بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجز، مسلم ممالک کے درمیان تزویراتی روابط مضبوط بنانے کی ضرورت: آئی پی ایس-آئی اے آئی ایس
تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور بین الاقوامی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیاں مسلم ممالک کے درمیان مضبوط تزویراتی روابط، باہمی تعاون اور ادارہ جاتی اشتراک کی ضرورت کو اجاگر کر رہی ہیں۔ بالخصوص ایشیا پیسیفک خطہ، جہاں دنیا کی بڑی مسلم آبادیوں میں سے ایک بڑی تعداد آباد ہے، عالمی اور علاقائی پیش رفت کے تناظر میں خصوصی تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ مسلم ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے، باہمی روابط اور ادارہ جاتی تعاون میں اضافہ موجودہ چیلنجز سے زیادہ مؤثر اور فعال انداز میں نمٹنے میں معاون ہو سکتا ہے۔
یہ بات ملائیشیا کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسلامک اسٹڈیز (IAIS) کے ایک وفد کے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS)، اسلام آباد کے دورے کے موقع پر سامنے آئی، جہاں دونوں اداروں کے درمیان ۲۳ستمبر کومفاہمت کی ایک یادداشت (MoU) پر بھی دستخط کیے گئے۔ وفد کی قیادت ادارے کے سربراہ ڈاکٹر سید ازمن بن سید احمد نواوی نے کی۔ وفد میں ڈاکٹر احمد بدری بن عبداللہ، نائب سربراہ؛ ڈاکٹر عبداللطیف بن محمد ابراہیم، شعبہ تحقیق و اشاعت کے نگران؛ اور محمد فیض بن مد نواوی، اسٹریٹجک یونٹ میں بین الاقوامی امور کے خصوصی افسر شامل تھے۔
آئی پی ایس کی نمائندگی چیئرمین خالد رحمان، وائس چیئرمین سید ابرار حسین، کشمیر امور کے ماہر عبدالرشید ترابی، ہیڈ آف آپریشنز شفق سرفراز اور ریسرچ فیلو ندیم فرحت نے کی۔
شرکا نے کہا کہ بین الاقوامی نظام میں نمایاں تبدیلیوں کے باعث مسلم دنیا کو پیچیدہ نوعیت کے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں بالخصوص ایشیا میں مسلم ممالک کے درمیان قریبی روابط کی اہمیت بڑھ گئی ہے، جہاں مسلم آبادی کے حجم کے ساتھ ساتھ معاشی استعداد اور تزویراتی اہمیت بھی نمایاں ہے۔ شرکا نے عالمی اور علاقائی پیش رفت کے بارے میں زیادہ مؤثر اور فعال ردعمل کے لیے باہمی رابطوں، معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی روابط کو اہم قرار دیا۔
مذاکرات کے دوران فلسطین، مقبوضہ کشمیر، افغانستان، سوڈان اور دیگر تنازعات سے متاثرہ خطوں کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ شرکا نے ان بحرانوں کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے سیاسی، سماجی اور جغرافیائی و سیاسی عوامل کو بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دیرینہ تنازعات کو محض قلیل مدتی بحرانوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے ان پر مسلسل توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔
دونوں اداروں کے جغرافیائی و سیاسی امور کے ماہرین نے دنیا بھر میں مسلم آبادیوں کو متاثر کرنے والی موجودہ صورتحال پر اپنے تجزیوں اور نقطۂ نظر کا تبادلہ کیا۔ فلسطین میں جاری نسل کشی اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر خصوصی توجہ دی گئی، جبکہ امن کے لیے پاکستان اور ملائیشیا کے سفارتی سطح پر تعمیری کردار کا بھی ذکر کیا گیا۔ آئی پی ایس کے ماہرین نے وفد کو عالمی امن اور علاقائی ہم آہنگی کے لیے پاکستان کے عزم کے باعث اسے درپیش جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے بھی آگاہ کیا۔
موجودہ بین الاقوامی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور عالمی نظم و نسق سے متعلق ابھرتی ہوئی بحث میں مسلم ممالک اور اداروں کے ممکنہ کردار پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ مسلم فکر کو نوآبادیاتی اثرات سے نجات، اسلاموفوبیا، خاندانی و سماجی نظام اور مسلم معاشروں کو درپیش مسائل پر فکری و علمی روابط مضبوط بنانے جیسے موضوعات بھی زیر غور آئے۔
وفد نے مختلف حکومتی اداروں کے ساتھ مؤثر روابط کے تجربات اور مسلم معاشروں اور ان کے مشترکہ مسائل سے متعلق حقائق پر مبنی آگاہی اور پالیسی سازوں کے ساتھ مؤثر تزویراتی رابطہ کاری کے حوالے سے حاصل ہونے والے تجربات بھی شیئر کیے۔ شرکا نے زمینی حقائق کو سمجھنے اور پالیسی سازوں، حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ براہ راست روابط برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو اس عمل کے ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔
اس تناظر میں آئی پی ایس اور آئی اے آئی ایس کے درمیان مفاہمت کی یادداشت عالمی مسلم امور، بین الاقوامی تعلقات، نظم و نسق اور باہمی مفاہمت کے شعبوں میں پالیسی پر مبنی تحقیق، مکالمے اور تعاون کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ دونوں اداروں نے مشترکہ سیمینارز اور کانفرنسوں، تحقیقی و پالیسی بریفز کے تبادلے، ایک دوسرے کے پروگراموں میں اسکالرز کی شرکت اور مشترکہ تحقیق و اشاعت سمیت عملی تعاون کے متعدد شعبوں کی نشاندہی کی۔
وفد نے شاعر و مفکر علامہ محمد اقبال کی تصانیف کے ملائی زبان میں تراجم پر مشتمل اپنی چند مطبوعات بھی پیش کیں۔ اس موقع پر آئی پی ایس کے بانی اور معروف دانشور پروفیسر خورشید احمد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی بعض کتب کا ملائی زبان میں ترجمہ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے اختتام پر خالد رحمان نے اس امر پر زور دیا کہ اداروں کے درمیان مسلسل فکری و علمی تبادلہ، تحقیق کا اشتراک اور براہ راست روابط عصر حاضر کے چیلنجز کی بہتر تفہیم اور زیادہ مؤثر پالیسی ردعمل تشکیل دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
