بجلی کی تقسیم کے شعبے میں مؤثر اصلاحات کے لیے بہتر طرزِ حکمرانی اور صارف دوست پالیسی ناگزیر: آئی پی ایس مذاکرہ

بجلی کی تقسیم کے شعبے میں مؤثر اصلاحات کے لیے بہتر طرزِ حکمرانی اور صارف دوست پالیسی ناگزیر: آئی پی ایس مذاکرہ

پاکستان کے بجلی کی تقسیم کے شعبے کو درپیش مالی، انتظامی اور تکنیکی چیلنجز اس امر کے متقاضی ہیں کہ اصلاحات کا عمل محض نجکاری تک محدود نہ رہے بلکہ مؤثر طرزِ حکمرانی، مضبوط ضابطہ جاتی نظام اور صارف دوست پالیسیوں کو اس کا بنیادی محور بنایا جائے۔ ماہرین کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی کارکردگی میں پائیدار بہتری اسی صورت ممکن ہے جب ادارہ جاتی استعداد، احتساب اور مؤثر ریگولیٹری نظام کے ذریعے صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد کے زیر اہتمام ’’پاکستان کے بجلی کی تقسیم کے شعبے کا ازسرِنو تصور: نجکاری، سولرائزیشن اور گردشی قرضہ‘‘ کے عنوان سے  9 جولائی کو منعقدہ گول میز اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کے کلیدی مقررین میں سینئر محقق آفیہ ملک، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے چیف انجینئر (آپریشنز اینڈ مینٹیننس) محمد عاصم اعجاز، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ڈائریکٹر جنرل (لائسنسنگ) امتیاز حسین بلوچ، اور چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمان شامل تھے۔ مباحثے میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی انرجی ایڈوائزری کمیٹی کے کنوینر ریحان جاوید، لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نوید ارشد، یو ایس پاکستان سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز اِن انرجی (USPCAS-E)، نسٹ کے شعبہ جاتی سربراہ ڈاکٹر سید علی عباس کاظمی، سینئر ماہرِ اقتصادیات شاہد محمود، توانائی کے ماہر محمد یاسر حسین، اور آئی پی ایس کے ایسوسی ایٹ عمار یاسر نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

آفیہ ملک نے کہا کہ ڈسکوز کی بہتر کارکردگی کے لیے نجکاری نہ تو واحد حل ہے اور نہ ہی ناگزیر شرط۔ ان کے مطابق مؤثر طرزِ حکمرانی، پیشہ ورانہ انتظام، آزاد بورڈز، ضابطہ جاتی استحکام اور عملی خودمختاری وہ بنیادی عوامل ہیں جو ملکیت کی نوعیت سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

محمد عاصم اعجاز نے آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کی نجکاری کے حکومتی عمل کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اظہارِ دلچسپی طلب کرنے سے قبل بین الاقوامی مشیروں نے فزیبلٹی مطالعات اور آپریشنل جائزے مکمل کیے۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کے نتائج کا انحصار اس کے مؤثر نفاذ پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف اس تصور پر۔

امتیاز حسین بلوچ نے ڈسکوز کی نجکاری کو درست سمت میں پیش رفت قرار دیتے ہوئے کے-الیکٹرک کی مثال دی، جس نے لائن لاسز میں کمی، ضابطہ جاتی تقاضوں کی بہتر پاسداری اور خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔

بجلی کی تقسیم کے شعبے سے متعلق خالد رحمان نے کہا کہ اس میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔  طرزِ حکمرانی کا کوئی ایک ماڈل ہر صورت میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کی جاری نجکاری کا حتمی معیار صارفین کی فلاح و بہبود، مؤثر ضابطہ کاری اور خدمات کی بہتر فراہمی ہونا چاہیے۔

ریحان جاوید نے بجلی چوری کے خلاف سخت قانونی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر سید علی عباس کاظمی نے بہتر کارکردگی دکھانے والی ڈسکوز کی نجکاری پر سوال اٹھاتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے بجلی کے نرخوں اور مزدور یونینوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر نوید ارشد نے چھتوں پر نصب شمسی توانائی کے نظام کے تیزی سے فروغ کے باعث قومی گرڈ پر انحصار میں کمی کو ڈسکوز کے لیے ایک اہم مالی چیلنج قرار دیا۔ شاہد محمود، محمد یاسر حسین اور عمار یاسر نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات کا اصل مقصد بہتر طرزِ حکمرانی، مؤثر ضابطہ جاتی ماحول، قابل سرمایہ کاری نظام اور صارفین کو معیاری خدمات کی فراہمی ہونا چاہیے، جبکہ نجکاری کو انہی مقاصد کے حصول کا ذریعہ سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ خود ایک مقصد۔ شرکاء کا اتفاق تھا کہ شعبے کے بنیادی مسائل کا تعلق طرزِ حکمرانی اور انتظامی کمزوریوں سے ہے۔

Share this post