پاک افغان اعتماد سازی کو بڑھانے کے لیے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط ومستحکم اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ضروری ہے،مقررین

پاک افغان اعتماد سازی کو بڑھانے کے لیے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط ومستحکم اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ضروری ہے،مقررین

پاک۔افغان تعلقات: اعتماد کی کمی پر قابو پانے کے لیے ماہرین کی حکمت عملی میں تبدیلی کی تجویز 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کی مستقل کمی کو دور کرنا دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط  ومستحکم اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ضروری ہے۔ اعتماد بڑھانے کے لیے طویل المدتی، عوامی، مربوط اور یکساں فریم ورک پر مشتمل  اقدامات اٹھانا ہوں گے، دوطرفہ اعتماد سازی کے لیے ترجیحات ،شراکت داری، شرکت،  اور ثابت قدمی کی طرف حکمت عملی میں تبدیلی ایک قابل عمل راستہ ہے۔

ان خیالات کااظہارسابق سفیروں، اسکالرز اور محققین نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)اسلام آباد میں "پاکَ افغان تعلقات میں تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی حرکیات” کے عنوان سے۹ جولائی ۲۰۲۵ کو منعقدہ ایک نشست میں کیا۔ اس نشست میں آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان، آئی پی ایس کے وائس چیئرمین سید ابرار حسین، اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی ڈائریکٹر امینہ خان، سابق سفیر ایاز وزیر، دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سید نذیر، سابق سفیر نصراللہ خان، آئی پی ایس ایسوسی ایٹ بریگیڈیئر(ر)خورشید خان، سینئر صحافی طاہر خان، مصنف اور محقق ڈاکٹر لطف الرحمن، آئی پی ایس کے ایسوسی ایٹ بریگیڈیئر (ر)طغرل یامین، آئی پی ایس کے ایسوسی ایٹ ڈاکٹر اظہر احمد، آر سی سی آئی کے سابق رکن امان اللہ خان، نیشنل ڈائیلاگ فورم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شہریار خان، اور قائداعظم یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ سلیمان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مقررین نے کہا کہ بنیادی تنائو دونوں ممالک کے تعلقات پر دبا ڈال رہا ہے۔ اگرچہ 2021 میں طالبان کی حکومت میں واپسی نے ابتدائی طور پر پاکستان کے مغربی سرحد پر زیادہ استحکام کی امید پیدا کی تھی، لیکن تحریک طالبان پاکستان کے سرحد پار حملوں میں اضافے نے اس امید کو ماند کر دیا۔ مقررین نے کہا کہ اگرچہ طالبان کا کہنا ہے کہ ان کا ٹی ٹی پی پر محدود کنٹرول ہے، لیکن زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔  افغانستان میں تبدیل ہونے والا حکومتی ڈھانچہ آمریت اور عملیت پسندی کا مرکب ہے، جہاں طالبان نے بین الاقوامی طور پر رسمی انداز میںتسلیم شدہ حیثیت حاصل نہیں کی ہے لیکن حقیقت میں داخلی اور خارجی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔ تاہم، ان کی غیر مربوط خارجہ پالیسی، جو قومی مفادات کی بنیاد پرکام کرتی ہے، نے خطے میں معنی خیز تعاون کو محدود کر دیا ہے اور سفارت کاری کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مقررین نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو سیاسی عزم اور عملی سفارت کاری کی بنیاد پر دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں ایک دوسرے کے بنیادی خدشات، پاکستان کے لیے سیکورٹی اور افغانستان کے لیے تجارت کے مسائل کو حل کرنا اور اقتصادی باہمی انحصار، مہاجرین کے انتظام، اور مکالمے کو تین طرفہ فورمز کے ذریعے آگے بڑھانا شامل ہے۔  انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے تناظر کی بالادستی کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ تعلقات تبدیل نہیں ہو سکے۔ اس کو دور کرنے کے لیے ترجیحات کو ہم آہنگ کرنا، شراکت داری کو فروغ دینا، دونوں ممالک کے عوام کی  شرکت کو یقینی بنانا، اور مشغولیت میں ثابت قدمی کو برقرار رکھنا ہو گا۔ مشترکہ انسانی سرمایہ جیسے شعبوں میں مشترکہ وسائل تلاش کرنا اور سرمایہ کاری کرنا انتہائی اہم ہے۔ عوام سے عوام تک رابطے، خاص طور پر پاکستانی اداروں سے فارغ التحصیل افغان طلبا کی عالمی موجودگی، کو پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے اور خیر سگالی پیدا کرنے کے لیے ایک عملی ذریعہ قرار دیا گیا۔  مقررین نے آزاد میڈیا ، مضبوط عوامی سفارت کاری، اور افغانستان میں پاکستانی مشنز کے فعال کردار کی ضرورت پر زور دیا تاکہ افغانستان کے مختلف شعبوں میں پاکستان کے تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے تعلقات کو مشترکہ مفادات اور باہمی احترام کے گرد ازسر نو ترتیب دینا چاہیے۔

خالد رحمٰن نے زور دیا کہ پاکستان افغانستان تعلقات میں درپیش چیلنجز کو حل کرتے وقت مقامی، علاقائی اور عالمی حرکیات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے پاک افغان مسائل کو سمجھنے کے لیے مغربی تناظر پر انحصار کرنے کے بجائے ایک مقامی بیانیہ تیار کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے افغا نستان کے ساتھ اعتماد سازی کو بہتر بنانے کے لیے ایک درمیانی سے طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا، جس میں تمام  دستیاب ذرائع کو استعمال کیا جائے ۔ انہوں نے ثقافتی اور سماجی مشترکات کو اجاگر کرنے والے اعتماد بڑھانے کے اقدامات پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششیں دونوں ممالک کے درمیان زیادہ معنی خیز تعلقات کو فروغ دیں گی۔

Share this post