بین المذاہب ہم آہنگی، نوجوانوں کی شمولیت اور مقامی علمی اقدامات پر تبادلۂ خیال-BRSP کے وفد کا IPS کا دورہ
بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP) کے ایک وفد نے 19 دسمبر 2025 کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS)، اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں بین المذاہب ہم آہنگی، نوجوانوں کی شمولیت، اور مقامی علم کے فروغ کے ذریعے جامع اور ہم آہنگ سماجی بیانیے کی تشکیل پر ایک تعاملی علمی نشست منعقد کی گئی۔
نشست کا آغاز وفد کے ارکان کے تعارف سے ہوا، جس کے بعد غلام محمد محمدی، منیجر BRSP،نے ادارے کے مختلف منصوبوں پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے مدارس کے ساتھ اشتراک کے تحت جاری تعلیمی اور سماجی اقدامات پر روشنی ڈالی، جن کا مقصد بین المذاہب تفہیم اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ ان اقدامات کے تحت اس وقت 20 دیہات میں قائم 150 مدارس کو شامل کیا جا رہا ہے، جہاں طلبہ کو ہم نصابی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں منظم مطالعاتی دوروں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ ان سرگرمیوں میں مختلف مذہبی اور شہری اداروں کے دورے شامل ہیں، جن میں لاہور مندر اور قومی اسمبلی پاکستان کے دورے نمایاں ہیں، تاکہ طلبہ کے فکری افق کو وسیع کیا جا سکے اور باہمی احترام کو فروغ دیا جا سکے۔
بعد ازاں IPS کی ٹیم نے ادارے کے اغراض و مقاصد اور تحقیقی ایجنڈے کا تعارف پیش کیا، جس میں بالخصوص فیتھ اینڈ سوسائٹی (Faith and Society) پروگرام پر توجہ دی گئی۔ اس کے بعد خالد رحمٰن، چیئرمین IPS کے ساتھ سوال و جواب کی ایک تعاملی نشست منعقد ہوئی، جس کے دوران شرکاء نے ایمان، معاشرہ، نوجوانوں اور عصری قومی چیلنجز سے متعلق مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔
گفتگو کے دوران وفد کے ارکان نے IPS کے مصنوعی ذہانت پر مبنی علمی پلیٹ فارم “خورشید آنسرز” سے متعلق سوالات اٹھائے، جو مرحوم پروفیسر خورشید احمد کی علمی خدمات اور تحقیقی ورثے پر مبنی ہے، اور اس کے دائرۂ کار اور مستقبل میں توسیع کے امکانات کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ اس پر خالد رحمان اور IPS کی ٹیم کے ارکان نے پلیٹ فارم کے تصوراتی وژن پر روشنی ڈالی اور بین المذاہب ہم آہنگی سے متعلق پروفیسر خورشید احمد کے خیالات پر مبنی ایک سوال کے ذریعے اس نظام کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا۔
خالد رحمٰن نے حالیہ سڈنی بیچ واقعے پر بھی گفتگو کا آغاز کیا اور شرکاء کو اپنی آراء پیش کرنے کی دعوت دی۔ متعدد شرکاء نے اس واقعے کی مذمت کی اور اسے وسیع تر سماجی اور بین المذاہب تناظر میں رکھتے ہوئے تجزیاتی آراء پیش کیں۔
اپنی گفتگومیں خالد رحمٰن نے سڈنی واقعے کو بین المذاہب ہم آہنگی کو درپیش وسیع تر چیلنجز، الحاد کے بڑھتے ہوئے مباحث، اور عصری سماجی تحریکوں جیسے #MeToo کے تناظر میں بیان کیا، بالخصوص معلومات کے غلط استعمال اور تحریف کے خطرات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے ایسے پیچیدہ سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے متوازن تجزیے، اخلاقی ذمہ داری، اور باخبر عوامی مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔
نشست کے دوران IPS کے یوتھ ایمپاورمنٹ پروگرام پر بھی گفتگو ہوئی، جس میں نوجوانوں کو تحقیق، مکالمے، اور صلاحیت سازی کے فریم ورکس کے ذریعے فعال طور پر شامل کرنے کی ادارہ جاتی کوششوں کو اجاگر کیا گیا۔ مزید برآں، شرکاء نے بلوچستان کے سماجی و معاشی حالات، مقامی آبادیوں اور مدارس کو درپیش چیلنجز سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔ جہاں بعض خدشات جذباتی انداز میں پیش کیے گئے، وہیں بعض شرکاء نے پاکستان کے مستقبل کے امکانات پر تجزیاتی رائے بھی طلب کی۔
ان سوالات کے جواب میں خالد رحمٰن نے پاکستان کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر ایک جامع اور فکری تجزیہ پیش کیا، جس میں قومی اور علاقائی پہلوؤں کے ساتھ خاص طور پر بلوچستان کے حالات کا حوالہ دیا گیا۔ ان کی گفتگو کو شرکاء نے فکری گہرائی اور تجزیاتی وضاحت کے باعث سراہا۔
نشست کا اختتام غلام محمد محمدی کے اختتامی کلمات اور شکریے کے نوٹ پر ہوا، جس میں انہوں نے IPS کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے بامعنی اور فکری طور پر ثمر آور مکالمے کا موقع فراہم کیا
