قرض، افراطِ زر اور غربت کے اسباب پر نئی کتاب نے مالیاتی نظام سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے
پاکستان میں بڑھتے ہوئے قرضوں، مسلسل افراطِ زر اور معاشی عدم مساوات کے تناظر میں ماہرین نے مالیاتی نظام کے بنیادی ڈھانچے پر ازسرِ نو غور کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ رقم کی تخلیق، قرض اور بینکاری کے موجودہ طریقۂ کار پر سنجیدہ علمی اور پالیسی سطح کے مباحثے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی مسائل کے پائیدار حل کے لیے مروجہ مفروضات کو چیلنج کرنے اور متبادل تصورات پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار 5 جون کو منعقدہ ایک تقریبِ رونمائی میں کیا گیا، جس میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اور پرائز (Policy Research Initiative for Zakat-Based, Interest-Free Economy) کے اشتراک سے شائع ہونے والی کتاب "Breaking the Trap of Debt, Inflation, Interest and Poverty” متعارف کرائی گئی۔ کتاب کے مصنفین قانط خلیل اللہ اور صہیب عمر ہیں، جو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ہونے کے ساتھ پاکستان کے مالیاتی شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
تقریب میں ماہرینِ معاشیات، پالیسی سازوں، بینکاروں، اساتذہ اور شریعہ اسکالرز سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ شرکا میں آئی پی ایس کے نائب چیئرمین سفیر (ر) سید ابرار حسین، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق نائب صدر اور عسکری بینک کے رکنِ شریعہ بورڈ پروفیسر ڈاکٹر طاہر منصوری، NIBAF-SBP کے سابق سربراہ احمد وسیم، اور اسلامک ڈیولپمنٹ بینک کے سابق لیڈ ریسرچر ڈاکٹر سلمان سید علی سمیت دیگر شامل تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصنفین نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ قرض پر مبنی مالیاتی نظام میں تجارتی بینک قرضوں کے اجرا کے ذریعے نئی رقم تخلیق کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں افراطِ زر، سرکاری و نجی قرضوں میں اضافہ، دولت کا ارتکاز اور مالیاتی عدم استحکام جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ ان کے مطابق نجی قرض دہی کے ذریعے رقم کی تخلیق اگرچہ موجودہ نظام کا ایک معمول کا حصہ ہے، تاہم اس کے معاشرتی اور معاشی اثرات دور رس ہیں، جن میں اثاثوں کی قیمتوں میں اضافہ، عدم مساوات کا فروغ اور خطرات کا عوام پر منتقل ہونا شامل ہے۔
مصنفین نے ان مسائل کے حل کے طور پر فل ریزرو بینکاری (Full-Reserve Banking) کے تصور کو پیش کیا۔ ان کے مطابق اس ماڈل میں رقم کی تخلیق ریاستی اختیار بن جاتی ہے جبکہ بینکاری کے نظام کو محفوظ امانتی خدمات اور خطرات پر مبنی سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام سے حکومتی قرضوں کے بوجھ میں کمی، ساختی افراطِ زر پر قابو، مالیاتی استحکام میں بہتری اور اسلامی مالیات کے اصولوں سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تقریب میں شرکا نے کتاب میں پیش کیے گئے دلائل اور تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ فل ریزرو بینکاری کا تصور اگرچہ مرکزی دھارے کی معاشی فکر میں ایک متنازع موضوع سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ کتاب ایک بنیادی اور اہم سوال اٹھاتی ہے کہ رقم کی تخلیق کے عمل سے اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے اور اس کی سماجی قیمت کون ادا کرتا ہے۔
شرکا نے کتاب کو معاشی مباحثے میں ایک منفرد اور قابلِ غور اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں پیش کیے گئے نکات پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، ماہرینِ معاشیات اور مالیاتی اداروں کے درمیان مزید سنجیدہ مکالمے کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کے تناظر میں ایسے نظریات اور تجاویز پر علمی سطح پر بحث کو فروغ دینا ضروری ہے جو روایتی معاشی تصورات سے ہٹ کر متبادل امکانات پیش کرتے ہوں۔
تقریب کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے معاشی مستقبل کے حوالے سے بامعنی پیش رفت کے لیے کھلے علمی مباحثے، پالیسی سطح پر مکالمے اور مروجہ معاشی مفروضات کے تنقیدی جائزے کی ضرورت ہے تاکہ قرض، افراطِ زر، غربت اور عدم مساوات جیسے دیرینہ مسائل کے مؤثر حل تلاش کیے جا سکیں۔
