قومی مقصد، عوامی اعتماد اور اسٹریٹجک وضاحت مضبوط پاکستان کے لیے ناگزیر: ماہرین
پاکستان کو درپیش عصری چیلنجز اور مستقبل کے مواقع اس امر کے متقاضی ہیں کہ قومی شناخت، طرزِ حکمرانی، ادارہ جاتی ترقی، عوامی اعتماد اور اسٹریٹجک وژن پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ملک کو ایک زیادہ مربوط، مضبوط اور مستقبل شناس سمت دی جا سکے۔ اس تناظر میں فکری گہرائی، تعمیری مکالمہ، شہری ذمہ داری اور ادارہ جاتی اعتماد کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار ممتاز ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور عملی میدان سے وابستہ شخصیات نے ”پاکستان اِن پرسپیکٹو: ریاست، معاشرہ اور حکمتِ عملی“ کے عنوان سے منعقدہ سلسلہ محاضرات کے افتتاحی سیشن کے دوران کیا۔ عوامی پالیسی، قومی شناخت اور تزویراتی فکر پر مشتمل یہ 12 حصوں کا سلسلہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے اشتراک سے١٣ مئی کو منعقد کیا۔
تقریب میں) مہمانِ خصوصی(سابق سربراہ پاک فضائیہ ایئر مارشل (ر) سہیل امان، گیلپ پاکستان کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی، آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے کلیہ علومِ اجتماعیہ کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر منظور خان آفریدی، اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غلام مجدد نے خطاب کیا۔
سلسلہ محاضرات کے مقاصد بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر منظور آفریدی نے کہا کہ اس کا مقصد پاکستان کی ریاست، معاشرے، سیاست، معیشت، عوامی پالیسی، قومی شناخت اور تزویراتی فکر سے متعلق علمی مباحث کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے تاکہ اساتذہ اور طلبہ کے درمیان بامعنی فکری مکالمے کو فروغ دیا جا سکے۔
اپنے خطاب میں ایئر مارشل (ر) سہیل امان نے کہا کہ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب شہری اپنے ملک اور اداروں پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے اقتصادی ترقی، تکنیکی پیش رفت اور انسانی ترقی پر مبنی واضح قومی مقصد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال پاکستان سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت اور ادارہ جاتی اصلاحات میں سرمایہ کاری کرے۔ انہوں نے گلوبل ساؤتھ، مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم عالمی رجحانات پر بھی روشنی ڈالی۔
قومیت، ریاست، جمہوریت اور تہذیب کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نے کہا کہ جدید سیاسی تصورات نوآبادیاتی جدیدیت کے پس منظر میں تشکیل پائے اور تاریخی اسلامی سیاسی روایات سے مختلف ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جامعات کو فکری غوروفکر، فلسفیانہ جستجو اور تنقیدی مکالمے کے مراکز کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھنا چاہیے۔
ڈاکٹر غلام مجدد نے ریاستی اداروں اور معاشرے کے باہمی تعلق پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ عوامی اعتماد، جمہوری جواز اور شہری شمولیت مؤثر طرزِ حکمرانی کے بنیادی عناصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تقسیم، اداروں پر عدم اعتماد، بدعنوانی کے تاثر اور غیر مؤثر خدمات عوام اور ریاست کے تعلقات کو کمزور کر رہے ہیں۔
اختتامی کلمات میں خالد رحمان نے قومی اور عالمی مسائل کے تجزیے میں فکری گہرائی، تاریخی شعور اور تنقیدی فکر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ سطحی معلومات کے بجائے افکار و نظریات کا گہرائی سے مطالعہ کریں اور متوازن و باخبر رائے قائم کریں۔
