ہنگامی حالات میں صحافت انسانی سلامتی، وقار اور ذمہ داری سے عبارت ہونی چاہیے: دینی میڈیا کے لیے ورکشاپ
تنازعات اور ہنگامی حالات میں صحافت کا کردار محض واقعات اور اعداد و شمار کی ترسیل تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ متاثرہ افراد، ان کے وقار، حقوق، بقا اور ضروریات کو رپورٹنگ کا مرکز بنایا جانا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرانوں کی بدلتی نوعیت، متاثرہ علاقوں تک محدود رسائی، عوامی دلچسپی میں کمی اور زمینی حقائق و میڈیا کوریج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے نے انسان دوست صحافت کی ضرورت کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ ایسی صحافت نہ صرف درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے بلکہ ممکنہ نقصان سے بچاؤ اور ذمہ دارانہ عوامی ردِعمل کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار ’’مسلح تنازعات اور ہنگامی حالات میں انسان دوست صحافت‘‘ کے عنوان سے ۱۶ اور ۱۷ جون کو مری میں منعقدہ دو روزہ اعلیٰ سطحی ورکشاپ میں کیا گیا، جس کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے مشترکہ طور پر کیا۔ ورکشاپ میں مدیران، لکھاریوں اور دینی میڈیا سے وابستہ تخلیق کاروں نے شرکت کی اور بین الاقوامی انسانی قانون، انسانی خدمت، صحافتی اخلاقیات اور بحرانوں کی رپورٹنگ میں دینی میڈیا کے کردار پر تبادلۂ خیال کیا۔
ورکشاپ کا افتتاح آئی پی ایس کے ریسرچ فیلو سید ندیم فرحت نے کیا۔ آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ آئی سی آر سی کے ریجنل ایڈوائزر برائے اسلامی قانون و فقہ ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی نے موجودہ عالمی چیلنجز کے تناظر میں بین الاقوامی انسانی قانون کی اہمیت اور افادیت پر گفتگو کی۔
ورکشاپ کے مختلف سیشنز میں بین الاقوامی انسانی قانون کے ماہر ڈاکٹر ثاقب جواد، سینئر صحافی طارق حبیب اور انسانی خدمت کے شعبے سے وابستہ عمیر حسن نے خطاب کیا۔ مقررین نے جنیوا کنونشنز اور ان کے اضافی پروٹوکولز، مسلح تنازعات میں انسان دوست صحافت کے اصولوں، اور انسانی خدمت انجام دینے والی تنظیموں کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
مقررین نے کہا کہ انسانی بحران اب محض قلیل مدتی آفات تک محدود نہیں رہے بلکہ تنازعات، نقل مکانی، موسمیاتی تبدیلیوں اور محدود رسائی کے باعث طویل اور پیچیدہ صورت اختیار کر چکے ہیں
گفتگو میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ روایتی صحافت عموماً فوری واقعات اور اعداد و شمار کو نمایاں کرتی ہے، جبکہ انسان دوست صحافت متاثرہ افراد کے حالات، ان کو درپیش مشکلات اور بحران کے پس منظر میں موجود ساختی کمزوریوں پر توجہ دیتی ہے۔ مقررین نے کہا کہ انسان دوست صحافت انسانیت، غیر جانب داری، عدم امتیاز، درستگی، انسانی وقار، رازداری اور ’’نقصان سے بچاؤ‘‘ جیسے اصولوں پر استوار ہے۔ صحافیوں کو معلومات کی تصدیق، سنسنی خیزی سے اجتناب اور کمزور طبقات کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ رپورٹنگ کسی فرد یا گروہ کے لیے مزید صدمے، بدنامی یا عدم تحفظ کا سبب نہ بنے۔
ورکشاپ میں انسان دوست سرگرمیوں کی بدلتی نوعیت پر بھی گفتگو کی گئی اور کہا گیا کہ امدادی سرگرمیاں اب محض فوری امداد تک محدود نہیں رہیں بلکہ پائیدار بنیادوں کی تشکیل، مقامی آبادی کی شمولیت، باہمی اعتماد اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
اختتامی کلمات میں ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی نے کہا کہ انسان دوست صحافت محض ایک تکنیکی مشق نہیں بلکہ انسانی وقار اور سماجی ذمہ داری کے شعور پر مبنی ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ حاصل کردہ علم کو بلاامتیاز انسانیت کی خدمت اور بحرانوں کے دوران ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔
