اب صنعتی ترقی، زراعت، آئی ٹی تعاون اور دفاعی اشتراک پر توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین نے پاکستان کو جدید دفاعی سازوسامان بھی فراہم کیا ہے، جن میں طیارے، جنگی جہاز اور آبدوزیں شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، چین میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور متعدد چینی جامعات میں اردو زبان پڑھائی جا رہی ہے۔
چین کے مختلف حصوں کے وسیع دوروں کے بعد سفیر معین الحق نے اس بات پر پختہ یقین کا اظہار کیا کہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، زراعت اور صنعتی ترقی کے میدانوں میں پاکستان کا مستقبل بڑی حد تک چین کے ساتھ مضبوط تعلقات سے وابستہ ہے۔ وہ انگریزی، اردو اور فرانسیسی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور پاکستان کے لیے اپنی خدمات کے اعتراف میں ستارۂ امتیاز سے نوازے جا چکے ہیں۔

