میڈیا، نفرت اور طبقاتی تقسیم: منفی اثرات سے تعمیری حل تک
یہ مضمون ذرائع ابلاغ کے معاشرتی اثرات اور "فہم و شعور کی آبیاری کے نظریے” کی روشنی میں یہ جائزہ لیتا ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل اور روایتی ابلاغ سنسنی خیزی، برقی حساب کتاب کے تعصبات اور منفی تصویر کشی کے ذریعے معاشرے میں نفرت اور طبقاتی خلیج کو ہوا دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، مضمون میں بین الاقوامی تحقیقات کی بنیاد پر تحلیلی صحافت، ابلاغی اداروں میں تنوع، برقی نظام کی اصلاح، ابلاغی خواندگی اور تعمیری تفریحی مواد جیسے موثر حل پیش کیے گئے ہیں تاکہ ابلاغ عامہ کو معاشرتی ہم آہنگی اور یکجہتی کے فروغ کا ذریعہ بنایا جا سکے۔
میڈیا، نفرت اور طبقاتی تقسیم: منفی اثرات سے تعمیری حل تک
محمد اویس شاہد[1]
بیسویں صدی کے وسط میں جب ابلاغ عامہ کے ماہرین نے ذرائع مواصلات کے معاشرتی اثرات پر تحقیق کا آغاز کیا، تو ایک دل چسپ نظریہ سامنے آیا جسے "میڈیا کلٹی ویشن تھیوری” (Media Cultivation Theory) کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق میڈیا معاشرے میں سوچ، رویوں اور عالمی منظرنامے کے بارے میں ایک خاص قسم کا فہم پیدا کرتا ہے جو طویل عرصے تک مسلسل دیکھنے اور سننے سے پختہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں، جہاں ڈیجیٹل اور روایتی میڈیا انسانی زندگی کے ہر لمحے پر محیط ہو چکا ہے، وہیں یہ نظریہ اس تلخ حقیقت کی شکل میں سامنے آ رہا ہے، جہاں نفرت، تعصب اور طبقاتی تقسیم کو نادانستہ یا دانستہ طور پر ہوا دی جا رہی ہے۔ البتہ، اگر اسی طاقت کو ایک مثبت ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے، تو میڈیا معاشرتی ہم آہنگی اور طبقاتی خلیج کو پاٹنے کا سب سے موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی سماجی تحقیقات بتاتی ہیں کہ میڈیا کا ذمے دارانہ رویہ کس طرح انسانی ذہنوں کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
معاشرتی تقسیم اور نفرت کو فروغ دینے میں دیجیٹل اور سوشل میڈیا کا منفی کردار اکثر ایجنڈے کی تشکیل اور تصویر کشی کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔ جب میڈیا کسی خاص طبقے، نسل یا مذہب کو مسلسل ایک مخصوص انداز میں پیش کرتا ہے، تو ناظرین کے ذہنوں میں اس گروہ کے بارے میں منفی تصورات جنم لیتے ہیں۔ جب خبروں کے چینلز سنسنی خیزی اور کلک بیٹ کلچر کو ترجیح دیتے ہیں، تو وہ معاشرے کے پسماندہ طبقات کو جرائم یا بے بسی کی علامت بنا کر پیش کرتے ہیں، جس سے امیر اور غریب کے درمیان نفسیاتی خلا گہرا ہو جاتا ہے۔ طبقاتی تقسیم کو کم کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم میڈیا ہاؤسز کے اندر اس فکری تبدیلی کا ہونا ہے جو سنسنی خیزی کے بہ جائے تعمیری صحافت کو اپنا شعار بنائے۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق، نفرت کے خاتمے کے لیے میڈیا کو تحلیلی صحافت (Solutions Journalism) کا اسلوب اپنانا ہوگا۔ اس اسلوب کے تحت صحافی صرف مسائل، فسادات یا طبقاتی تصادم کو رپورٹ نہیں کرتے، بل کہ ان سماجی کوششوں اور کام یابیوں کو بھی سامنے لاتے ہیں جو مختلف طبقات کے درمیان رابطے کا سبب بنتی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے رائٹرز انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف جرنلزم کی ایک تحقیق کے مطابق، جو قارئین سلوشن جرنلزم پر مبنی مواد پڑھتے ہیں، ان میں معاشرتی مسائل کو حل کرنے کا جذبہ پچاس فیصد زیادہ ہوتا ہے بہ نسبت ان لوگوں کے جو صرف منفی اور ہیجان خیز خبریں دیکھتے ہیں۔ جب میڈیا امرا اور غربا کے درمیان خلیج کو مٹانے والی اسٹوریز، مشترکہ فلاحی منصوبے اور باہمی تعاون کی مثالیں جلی سرخیوں کے ساتھ پیش کرتا ہے، تو معاشرے میں امید اور باہمی قبولیت کی فضا قائم ہوتی ہے۔
اطلاقی حل کے طور پر میڈیا ہاؤسز کو اپنے پروڈکشن اور ایڈیٹوریل بورڈز میں تنوع لانا ہوگا۔ جب تک فیصلہ ساز اداروں میں ہر طبقے، صنف اور نسل کی نمائندگی نہیں ہوگی، تب تک خبروں اور تفریحی مواد کا توازن درست نہیں ہو سکتا۔ ہارورڈ بزنس ریویو کی ایک رپورٹ کے مطابق، جن میڈیا اداروں کی ٹیموں میں سماجی اور اقتصادی تنوع پایا جاتا ہے، ان کا مواد 60 فیصد زیادہ متوازن اور حقیقت پسندانہ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے مسائل کو ہمدردی اور برابری کی بنیاد پر پیش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان طبقات سے تعلق رکھنے والے تخلیق کار اور صحافی خود اس عمل کا حصہ ہوں۔ یہ تنوع میڈیا کو یک طرفہ بیانیے سے بچاتا ہے اور معاشرے کے کچلے ہوئے طبقات کی آواز کو مین اسٹریم میڈیا میں جگہ ملتی ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا الگورتھمز اس وقت دنیا بھر میں نفرت اور طبقاتی تقسیم کو بڑھانے والے سب سے بڑے عوامل سمجھے جا رہے ہیں۔ فیس بک، یوٹیوب اور ٹویٹر جیسے پلیٹ فارمز کے الگورتھم اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ وہ صارف کو وہی مواد دکھاتے ہیں جو ان کی موجودہ سوچ اور تعصبات سے میل کھاتا ہو، جسے تکنیکی زبان میں "ایکو چیمبر” کہا جاتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی ٹیک کمپنیوں کو اپنے الگورتھمز میں ایسی تبدیلیاں لانی ہوں گی جو تعصب کو ہوا دینے والے مواد کی رسائی کو محدود کریں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اگر سوشل میڈیا الگورتھم میں صرف دس فیصد تبدیلی کر کے تعمیری اور امن پسند مواد کو ترجیح دی جائے، تو آن لائن نفرت انگیز گفت گو میں چالیس فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
تفریحی میڈیا، خصوصاً فلمیں، ڈرامے اور ویب سیریز، انسانی جذبات اور رویوں کو بدلنے کی بے پناہ طاقت رکھتے ہیں۔ اگر ڈراموں میں مسلسل امیروں کو ظالم اور غریبوں کو جاہل یا مظلوم دکھایا جاتا رہے گا، تو یہ طبقاتی نفرت کو مزید پختہ کرے گا۔ اس کے برعکس، تفریحی مواد میں ایسے کردار تخلیق کیے جانے چاہئیں جو طبقاتی حدود سے بالاتر ہو کر انسانیت، اخوت اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔ ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے کچھ کام یاب بین الاقوامی منصوبوں پر کی گئی تحقیقات بتاتی ہیں کہ جب ناظرین کسی ایسے کردار سے جذباتی طور پر جڑ جاتے ہیں جو ان کے اپنے طبقے سے مختلف ہو، تو ان کے اندر دوسرے طبقے کے لیے ہم دردی کے جذبات میں 32 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ لہذا، لکھاریوں اور پروڈیوسرز کو ایسے اسکرپٹس پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے جو معاشرتی ہم آہنگی کا درس دیں۔
اس مسئلے کا ایک اور اہم حل میڈیا لٹریسی یعنی ابلاغی خواندگی کا فروغ ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک، جیسے فن لینڈ اور کینیڈا، نے اپنے تعلیمی نصاب میں میڈیا لٹریسی کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہاں کے شہری جھوٹی خبروں، پروپیگنڈے اور نفرت انگیز بیانیے کو پہچاننے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔ یونیسکو کی ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق، جن معاشروں میں میڈیا لٹریسی کی شرح بلند ہوتی ہے، وہاں طبقاتی تصادم اور نفرت انگیز جرائم کی شرح میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ میڈیا چینلز خود بھی ایسے مختصر معلوماتی پروگرام اور اشتہارات نشر کر سکتے ہیں جو عوام کو یہ سکھائیں کہ کس طرح آن لائن ملنے والی معلومات کی تصدیق کرنی ہے اور کس طرح نفرت انگیز مواد کا بائیکاٹ کرنا ہے۔
حکومتی سطح پر میڈیا ریگولیٹری اتھارٹیز کو بھی اپنا کردار روایتی سنسرشپ سے ہٹا کر تعمیری ضابطہ اخلاق کی تشکیل کی طرف موڑنا ہوگا۔ نفرت انگیز تقاریر اور طبقاتی بنیادوں پر تضحیک کرنے والے پروگراموں پر سخت جرمانے عائد ہونے چاہئیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان میڈیا ہاؤسز کو ٹیکسوں میں چھوٹ یا سرکاری اشتہارات کے ذریعے نوازا جانا چاہیے جو معاشرتی یک جہتی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت، ذمے دارانہ آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ کسی معاشرے کے امن کو داؤ پر لگا دیا جائے۔ یورپین یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کی طرز پر ایسے قوانین وقت کی ضرورت ہیں جو آن لائن اور آف لائن میڈیا کو اپنے مواد کے معاشرتی اثرات کا جواب دہ بنا سکیں۔
میڈیا کا ایک اور اہم فریضہ عوامی مکالموں کے معیار کو بلند کرنا ہے۔ ٹاک شوز اور لائیو نشریاتی گفت گو میں اکثر ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جاتا ہے جن سے سنسنی پھیلے اور ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ اگر ان مباحثوں کا رخ تعمیری بحث، معاشی نا ہم واریوں کے خاتمے کی تجاویز، اور تعلیمی و صحت کے شعبوں میں اصلاحات کی طرف موڑ دیا جائے، تو عوام کی توجہ نفرت انگیز سیاست سے ہٹ کر حقیقی مسائل پر مرکوز ہو جائے گی۔ ورلڈ اکنامک فورم کی ایک تحقیق کے مطابق، جب میڈیا قومی مسائل پر سائنسی اور تحقیقی بنیادوں پر بحث کا آغاز کرتا ہے، تو معاشرے میں انتہا پسندی کا گراف تیزی سے نیچے آتا ہے۔
نفرت اور طبقاتی تقسیم کا خاتمہ راتوں رات ممکن نہیں، لیکن اگر بین الاقوامی معیار کی اصلاحاتی تحقیقات، الگورتھم کی اصلاح، سلوشن جرنلزم کے نفاذ اور میڈیا لٹریسی جیسے عملی حل کو یک جا کر دیا جائے، تو میڈیا ایک پرامن اور مساوی معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ دنیا بھر کےپالیسی سازوں اور ابلاغی اداروں کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ریٹنگ کی عارضی دوڑ میں شامل رہنا چاہتے ہیں یا ایک پائیدار اور ہم آہنگ انسانی معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
نوٹس
- Perera, A. (2026) Cultivation Theory in Media. Simply Psychology. Available at: https://www.simplypsychology.org/cultivation-theory.html (Accessed: August 21, 2026).
- What is Solutions Journalism? Solutions Journalism Network. https://www.solutionsjournalism.org/who-we-are/solutions-journalism
[1] مصنف ماہ نامہ تعمیر ِافکار،کراچی کے مدیر ہیں۔ یہ تحریر آئی۔پی۔ایس اورآئی۔سی۔آر۔سی کے اشتراک سے ہونے والی دوروزہ قومی میڈیا ورکشاپ بعنوان مسلح تصادم اور ہنگامی حالات میں تصادم کے دوران ہونے والی ایک عملی مشق کے دوران لکھی گئی۔ اس تحریر میں جناب رضوان اللہ باجوڑی اور مفتی کریم اختر اورکزئی کے خیالات بھی شامل ہیں۔
