40th HRDP دعوۃ اکیڈمی، IIUI کے مسلح افواج کے افسران کے وفد کا IPS کا دورہ

40th HRDP دعوۃ اکیڈمی، IIUI کے مسلح افواج کے افسران کے وفد کا IPS کا دورہ

 

40th HRDP دعوۃ اکیڈمی ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) سے تعلق رکھنے والے مسلح افواج کے افسران کے ایک وفد نے 23 دسمبر 2025 کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS)، اسلام آباد کا دورہ کیا۔

وفد کو اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں (UN Special Rapporteurs) کی جانب سے پاکستان کے خلاف بھارت کے مبینہ ”غیر قانونی استعمالِ طاقت”سے متعلق حالیہ رپورٹ پر بریفنگ دی گئی۔

دورے کے دوران IPS کی ٹیم نے رپورٹ کا جامع تعارف پیش کیا، جس میں پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی، اس کے نتیجے میں ہونے والی عسکری کارروائیوں، اور بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اٹھائے گئے خدشات کا احاطہ کیا گیا۔ بریفنگ میں رپورٹ کے اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی، جن میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2(4) کی ممکنہ خلاف ورزی، حقِ دفاع (Self-Defense) کے دعوؤں پر سوالات، آرٹیکل 51 کے تحت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو عدم اطلاع، اور ان اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی حقوق کے اثرات شامل تھے۔

اس رپورٹ کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی موجودہ دستاویزات کے تناظر میں بھی رکھا گیا، جن میں دفترِ اقوامِ متحدہ برائے انسانی حقوق (OHCHR) کی جانب سے کشمیر پر جاری کی گئی سابقہ رپورٹس کے حوالے شامل تھے۔ اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے نظام کے اندر ایسے معاملات کی اندراج، جائزہ، اور فالو اپ سے متعلق طریقۂ کار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

اس موقع پر خالد رحمٰن، چیئرمین IPS نے تھنک ٹینکس کے کردار اور ذمہ داریوں پر بھی اظہارِ خیال کیا، اور اس امر پر زور دیا کہ تحقیقی اداروں کی بنیادی ذمہ داری آزادانہ تجزیہ فراہم کرنا، شواہد پر مبنی تحقیق کو فروغ دینا، اور عوامی و پالیسی سطح پر باخبر مکالمے میں تعمیری کردار ادا کرنا ہے۔

اس سے قبل وفد کو IPS کے ادارہ جاتی اغراض و مقاصد، تحقیقی ترجیحات، اور پالیسی سے متعلق کام کا تعارف بھی کروایا گیا، بالخصوص بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق، اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں ادارے کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی گئی۔

دورے کا اختتام ایک تعاملی نشست پر ہوا، جس میں شرکاء کو موضوع سے متعلق سوالات اٹھانے اور بین الاقوامی قانونی عمل اور علاقائی پیش رفت کے مضمرات پر تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کیا گیا۔

 

Share this post