اسرائیل کی جارحیت کا مقصد ایران کو کمزور کرنا اور عالمی غزہ کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانا ہے،مقررین

اسرائیل کی جارحیت کا مقصد ایران کو کمزور کرنا اور عالمی غزہ کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانا ہے،مقررین

ایران اسرائیل تنازعے کے تناظر میں پاکستان کو اپنے تاریخی تعلقات اور خطے میں بدلتی ہوئی صف بندی کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط اور سفارتی حکمت عملی اپنانا ہوگی ،ایران پر اسرائیلی جارحیت اچانک نہیں بلکہ یہ گہری اور دیرینہ اسٹرٹیجک منصوبہ بندی اور جغرافیائی سیاسی حرکیات کی عکاس ہے۔ امریکی پشت پناہی سے اسرائیل ایران کی علاقائی صلاحیتوں اوراہمیت کو ختم کرنا چاہتا ہے، ایران اپنی اسٹرٹیجک خود مختاری اور نظریاتی موقف کا اظہار کر رہا ہے۔  ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ نہ صرف خطے کو مزید عدم استحکام کی جانب دھکیلے گا بلکہ اس سے غزہ میں جاری انسانی بحران سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ پاکستان کو اپنے تاریخی تعلقات اور خطے میں بدلتی ہوئی صف بندی کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط اور سفارتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ان خیالات کا اظہارانسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں "ایران پر اسرائیلی جارحیت اور مشرق وسطیٰ کی حرکیات” کے عنوان سے ۱۶  جون ۲۰۲۵  کو منعقدہ مباحثے میں مقررین نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مباحثے میں آئی پی ایس کے چئیرمین خالد رحمن، آئی پی ایس کے وائس چئیرمین سابق سفیر ابرار حسین، سابق سفیر نصراللہ خان، سابق سفیر رفعت مسعود، سابق سفیر نائلہ چوہان اور بریگیڈیئر (ر) طغرل یامین نے اظہار خیال کیا۔

مباحثے میں ایران اور اسرائیل کے تعلقات کے تاریخی پہلوٗوں پر روشنی ڈالی گئی۔ سابق سفیر نائلہ چوہان نے کہا کہ شاہ ایران کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات خاصے تعاون پر مبنی تھے، جب ایران کا جوہری پروگرام امریکہ کی تائید میں شروع کیا گیا تھا۔ تاہم، ۱۹۷۹ کے انقلاب اور ایران میں نظریاتی رجحان کی تبدیلی کے بعد، فلسطینی مسئلے پر دو ریاستی حل کی مخالفت اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ ایجنڈے کے خلاف سخت موقف نے ایران کو اسرائیل کی اسٹرٹیجک سوچ میں ایک اہم مخالف کی حیثیت دے دی۔ 

مقررین نے کہا کہ جیسا کہ ابراہم معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے، اسرائیل کا مقصد تمام مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کی حمایت حاصل کرنا اور خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا ہے۔ ایران اس ایجنڈے کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اپنی اعلیٰ شرح خواندگی، ترقی پذیر سائنسی صلاحیتوں اور قدرتی وسائل کی فراوانی کے ساتھ ایران خطے میں ایک طاقتور بنیاد کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

سابق سفیر رفعت مسعود نے کہا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد ایران میں حکومتی تبدیلی اور اس کے جوہری ترقی کو روک کر اس کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کوششیں اس کے باوجود جاری ہیں کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے (این پی ٹی) کا  دستخط کنندہ ہے اور اس کے پاس ہتھیاروں کے لیے جوہری پروگرام نہیں ہے۔

سابق سفیر نصراللہ خان نے کہا کہ ایران کے ساتھ این پی ٹی میں امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، جو مغرب کے گہرے عدم اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں اسرائیل کے مقاصد امریکہ سے ملتے ہیں، اگرچہ دونوں ممالک کی حکمت عملی مختلف ہے۔ اس کے باوجود، امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے رویے کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار نظر آتا ہے، جبکہ اسرائیل کو مزاحمت اور اسٹراٹیجک ناکامیوں کا سامنا ہے، کیونکہ دونوں نے ایران کے ردعمل کی شدت کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ 

خالد رحمن نے کہا کہ ایران پر حملہ اور اس کے بعد کی شدت صرف خطے میں تناؤ کا باعث نہیں ہے بلکہ یہ غزہ میں جاری انسانی بحران سے توجہ ہٹانے کا ایک جان بوجھ کر کیا گیا اقدام بھی ہے۔ عالمی میڈیا کی توجہ اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کی تکالیف سے ہٹانے کے لیے اسے ہیڈ لائنز پر چلایا جا رہا ہے۔ 

مقررین نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہنے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ اسرائیل کو ایران کے رد عمل سے ایک غیر متوقع دھچکا لگا ہے۔ حالانکہ اسرائیل "عظیم اسرائیل” جیسے صیہونی عزائم کی پیروی کر رہا ہے، اسرائیل کے برعکس ایران اپنی شناخت، یکجہتی اور خطے میں اپنی اہمیت کی وجہ سے مضبوط ہے، ایران کے پاس دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور عزم موجود ہے۔ 

پاکستان کے ردعمل کے حوالے سے بریگیڈیئر (ر) طغرل یامین نے کہا کہ اس تنازعے میں پاکستانی قیادت نے محتاط رویہ اپنایا ہے۔ ۱۹۶۵ کی جنگ کے دوران ایران کی حمایت اور بھارت کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے، کسی بھی علاقائی تصادم میں پاکستان کو سفارتی حساسیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ 

سابق سفیر ابرار حسین نے اس خیال کو تقویت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے موقف میں واضح ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف ایران کی حمایت کرتا ہے، کیونکہ یہ ایک اسٹراٹیجک ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے دوراندیشی کے ساتھ حکمت عملی سے کام لینے پر زور دیا۔

Share this post