کم عمری کی شادی کے مسئلے کا پائیدار حل قوانین سے آگے بڑھ کر اجتماعی اور معاشرتی نقطہ نظر کے فروغ سے ممکن ہے: ماہرین
کم عمری کی شادی کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے آئی سی ٹی چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ ۲۰۲۵ جیسے قوانین پر عملدرآمد کے علاوہ دیگر اقدامات کی ضرورت ہے۔ کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے ایک جامع نقطہ نظر اور اخلاقی بہتری کے ساتھ معاشرتی ذمہ داری کو فروغ دیا جا نا چاہیئے کم عمری کی شادی کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی، عوام میں آگاہی ، تعلیم ، خاندانی حمایت اور معاشرتی مکالمہ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، ایسی مجموعی کوششیں جو قانونی تحفظ کے ساتھ ثقافتی حساسیت اوراخلاقی برتری کو مد نظر رکھ کر کی جائیں، سے ہی طویل المدتی سماجی بہتری ممکن ہے۔
ان خیالات کا اظہارمقررین نے "آئی سی ٹی چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ ۲۰۲۵ – قانونی، سماجی اور مذہبی نقطہ نظر” کے عنوان سے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس ) اسلام آباد میں ۱۹ جون ۲۰۲۵منعقدہ سمینار میں اظہار خیال کرتےہوئے کیا۔ سمینار میں آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان، معروف قانون دان حماد سعید ڈار ایڈوکیٹ، طبی ماہر اور اسلامی اسکالر ڈاکٹر ام کلثوم، اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی سینئر لیکچرار ڈاکٹر غزالہ غالب سمیت دیگر اسکالرز اور ماہرین نے شرکت کی۔
سمینار میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان میں کم عمری کی شادی کے قوانین اب بھی نوآبادیاتی دور کی قانون سازی جیسے ۱۸۹۱ کے ایج آف کنسنٹ ایکٹ اور ۱۹۲۹ کے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ پر مبنی ہیں، جس کے تحت شادی کی کم از کم عمر خواتین کے لیے ۱۶ سال اور مردوں کے لیے ۱۸ سال ہے۔ حماد ڈار نے بتایا کہ صوبہ سندھ نے ۱۹۲۹ کے قانون کو ۲۰۱۴ میں منسوخ کر دیا تھا اور شادی کی قانونی عمر مرد و خواتین دونوں کے لیے ۱۸ سال مقرر کی تھی، لیکن پنجاب میں اب بھی ۱۹۲۹ کا قانون نافذ ہے، جس میں تضادات موجود ہیں۔

اسلام آباد میں آئی سی ٹی چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ ۲۰۲۵ کی قانون سازی، نے ۱۸ سال سے کم عمر افراد کی شادی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے، جس کے تحت ایسے جرائم ناقابل ضمانت اور ناقابل مصالحت ہیں۔ اگرچہ کم عمری کی شادیوں کو جرم قرار دے دیا گیا ہے، لیکن ان قوانین کو زمینی حقائق، سماجی اقدار اور ثقافتی حساسیت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
بحث کے دوران، بچپن کی شادی کے مضر اثرات جیسے نوعمر حمل، زچگی کے صحت کے خطرات اور جذباتی صدمات کو ڈاکٹر ام کلثوم نے عوامی صحت اور سماجی مسائل کے طور پر اجاگر کیا۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف قانون سازی ان مسائل کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ایک جامع حکمت عملی جو عوامی بیداری، تعلیم، خاندانی مدد اور اور کمیونٹی مکالمے پر مشتمل ہو، معنی خیز تبدیلی کے لیے ضروری ہے۔
ڈاکٹر غزالہ غالب نے اس حوالے سے قانونی نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام شادی کے لیے کوئی خاص عمر مقرر نہیں کرتا، بلکہ اس کی بنیاد "بلوغت پر رکھتا ہے، جو جسمانی اور ذہنی پختگی کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کم عمری کی شادی کے حوالے سے پاکستان کے موجودہ قوانی میں جرم سازی کا رجحان مغربی سزائوں کے فریم ورک کی پیروی کرتا ہے جو ثقافتی حساسیت اور اسلامی اقدار جیسے "تربیت” (اخلاقی اور روحانی نشوونما) کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ انہوں نے قانون میں لچک کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ شادی ایک معاہدہ ہے جس کے لیے دونوں فریقین کی باخبر رضامندی درکار ہوتی ہے۔
نشست کا اختتام کرتے ہوئے، خالد رحمان نے کم عمری کی شادی جیسے حساس مسائل پرقانون سازی کے مکالمے میں تفریق کے خطرات پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے قوانین یکطرفہ طور پر کام نہیں کر سکتے، کیونکہ ایک قانون متعارف کروانے سے اکثر نئے چیلنجز پیدا ہوتے ہیں اور اسی دائرے میں متعلقہ لیکن الگ مسائل کے لیے مزید قوانین کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ مولانا مودودی کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے، خالد رحمان نے کہا کہ بلوغت کی عمر کی حدیں مقرر کرنا اسلامی اخلاقیات اور سماجی حقائق کے منافی ہو سکتا ہے۔ اس کے بجائے، تعلیم، بیداری اور بتدریج سماجی اصلاح پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، جبکہ قانونی لچک کو غیر معمولی معاملات کے لیے برقرار رکھا جانا چاہیے۔
بحث کا اختتام اس اتفاق رائے پر ہوا کہ کم عمرکی شادی جیسے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے، جہاں قانونی تحفظ، اخلاقی تعلیم، کمیونٹی بیداری اور خاندانی تحفظ کو فروغ دے کر کم عمری کی شادی کے مسئلے کو ثقافتی اور مذہبی احترام کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔

