آئی پی ایس کے کشمیر ورکنگ گروپ میں بھارتی کشمیر پالیسی اور بیانیے کا مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملیوں پر تبادلۂ خیال
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد کے کشمیر ورکنگ گروپ کا اجلاس ۱۵ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو منعقد ہوا، جس کا عنوان ’’بھارتی کشمیر پالیسی اور بیانیے کا مقابلہ‘‘ تھا۔ اجلاس میں بھارتی انتظام کے تحت جموں و کشمیر میں ہونے والی ابھرتی ہوئی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور تنازع کے گرد تشکیل پانے والے بدلتے ہوئے بیانیے کے مؤثر جواب کے لیے حکمتِ عملی وضع کرنے پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں خالد رحمان، چیئرمین، آئی پی ایس، اسلام آباد؛ سفیر (ر) اشتیاق اندرابی؛ ڈاکٹر عاصمہ شاکر خواجہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، سی آئی ایس ایس، آزاد جموں و کشمیر؛ الطاف حسین وانی، چیئرمین، کے آئی آئی آر؛ ڈاکٹر ولید رسول، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، آئی ڈی ڈی ایس؛ فرزانہ یعقوب، رکنِ قانون ساز اسمبلی، حکومتِ آزاد جموں و کشمیر؛ ڈاکٹر عمیر پرویز، لیکچرر، این ڈی یو؛ رفیق ڈار، نمائندہ، جے کے ایل ایف؛ سلیم گردیزی؛ اور عبیدالرحمٰن نے شرکت کی۔
اجلاس میں کشمیر کے حوالے سے بھارت کے طرزِ عمل، بالخصوص اس کے ثقافتی، تاریخی، سیاسی اور ذرائع ابلاغ سے متعلق پہلوؤں کا جائزہ لینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ شرکاء نے تحقیق کو مضبوط بنانے، زمینی صورتِ حال میں ہونے والی پیش رفت کو دستاویزی شکل دینے اور شواہد پر مبنی بیانیے تشکیل دینے کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا تاکہ کشمیری نقطۂ نظر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پیش کیا جا سکے۔
گفتگو میں کشمیر کے بارے میں تصورات کی تشکیل میں ذرائع ابلاغ، علمی تحقیق، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ثقافتی اقدامات کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔ شرکاء نے تنازع سے متعلق آگاہی کو وسیع کرنے اور کشمیری نقطۂ نظر کی نمائندگی کو مضبوط بنانے کے لیے کشمیری نوجوانوں، محققین، بیرونِ ملک مقیم کشمیری برادریوں اور بین الاقوامی علمی نیٹ ورکس کے ساتھ زیادہ مؤثر روابط کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں قلیل، وسط اور طویل مدتی مربوط حکمتِ عملیوں کی تیاری، کشمیری تاریخ اور ثقافتی شناخت کا فروغ، اور تحقیقی نتائج کو قابلِ عمل پالیسی سفارشات میں تبدیل کرنا شامل ہے۔
