قلیل مدتی استحکام سے آگے بڑھ کر ترقی پر مبنی بجٹ ناگزیر: ماہرینِ معاشیات

قلیل مدتی استحکام سے آگے بڑھ کر ترقی پر مبنی بجٹ ناگزیر: ماہرینِ معاشیات

پاکستان کے آئندہ وفاقی بجٹ کو قلیل مدتی معاشی استحکام تک محدود رکھنے کے بجائے اقتصادی ترقی، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ، غذائی تحفظ اور عدم مساوات میں کمی جیسے بنیادی قومی اہداف پر توجہ دینی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق سیاسی عزم، مستند اعدادوشمار، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور ساختی اصلاحات کے بغیر ملک کو جمودِ زر، بڑھتی ہوئی غربت اور ادائیگیوں کے توازن کے دباؤ جیسے مسائل کا سامنا بدستور رہ سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار اقتصادی اور مالیاتی ماہرین نے وفاقی بجٹ ۲۰۲۶۔۲۷ اور پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کے حوالے سے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد کے زیر اہتمام ۱۹ مئی کو منعقدہ مذاکرے میں کیا۔

اجلاس کی صدارت سابق چیف اکنامسٹ ڈاکٹر احمد زبیر نے کی، جبکہ مقررین میں سابق جوائنٹ چیف اکنامسٹ ڈاکٹر ظفر الحسن الماس، وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر شاہد نعیم، پائیڈ کے ڈین ریسرچ پروفیسر ڈاکٹر شجاعت فاروق، اقتصادی صحافی مہتاب حیدر، اور ماہرِ معاشیات قانت خلیل اللہ شامل تھے۔ اس موقع پر آئی پی ایس کے وائس چیئرمین سابق سفیر سید ابرار حسین، ماہرینِ تعلیم اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔

معیشت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر الحسن الماس نے خبردار کیا کہ اشیائے صرف کی درآمدات میں اضافہ اور غذائی تحفظ سے متعلق خدشات مستقبل قریب میں مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح ۱۵ فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جس سے پالیسی ریٹ اور قرضوں کی ادائیگیوں پر مزید دباؤ بڑھے گا۔ انہوں نے اعدادوشمار کی دستیابی اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔

ڈاکٹر شاہد نعیم نے کہا کہ شرحِ نمو میں بہتری کے باوجود غربت اور عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بڑی وجہ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ اور اشرافیہ کا غلبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کے مختلف پروگرام بغیر مؤثر رابطے کے الگ الگ انداز میں کام کر رہے ہیں، جبکہ احتساب اور سیاسی دباؤ کے فقدان نے حکومتی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔

ڈاکٹر شجاعت فاروق نے کہا کہ سالانہ بجٹ کو پانچ سالہ ترقیاتی منصوبوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، تاہم اس پہلو کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان کمزور رابطے اور ریونیو اہداف پر غیر معمولی توجہ نے اقتصادی ترقی کے وسیع تر مقصد کو پس پشت ڈال دیا ہے۔

مہتاب حیدر نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ اب بھی سب سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے، جبکہ خوشحال طبقات مؤثر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ انہوں نے غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل دینے، سرمایہ کاری کے فروغ اور بامعنی اصلاحات کے لیے سیاسی عزم کو ناگزیر قرار دیا۔

اختتامی کلمات میں ڈاکٹر احمد زبیر نے کہا کہ پاکستان کو فی کس آمدنی میں اضافے اور معاشی خودمختاری کے لیے ترقیاتی تصورات اور جدید معاشی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، جبکہ ناقص طرزِ حکمرانی اب بھی بنیادی چیلنج ہے۔

Share this post