مسلم معاشروں میں سماجی و قانونی چیلنجز پر انڈونیشی اسکالر کے ساتھ آئی پی ایس میں مکالمہ
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد نے 27 اگست 2025 کو انڈونیشیا کی یونیورسیتاس اسلام نگری (UIN) امام بونجول پادانگ کے پروفیسر ڈاکٹر ابرار کے ساتھ ایک اِن ہاؤس نشست کا انعقاد کیا، جو پاکستان کے دورے پر تھے۔ یہ نشست پاکستانی اور انڈونیشی محققین کے مابین علمی تبادلے اور مسلم معاشروں کو درپیش مشترکہ چیلنجز کے مطالعے کے لیے ایک بہترین موقع ثابت ہوئی۔
اپنی گفتگو میں پروفیسر ڈاکٹر ابرار نے "مسلم معاشروں میں سماجی مسائل اور قانون سازی کے طریقۂ کار" کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ انڈونیشیا، جو دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے، کس طرح قانون سازی، پالیسی اور شریعت کے اصولوں کے باہمی ربط کے ذریعے اہم سماجی مسائل سے نمٹتا ہے۔ انہوں نے انڈونیشی تجربے کی روشنی میں وضاحت کی کہ حکمرانی کے ڈھانچے، مذہبی تعبیرات اور عوامی شمولیت کس طرح باہم مل کر سماجی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور روایت و جدیدیت کے درمیان توازن قائم کرتے ہیں۔
اس نشست میں آئی پی ایس کے نائب چیئرمین، سفیر (ر) سید ابرار حسین، پروفیسر ڈاکٹر مستفیض علوی (سینئر ایسوسی ایٹ، آئی پی ایس اور سابق ڈین سوشل سائنسز، نمل، اسلام آباد)، پروفیسر ڈاکٹر عتیق الزفر خان (ریسرچ ایڈوائزر، آئی پی ایس)، پروفیسر ڈاکٹر شہزاد اقبال شام (سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ، آئی پی ایس)، سید ندیم فرحت (ریسرچ فیلو، آئی پی ایس) اور آئی پی ایس کی ٹیم بھی شریک ہوئی۔
گفتگو کے دوران آئی پی ایس کے محققین اور شرکاء نے پاکستان کے اپنے سماجی و قانونی تناظر کے ساتھ مماثلتوں پر تبادلہ خیال کیا۔ نشست نے مسلم معاشروں میں سماجی قانون سازی کے لیے جامع طریقۂ کار وضع کرنے میں بین الاقوامی مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر آئی پی ایس کے اس عزم کو بھی تقویت ملی کہ وہ علمی تعاون کو فروغ دینے اور حکمرانی، قانون اور سماجی ترقی پر تقابلی بصیرت فراہم کرنے کے عمل کو مسلم دنیا میں آگے بڑھاتا رہے گا۔

