پاکستان کی فکری خودمختاری اور پالیسی استحکام کا انحصار مقامی تحقیق پر ہے، IPS اور IIUI کا اشتراک
مقامی علم اور تحقیق کسی بھی قوم کی فکری خودمختاری اور پالیسی استحکام کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے مقامی تناظر میں جڑی علمی تحقیق اور مقامی تحقیقی پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری نہایت اہم ہے تاکہ ملکی پیچیدہ حقائق کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور ایسے حل وضع کیے جا سکیں جو اس کے اپنے سماجی اور تاریخی پس منظر سے ہم آہنگ ہوں۔ آنے والی نسلوں کے لیے، اس نوعیت کی تحقیق تنقیدی سوچ، علم پر ملکیت کے احساس، اور عالمی مباحث میں بامعنی شرکت کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے۔
یہ نکات 23 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS) اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI)کے مابین مفاہمتی یادداشت (MoU) کی دستخطی تقریب کے دوران ہونے والی گفتگو کا مرکزی موضوع رہے۔ یہ اشتراک اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ایسے تحقیقی فریم ورک تشکیل دیے جائیں جو مقامی تناظر میں جڑے ہوں، فکری طور پر خودمختار ہوں، اور قومی پالیسی مباحث سے براہِ راست متعلق ہوں۔
تقریب میں چیئرمین IPS خالد رحمان، نائب چیئرمین IPS سفیر (ر) سید ابرار حسین، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز IIUI پروفیسر ڈاکٹر منظور آفریدی، مختلف شعبہ جات کے فیکلٹی ممبران، اور IPS کی ٹیم نے شرکت کی۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے خالد رحمان نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی تحقیق کی اشد ضرورت ہے جو پاکستان کی اپنی فکری روایات، تاریخی تجربات، اور سماجی چیلنجز سے جڑی ہو۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بیرونی ذرائع سے پیدا ہونے والے علم پر حد سے زیادہ انحصار اکثر تجزیاتی گہرائی اور پالیسی کی افادیت کو محدود کر دیتا ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے IPS کی جانب سے علم اور پالیسی کے مابین ربط مضبوط بنانے کے لیے جاری Knowledge Preservation, Protection, Promotion, and Production Project (K4P) پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد مقامی اور شواہد پر مبنی علمی تحقیق کو پالیسی مباحث میں محفوظ اور ادارہ جاتی سطح پر شامل کرنا ہے۔
اس موقع پر IPS کی ٹیم نے پروفیسر خورشید احمد نالج بوٹ “خورشید آنسرز” کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا، جو K4P منصوبے کا پہلا نمایاں نتیجہ ہے۔ یہ ایک جدید ڈیجیٹل ٹول ہے جسے مقامی علمی ورثے اور پالیسی سے متعلق تحقیق تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ مظاہرے میں یہ دکھایا گیا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممتاز اہلِ علم کی تحقیق کو محفوظ، منظم، تلاش کے قابل اور سیاق و سباق کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ محققین، طلبہ اور پالیسی سازوں کے لیے اسے زیادہ قابلِ رسائی بنایا جا سکے۔ اس اقدام کو علم کی جمہوری رسائی اور پاکستان کے فکری ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔
اسی وسیع تر وژن کے تحت، MoU IPS اور IIUI کے درمیان باہمی تعلیمی اور تحقیقی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس معاہدے پر سفیر (ر) سید ابرار حسین اور ڈاکٹر منظور آفریدی نے دستخط کیے۔ اس میں مشترکہ تحقیقی منصوبے، تعلیمی تبادلے، تربیتی اور صلاحیت سازی کے اقدامات، سیمینارز، کانفرنسز، اشاعتی سرگرمیاں، اور عوامی رابطہ کاری شامل ہیں، جو باہمی طور پر طے شدہ شرائط کے تحت انجام دی جائیں گی۔
یہ شراکت داری جامعات اور پالیسی تحقیقی اداروں کے درمیان مسلسل علمی تبادلے کو فروغ دینے، بین الشعبہ جاتی تحقیق کو تقویت دینے، اور اساتذہ، محققین اور طلبہ کے لیے مشترکہ علمی اور پالیسی پر مبنی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ مقامی تحقیق اور جدت پر مشترکہ توجہ کے ذریعے، IPS اور IIUI تحقیقی معیار کو بہتر بنانے، فکری مکالمے کو گہرا کرنے، اور شواہد پر مبنی تحقیق کے فروغ کے ساتھ ساتھ مستقبل کے اہلِ علم اور عملی ماہرین کی تربیت میں بامعنی کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔

