ترکی کی یوتھ تنظیم کا IPS اسلام آباد کا دورہ

ترکی کی یوتھ تنظیم کا IPS اسلام آباد کا دورہ

بین الملکی مکالمہ، اقدار پر مبنی تعلیم، اور تھنک ٹینکس اور نوجوانوں کی تنظیموں کے باہمی تعاون سے وہ پیچیدہ سماجی، نفسیاتی اور نظریاتی چیلنجز بہتر طور پر حل کیے جا سکتے ہیں جن کا سامنا مسلم معاشروں کے نوجوانوں کو درپیش ہے۔

یہ نکات 26 نومبر 2025 کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS)، اسلام آباد میں ترکی کی معروف یوتھ تنظیم ییدی ہلال (YediHilal) کے نمائندہ وفد کے دورے کے دوران زیرِ بحث آئے۔ یہ تنظیم تہذیبی اور اسلامی اقدار پر مبنی تعلیمی، سماجی اور ثقافتی ترقی کے لیے کام کرتی ہے۔ دورے کا مقصد پاکستان اور ترکی کے نوجوانوں کو درپیش مشترکہ چیلنجز پر گفتگو کو مزید بہتر بنانا اور نوجوانوں کی شرکت اور اقدار پر مبنی ترقی کے لیے باہمی تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔

وفد کی قیادت سمیت پچاجی (Samet Paçacı)، چیئرمین ییدی ہلال نے کی، جبکہ دیگر اراکین میں محمد سید فورونجو )نائب چیئرمین(، محمد فرحت یشیل (ڈپٹی پریزیڈنٹ، مالی امور)، اور احمد نیازی اُلکو (بورڈ ممبر برائے بین الاقوامی تعلقات) شامل تھے۔

بعد ازاں، IPS نے ییدی ہلال کے وفد اور مختلف جامعات،جن میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML)، بحریہ یونیورسٹی، اور رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی شامل ہیں،کے نوجوان رہنماؤں کے درمیان ایک تعاملی مکالمہ کا اہتمام کیا۔ اس نشست نے نوجوانوں کے مسائل، سرگرمیوں اور فکری مشغولیت پر بین الثقافتی تبادلے کے لیے ایک مفید پلیٹ فارم فراہم کیا۔

گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے، سمیت پچاجی نے ترکی کے نوجوانوں کو اسکولوں اور جامعات میں درپیش اہم چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شناختی ابہام، سماجی و معاشی غیر یقینی صورت حال، اور نوجوانوں کی راہنمائی کے لیے اقدار پر مبنی قیادت اور ادارہ جاتی حمایت کی ضرورت جیسے بڑھتے ہوئے دباؤ کا ذکر کیا۔

NUML کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر نور ولی نے پاکستانی نوجوانوں کو درپیش تین بڑے چیلنجز بیان کیے۔ ان میں اقتصادی مسائل، خصوصاً بے روزگاری؛ حکومتی اداروں، سیاسی نظام اور مسلم دنیا کی قیادت پر سے اعتماد کا زوال؛ اور نوجوانوں اور مذہبی علماء کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ شامل ہے، جس نے مذہبی اور اخلاقی معاملات میں الجھن اور بے رغبتی پیدا کی ہے۔

ڈاکٹر قدسیہ ،رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، نے نوجوانوں کو درپیش نفسیاتی چیلنجز کی طرف توجہ دلائی اور انہیں بڑی حد تک ناکام سماجی و سیاسی نظام، مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورت حال، اور احساسِ لاتعلقی کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کی بہتری کے لیے جامع اور ہمہ گیر نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لوگوتھراپی (Logotherapy) کو ایک مؤثر طریقہ تجویز کیا، جس کے ذریعے نوجوان زندگی میں مقصد، معنی اور ذمہ داری کو دوبارہ دریافت کر سکتے ہیں۔

Share this post